کیکر ہو کر گلاب کیسے مانگتے ہو – سلمان شیخ




ہمارے جماعتی احباب جب جماعت کی خدمات اور فلاحی سرگرمیوں کی پوسٹیں اور تصاویر شئیر کرتے ہیں . کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست کررہے ہیں ۔ ارے بھیا …….. اس سے اچھی سیاست کیا ہو کہ سیاسی جماعیتیں خدمت کی سیاست کریں اور خدمت اور فلاح کے میدان میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں ۔
عجیب معاملہ ہے لوگ ان سیاسی جماعتوں سے نہیں پوچھتے کہ تمہاری کیسی سیاسی جماعت ہے . جس میں خدمت خلق کا کوئی شعبہ ہی نہیں ۔ کبھی کسی نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ سے پوچھا کہ اقتدار کے دنوں میں تو کبھی کبھار آٹے کی بوری اور سلائی مشین دیتے ہوئے تصویریں کھچوالیتے ہولیکن کبھی حکومت میں رہے بغیر ایک پھوٹی کوڑی بھی عوام کیلئے خرچ کی ہے؟ جماعت کا کارکن عبادت سمجھ کر خدمت کے میدان کود پڑتاہے ، وہ کسی کیمرامین اور بینر کا انتظار نہیں کرتا، کوئی اچانک ناگہانی آجائے یاکوئی سانحہ پیش آجائے تو اسے کسی انسٹرکشن کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسکا ایمان اسکی تربیت بے لوث خدمت کیلئے میدان میں اتار دیتی ہے۔ کسے یاد نہیں کہ ماڈل کالونی میں گرنے والے جہاز کے ملبے سے لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے یہ جماعت کا مخلص کارکن چپلیں پہناہوا گرم پانی میں کود گیا تھا ، سب گواہ ہیں کہ گولیمار کی گرتی ہوئی عمارت میں اگر رینجرز اور فوج کے ساتھ کچھ خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوان لوگوں کو ریسکیو کررہے تھے تو وہ جماعت ہی کے کارکن تھے۔
ابھی کل ہی کی تو بات کہ سب حیران تھے کہ حب ریورروڈ پر پانی میں ڈوب کر الٹی ہوجانے والی بس پر رینجرز اوپر کھڑی ہے اور ایک جماعتی بچہ کھڑکی کے راستے بس میں ڈبکیاں لگاتاہوازندگیاں بچانے کی کوشش کررہاہے۔ سیلابی پانی میں پھنسے بززگوں ، بچوں اور خواتیں کو نکالنے والے جماعت ہی کی فلاحی تنظیم الخدمت کے والینٹرز تھے۔ گلفام آباد اور سرجانی ٹاون میں ٹائر کی ٹیوب پر دیگ رکھے پانی میں ڈوبے گھروں میں کھانا تقسیم کرنے والے فیصل واڈا اور سعید غنی کے بھیجے ہوئے کارندے نہیں جماعت ہی کے کارکن تھے۔ کرونا کی وبا ابھی تو ٹھیک سے ٹلی بھی نہیں لیکن اس وقت جب اسٹے ہوم اسٹے ہوم کی صدابلندہوتی تھی تو کونسا ایسا گلی محلہ تھا ، مسجد ، مندر، چرچ تھا، سرکاری نیم سرکاری اور نجی ہسپتال تھا کہ جہاں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر الخدمت اور جماعت کا کارکن اپنے کاندھوں پر اسپرے کی ٹنکی لٹکائے نہ پہنچا ہو۔
کرونا کے دنوں میں کراچی کی ایک ایک گلی گواہ ہے کہ کہ کس طرح یہ اللہ کے مخلص بندے اپنے کندھوں پر بھاری بھرکم راشن کے تھیلے لادے رات کے کسی پہر سفید پوش ضرورت مندوں کے دروازے پر دستک دیتے تھے کہ کسی کسی کی عزت نفس نہ مجروح ہو۔ کبھی آپ نے سنا کہ ان میں سے کسی نے مدد کرنے سے پہلے پوچھا ہوکہ آپکا کس پارٹی سے، زبان سے، مذہب سے، مسلک سے تعلق ہے ؟ کبھی کسی سے کہتے سنا کہ راشن اسی کو ملے گا جو جلسے میں آئیگا ؟کبھی یہ آوز سنی کہ جووٹ دیگا اسی کو آکسیجن سیلنڈر ملے گا؟
کیسے سنا ہوگا یہ جماعت کی تربیت ، روایت اور کلچر خلاف ہے۔ یہ سب دیکھتے بھالتے جانتے بوجھتے بھی آپ ایسی خدمت کی سیاست کرنے والوں کے مقابلے میں گھٹیا اور ذاتی مفاد کی سیاست کرنے والوں کا انتخاب کرتے ہیں پھر سڑکوں کے گڑھوں میں مزے کیجئے
حافظ نعیم کے مقابلے میں فیصل واڈا کا انتخاب کرتے ہیں تو کچرے اور گندگی میں کھیلیں کودیے ، سیف الدین کے مقابلے میں عامرلیاقت کو اسمبلی میں پہنچاتے ہیں تو اندھیروں کو انجوائے کیجئے ، گولڈ میڈلسٹ محمد حسین محنتی کے مقابلے میں سعید غنی کا نتخاب کرتے ہیں پھر پھنسے رہیے ٹریفک جام میں ۔ کیکر کا بیج لگائیں گے تو آم نہیں کیکر ہی کاٹیں گے۔ خدمت کی سیاست کرنے والے یقینا آج نہیں تو کل اپنا صلہ پا ہی لینگے لیکن گھاٹے میں غلط انتخاب کرنے والے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں