اک شخص نہیں اک جہاں تھا وہ – لبنٰی اسد




یہ ربِ کائنات کی ہم پر خصوصی عنایت تھی کہ کہ ایک شخص کے ذہن میں ایک عظیم خیال آیا ……. کہ ایک ایسی جماعت تشکیل دی جائے جو حق و باطل میں فرق کرنے والی اور نیکی کا حکم دینے والی اور برائی سے روکنے والی ہو ۔ یہ خیال ایک 17 سالہ نوجوان کے ذہن میں آیا ! یقینًا یہ نوجوان عظیم مرتبے اور عظیم سوچ کا مالک ہی ہوگا جو اس نے اتنے بڑے کام کے بارے میں سوچنا شروع کیا ۔
جی ہاں یہ سترہ سالہ نوجوان اور کوئی نہیں ……. بلکہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی ہی تھے ۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ مسلمانوں کی جو سلطنت باقی رہ گئی ہے وہ ختم ہونے کو ہے اور ترکوں کی سلطنت بھی مٹ رہی ہے اور برطانیہ غالب آ رہا ہے ۔ 1924 میں ترکوں نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا . جبکہ دوسری طرف ہندو مسلم اتحاد بھی ختم ہوگیا اور ہندوستان میں جگہ جگہ ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے ۔ مسلمانوں پر شدید حملے ہونے لگے اور 1925 میں شدھی تحریک کا بھی آغاز ہو گیا ۔ سید مودودی نے ان تمام حالات کا تجزیہ کیا اور 1937 میں رسالہ “ترجمان القرآن” کی ابتدا کی اور اس کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانا شروع کیا . مزید یہ کہ کتابیں لکھ کر بھی مسلمانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کا آغاز کیا ۔ پھر مولانا مودودی نے یہ کہا کہ میری نگاہ میں اہم مسئلہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ اسلامی حکومت کیا ہوتی ہے اور اسے قائم کرنے کے لیے کس سیرت و کردار کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اسی طرح 22 سال تک مشاہدات اور تجربات کی بنا پر جماعت اسلامی کی تشکیل کی گئی ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ جماعت ایسے افراد پر مشتمل ہونی چاہیے جو نہ صرف عقیدے میں مخلص ہوں بلکہ اپنی انفرادی سیرت و کردار میں بھی قابلِ اعتماد ہوں جب جماعتِ اسلامی قائم ہوئی تو اس میں سے 75 افراد یکجا ہوئے تھے۔ اس طرح لاہور میں ترجمان القرآن کے دفتر میں26 اگست 1941 کو جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا اور اسلامی تحریک کے تاسیسی اجتماع کا آغاز ہوا ۔ مولانا مودودی نے زندگی اور مقصدِ زندگی کو واضح کیا کہ ہمارا دین ہم سے کیا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا زندگی محض وقت گزارنے کا نام نہیں بلکہ مسلسل عمل و جدوجہد کا نام ہے ۔ پھر مولانا نے خطاب کیا اور تمام افراد نے ایک ایک کر کے کلمہ شہادت پڑھ کر جماعتِ اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چہرے آنسوؤں میں نہائے گئے اور دین کے ساتھ مخلص اور متحرک رہنے کا عہد کیا گیا اور تمام افراد یہ جانتے تھے کہ وہ کس سے عہد کر رہے ہیں وہ جانتے تھے کہ آج ہم نے اپنے خدا کو اپنا گواہ بنایا ہے ۔ یہ وہ دن تھا جب مولانا مودودی نے اعلان کیا کہ” آج جماعت اسلامی کی تشکیل ہو گئی ہے “۔
ہمارے عظیم رہنما تو ہمارے لئے بہترین کام کرکے چلے گئے . مگر آج جماعتِ اسلامی کے یومِ تاسیس کے موقع پر کہ جب اس کی تشکیل کو 80 برس بیت گئے ہیں . ہمیں اپنے رب کا احسان مند اور شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں بہترین صالح اور نیک اجتماعیت عطا کی ۔ اس لیے ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم جماعتِ اسلامی کے نصب العین پر پوری طرح اتریں اور جماعت اسلامی کی تشکیل کا جو اصل مقصد تھا یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام خالص ﷲکی رضا کے لیے بے انتہا جدوجہد سے انجام دیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمارے تمام کاموں کو اپنے بارگاہں الٰہی میں قبول فرمائے . ( آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں