سال کی ابتداء اور ہماراعالیشان ماضی – ثمن عاصم




الحمدلله ….. ایک نئے سال کی ابتداء ہوئی ! ایمان ، صحت اور سلامتی کے ساتھ ہوئی . رب العالمین کا جتنا شکر کریں وہ کم ہے ۔ جانے والا سال ہر کسی کے دامن میں خوشیاں بھر گیا اور کسی کو کوئی غم دے گیا . یہ سب اسی کے اذن سے ہوا جو ہمارا مولا ، ہمارا داتا ہے، ہم میں سے کس کی مجال ہے کہ وہ دے دے تو لوٹا دیں اور لے لے تو دوبارہ حاصل کر لیں ۔
نئے سال کی ابتدا ہوتی ہے تو ایک ایسے شخص کی شہادت سے ، جس کا نام آج بھی کفر کے ایوانوں میں لرزا طاری کر دیتا ہے ، وہ شخص جس کو دیکھ کر شیطان راستہ چھوڑ دیتا ہے ، وہ شخص جو کئی مربع میل کا حکمران تھا . وہی شخص جس کے مشرف با اسلام ہونے کیوجہ دعائے مصطفیٰ ہے ۔ بے شک ہمارے دل محبت عمر رضی اللہ تعالیٰ سے لبریز ہیں وہی عمر فاروق جن کو جنت کی بشارت محمد مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم نے سنائی ہے ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ جو حاکم وقت ہو کر کہتے تھے . اگر فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر گیا تو عمر جوابدہ ہوگا۔ انکی شہادت نے عالم اسلام کا وہ ناقابل تلافی نقصان کیا جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ مہینہ آگے بڑھتا ہے تو دنیا کی عظیم الشان قربانی نظر آتی ہے کہ وہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن سے نبی کی محبت کا عالم یہ تھا کہ دوران نماز حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ آقائے دوجہاں صلی الله عليه وسلم کےکندھوں پر چڑھ جاتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی غصہ نہ کیا بلکہ آپ صلی الله عليه وسلم تو اپنے پیارے نواسوں کا منہ چومتے اور فرماتے .
جس نے انہیں تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور وقت آنے پر نواسے نے بھی نانا کے دین حق پر اپنی جان قربان کر دینے سے کوئی گریز نہیں کیا حق کو حق کہا اور اسی بات پر خود کواور اپنی اولادوں کو قربان کر دیا۔ قربانی کی ایسی مثال دنیا بھر میں کہیں ہے تو وہ قربانی آل رسول رسولؐ نے پیش کی اور ثابت کر دیا کہ حق جب آجاتا ہے تو پھر اسکے لیے ہر قربانی دی جاسکتی ہے مگر اس حق کو تسلیم کرنے کے بعد پیچھے ہٹنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ۔ نیا سال شروع ہوتا ہے اردگرد نظر دوڑاتی ہوں کوئی عمر فاروق جیسا حکمران نظر نہیں آتا جو بھوک سے، خوف سے بلکتے بچوں کو گلے لگا لے کوئی ایسا نہیں دکھتا جو کہے کہ کوئی بھوکا سویا تو میں ذمہ دار ہوں، کوئی ایسا نہیں دکھتا جو ظالم کا سر اپنی تلوار کی نوک پر رکھ کر کہے میری رعایا کو لاوارث سمجھا ہے کیا؟ کوئی ایسا حکمران نہیں ملتا جو شعائر الله کا مذاق اڑانے والوں کو عبرت کا نشان بنا دے۔
جب کوئی ایسا حکمران نظر نہیں آتا تو نجانے کیوں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ کی یاد آجاتی ہے کہ کیا کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان کرپٹ حکمرانوں سے اپنا حق لینے کے لئے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ کی طرح سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ جائے جو ہر ظلم کے جواب میں لشکر سمیت خود بھی یہ کہے کہ یہ زمین الله کی ہے نظام بھی اسی کا قائم ہوگا۔جو اس بےشرمی والی زندگی سے نجات دلانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دے۔ ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجا تا ہے کہ ہم دنیا بھر کے سامنے رسوا ہو جاتے ہیں کبھی ہماری عدالتی نظام کی ناکامی ہمیں رسوا کرتی ہے، تو کبھی میرا جسم میری مرضی کا غلیظ نعرہ لگانے والیاں اسلامی مملکت میں مساجد کی حرمت کو پامال کرتی ہیں ۔ بے گناہ خون بہتا رہتا ہے اور ہم محض ایک تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں ،ظلم ہوتا رہتا ہے اور ہم روکنے کی ہمت نہیں کرتے۔
سال کی ابتداء ہوتی ہے ہم اپنی ڈیپیز کو عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام اور اقوال سے سجا لیتے ہیں کچھ وقت گزرتا ہے ہم امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت اور بہادری کے واقعات سے فیس بک کی وال بھر دیتے ہیں یا کوئی ٹوئٹ کر کے اپنے جزبہ ایمانی کو تقویت دیتے ہیں ۔ آج ضرورت اس کی ہے کہ ہم انکے پیغامات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ حضرت عمر رضی اللہ کی جرات مندانہ زندگی اور حضرت حسین رضی اللہ کی بہادرانہ شہادت کو اپنی زندگیوں میں شامل کر کے اپنی نسلوں تک اس پیغام کو پہنچا دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں