جو عقل کا غلام ہو – سمیرا امام




آنکھوں کے سامنے منظر تیزی سے بدل رہے تھے ۔ ابھی ایک منظر پہ آنکھ ٹک نہ پاتی کہ فوراً ہی دوسرا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ۔
تیز رفتار ریل گاڑی کسی بھی منظر پہ فوکس نہیں کرنے دیتی تھی ۔ اس تیز رفتاری اور سفر کے امتزاج سے ادراک ہوا کہ رہ نورد شوق ہونا کیا ہے اور منزل کو قبول کر لینے میں کیا دشواری ہے ۔
مجھے اچانک سے زندگی کے حقائق کا ادراک حاصل ہوگیا تھا ۔ زندگی بس ایک سفر کا نام ہے مسلسل اور مستقل ۔ جہاں ہم نے یہ سمجھ لیا کہ بس منزل آن پہنچی پڑاؤ ڈال لیا جائے وہیں زندگی کا مقصد فوت ہوگیا ۔ جن کی نظریں آسمانوں کی وسعتوں پہ گڑی ہوتی ہیں اور جنہیں بلند پروازی بے چین رکھتی ہے وہ مطمئن ہوکے کیسے بیٹھ سکتے ہیں ؟؟ اس سوال پہ کسی نے سٹپٹا کے دیکھا اور کہا اگر مجھے علم ہو کہ پرواز بہت بلند ہے اور پر کمزور تو میں اڑنے سے پہلے ہی ہار مان کے پرواز سے توبہ کر لوں ۔ یہی فرق ہے بس بندہ مومن اور اللہ کے بندے کا ۔ بندہ مومن کی نگاہ بلند سخن دلنواز اور جاں پرسوزہوا کرتی ہے ۔ اور اللہ کا بندہ اڑان بھرنے سے پہلے جمع تفریق کر کے حاصل وصول نکالتا ہے ۔ بندہ مومن کے پاس ممکنہ اسباب کے بعد فقط توکل کی دولت ہوتی ہے اور اللہ کے بندے کی نظر اسباب سے آگے بڑھ نہیں پاتی ۔
جہاں سبب ختم ہوجائے وہاں سے اسکے فضل کا آغاز ہوتا ہے ۔ بس تھک کے گرنا نہیں ہے ۔ جہاں دل مایوسی کے گرداب میں پھنس جائے گا وہیں سے عدو مبین اپنے کام کا آغاز کرتا ہے ۔ دل کو اسی ایک کالے نکتے سے ہی تو بچانا ہے کہ وہ جب پھیلنے لگ جائے تو ہر جانب سیاہی پھیر جاتا ہے ۔ اور گھور اندھیرے میں آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوجاتی ہیں ۔ تو زندگی ایک مسلسل سفر ہے جہاں منظر بدلیں گے مقام بدلیں گے امتحان بدلیں گے لیکن جو چیز بدلنی نہیں چاہیے وہ آپکی ہمت آپکا حوصلہ ہے ۔
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول ……. دنیا کا نظام عقل کی بجائے اسکے فضل کے سہارے چل رہا ہے ۔ ہم سب کو اپنے اپنے امتحان دینے ہیں ۔ اب یا تو محنت کر کے پوزیشن لے لیں یا رعایتی نمبروں سے پاس ہو جائیں یا پھر مایوس ہو لے فیل ہو جائیں ۔ اسکا فیصلہ آپکو کرنا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں