فکر کو کیسے قید کرو گے تم اپنی زنجیروں میں – زبیر منصوری




کیا اسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسیوں کے سبب تنہا ہوتی جا رہی ہے اور ملک دشمن عناصر مضبوط اور عوام ناراض ؟ بلوچستان کا لاکھوں مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا علاقہ ، مسلسل بے چینی کی گرداب میں پھنستا چلا جا رہا ہے اور وہاں ہزاروں کے جلوس قومی پرچم روند کر پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں اور مقامی آبادی کے بغیر اتنے بڑے علاقے پر کنٹرول تقریباً ناممکن ہے۔
سندھ میں بارہ تیرہ حملے ہو چکے ہیں اور علیحدگی پسندوں کو ایم کیو ایم لندن کے مقامی سپورٹر ز کی مدد بھی حاصل ہےاور سندھ کی اصل قوت پی پی بھی آنکھیں دکھا رہی ہے جبکہ شہری علاقوں کی عوام ویسے ہی خود کو مظلوم سمجھتی ہے . قبائلی علاقے بے چینی کے آتش فشاں پر ہیں . دہائیوں سے ہمیشہ ساتھ دینے والا پنجاب نواز شریف کے ساتھ سلوک کے سبب ناراض ہے مذہبی و دینی قوتیں جنہیں ملک و نظریہ کے نام پر بلیک میل کر لیا جاتا تھا پچھلے الیکشن میں اعلانیہ باہر کر دئیے جانے پر غصہ میں ہیں اور کھلے بندوں نام لے کر برا بھلا کہہ رہی ہیں سوائے زر خرید اور مسلط کردہ پی ٹی آئی کے دور دور تک کوئی عوامی قوت ساتھ نہیں ہے . ایسے میں افغانستان ایران بھارت کسی پڑوسی سے بھی اچھے تعلقات نہیں ۔ اور صاف نظر آتا ہے کہ برسوں سے طاقت کے زور پر چپ کروا دینے ،اخبارات و چینلز میں ملک کے وسیع تر مفاد میں میڈیا ایڈوائس جاری کرکے مرضی کی خبریں چلوانے اور رکوانے کی پالیسی پریشر ککر کی گیس حد سے زیادہ بڑھا چکی ہے ۔
ایسے میں حاصل بزنجو جیسے اسٹریٹیجک ایسٹس بھی رخصت یا مایوس یا بے بس ہو چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ مقتدر قوتیں ملک و قوم کو کدھر لے جا رہی ہیں ؟ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ قوت سے دبا دینا جھکا دینا ، چھاؤنیاں بنا کر کچل دینا سارے مسائل کا حل ہے ؟ شاید نہیں
بات کرو گے تو بات بنے گیسانس لینے کا راستہ دو گے تو راستہ بنے گابات سنو گے تو بات سنی جائے گیبیشک لب پر ڈالو تالے طوق و سلاسل پہناؤ فکر کو کیسے قید کرو گے تم اپنی زنجیروں میں

اپنا تبصرہ بھیجیں