مجھے ہے حکمِ اذان – سید کاشف اعجاز




مدینہ جیسی اسلامی طرزِ حکومت اور فلاحی ریاست کے قیام کے نام نہاد جھوٹے دعوے تو ویسے آئے روز ہی عیاں سے عیاں تر ہوتے آرہے ہیں مگر ایک ہوش رباء معاملہ ہماری آنے والی اُن نسلوں سے متعلق بھی تازہ تازہ آشکار ہوا کہ جن نسلوں کی اسلام کے گہوارے میں زندگی بسر کرنے کی خاطر ہمارے لاکھوں بزرگوں نے اپنے اپنے مال و اسباب چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ الثانی پاکستان کی جانب اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی۔
لاکھوں شہید ہوئے ، ہزاروں عفت مآب عورتوں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر خودکشیاں کیں، ہزاروں ہی اپنی عزت اس کلمہ پر قربان کرکے پاکستان پہنچیں اور ہزاروں ہی لاپتہ ہوگئیں۔ یہ تو کلمہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک کے لئے دی جانے والی قربانیوں میں سے محض ایک جھلک ہے وگرنہ بیان کرنے بیٹھ جاوں تو قلم لرزنے لگ جاتا ہے۔ چونکہ دنیا میں یہ ریاستِ مسلم واحد ریاست ہے جو کہ نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی اسی لئے اس کے ازلی اور ابدی دشمنوں نے ہر دور میں اسکی بنیادوں میں دڑاریں ڈالنے کی حد درجہ کوشش کی۔ اور اس میں کبھی تو عالمی این جی اوز کا سہارا لیا گیا اور کبھی مقامی۔کبھی حکومتی سطح پر کچھ کردار یہ مذموم حرکت کرتے نظر آئے تو کبھی بیوروکریسی کے ذریعہ یہ گھناونا عمل کرنے کی کوشش کی گئی. خصوصاً ہمارے تعلیمی نظام کو اس کا ہدف بارہا بنایا گیا۔کیونکہ تعلیم ہی وہ میدان ہے جہاں سے ہماری نسل اپنے دل و دماغ میں ایک سوچ پروان چڑھاتی ہے کہ اس نے اپنی منزل کا تعین کس سمت کرنا ہے۔
ہمارے نصاب میں بارہا اللہ، رسول اکرمؐ ، صحابہ کرامؓ ، مقدس ہستیوں، اور پاکستان کی نظریاتی اور زمینی سرحدوں کے بارے میں متازعہ اور توہین آمیز اسباق اور معلومات شبِ خون کی مانند درج کرائی جاتی ہے ۔ جب کسی اللہ والے ممبرِ قومی و صوبائی اسمبلی کی توجہ اسکی جانب مبذول کرائی جاتی ہے تو اس پر ان کے احتجاج پر اس قبیح عمل کو عارضی طور روک دیاجاتا ہے پھر معاملہ سرد ہونے ہر اسے شروع کردیا جاتا ہے مگر ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ جب اس حکومت کے دور میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے ایم ڈی رائے منظور ناصرنے ایک سچے عاشقِ رسولؐ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان بالخصوص پنجاب میں سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانی والی کُتب کو اکھٹا کیا تاکہ ایک بار میں جائزہ لیا جاسکے کہ ہماری نوجوان نسل کو کس قسم کے نظامِ تعلیم سے مستفید کیا جارہا ہے۔
آکسفورڈ اور کیمرج سمیت کُل دس ہزار کے قریب کُتب اس وقت اسکولز میں پڑھائی جارہی ہیں جس میں سے محض پانچ سو کُتب کو ہی چیک کیا گیا تو ان میں سے سو کُتب میں بدترین غلطیوں اور اسلام مخالف مواد کا انکشاف ہوا جو کہ دل و روح کو ہلا دینے کے برابر تھا۔ رائے منظور ناصر نے ایک لوکل ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کئی کُتب میں قرانِ پاک آیات کی بدترین غلطیاں کی گئیں، کئی جگہ مضامین توہینِ رسالتؐ اور توہینِ صحابہؓ کے مرتکب پائے گئے، سیرت النبیؐ کے متعلق کئی کتابوں سے مضامین ہذف کردئیے گئے ، پاکستان کے نقشہ میں آزاد جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنادیا گیا ، آئینِ پاکستان کے مطابق ملک کے چار صوبے ہیں جبکہ ان کو پانچ لکھا گیا۔ علامہ اقبال اور قائدِ اعظم سے متعلق تاریخ کو مسخ کیا گیا ۔ ریاضی کی کتب میں چھوٹے بچوں کی گنتی میں سور کی تصاویر سے گنتی شمار کرائی گئی۔ پاکستان کی کُل تعداد نو کروڑ لکھی گئی۔
اسی طرح کی بے شمار ایسی باتیں جن کا دین کے بنیادی عقائد اور نظریہ پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں اسے نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ بقول رائے منظور کے کہ جب آکسفورڈ اور دیگر اداروں کو اس پر وضاحت کے لئے بلایا گیا تو محض معزرت کے ان کے لبوں پر اور کوئی الفاظ نہیں تھے۔جس کے بعد فی الفور ان سو کُتب کو پنجاب میں بٙین کردیا گیا جس میں آکسفورڈ اور کیمرج کی پندرہ کُتب شامل ہیں اور ابھی محض پانچ سو کُتب ہی کی تحقیق ہی عمل میں آئی جبکہ ساڑھے نو ہزار ابھی باقی ہیں. ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اس اقدام پر جنابِ وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان انہیں ذاتی و سرکاری حیثیت میں اس فقید المثال کام پر شاباش دیتے ہوئے اس عمل کو اپنے کھاتے میں ڈالتے کہ آج تک کسی بھی حکومت کو اس اہم ترین کام کرنے کی توفیق نہ ہوئی بلکہ ہوا
اسکے برعکس کہ ہفتہ کی شام ایک واٹس اپ کے ذریعہ اس غلامِ محمدؐ رائے منظور ناصر کو محض چھ ماہ کی قلیل مدت کے چارج کے بعد جبراً ٹرانسفر کے احکامات صادر فرمائے گئے اور ایک لو لیول کے افسر کے ذریعہ یہ حکم بھی صاد فرمایا گیا کہ ابھی اسی وقت اپنا چارج چھوڑ دیں۔ رائے منظور ناصر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب بورڈ ہر سال پانچ ارب کک مفت کتابیں شائع کراتا ہے جس کو میں نے اپنک ٹیم کے ذریعہ اس سال ایک ارب کم خرچ میں شائع کرانے کی فزیبیلٹی بنا کر حکومت کے سپرد کی تھی مگر شاید مافیا اتنا طاقت ور ہے کہ اس کے آگے حکومتِ پنجاب بھی ڈھیر ہے۔یہ بدترین انتظامی صورتِ حال ہے۔ اسی لئے وہ بیوروکریٹس جو کہ اپنی نیک نامی کے باعث اچھی شہرت رکھتے ہیں وہ بھی اس حکومت کیساتھ کام کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔
ملک کو رائے منظور ناصر جیسے اچھے افسران کی ضرورت ہے جو کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ حکومت اس سنجیدہ مسئلہ پر فوری نوٹس لے اور ایسی تمام تر کُتب کو فی الفور بٙین کرتے ہوئے اپنے مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست کو دعوے کے بھرم کو بحال کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں