باران رحمت اور کراچی – شہلا خضر




پاک پرور دگار نے ، اس کائنات میں عالم وجود کو قائم کرتے وقت حیات بخش عناصر حیرت انگیز طور سے انتہائی متوازن تناسب سے مہیا کر دیۓتھے ۔ اگر ہم غورکریں تو تعجب ہوتا ہے کہ تمام نظام ہاۓ زندگی کس قدر باریک بینی سے مرتب کۓ گۓ ہیں ۔ سورج کی روشنی اور حرارت اس دنیا پر موجود تمام چرند پرند حشرات الارض اور نبادات کے زندہ رہنے کے لۓ ناگزیر ہے ۔
موسم کے تغیر وتبدیلی پر غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ ہر موسم سے جاندار اپنے لۓ خوب فوائد سمیٹتے ہیں مثلا” اناج ، سبزیاں اور ۔پھل وغیرہ کی بے شمار اقسام مختلف موسموں میں اگاۓ جاتے ہیں ……. جن سے ہم توانائی کا خزانہ حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح سمندروں سے بخارات کی صورت میں اٹھنے والا نمکیں اور کھارا پانی بارش اور برف باری کی قابل استعمال صورت میں دریائوں ، آبشاروں اور تالابوں سے ہم حاصل کرتے ہیں ۔ اربوں انسانوں اور کھربوں اقسام کے دیگرجانداروں سے مزیّن اس سیارے کے (Echo system ) ماحولیاتی نظام کی ترتیب اور توازن پر ریسرچ کرنے والے سائنسدان حیرت زدہ رہ جاتے ہیں ۔ اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ توازن اگر قائم نہ کیا جاتا تودنیا کے سیارے پر حیات کا وجود ہی قائم نہی کیا جاسکتا تھا ۔ یہ سب کچھ ہمارے لیۓ ملک کائنات نے بنایا تاکہ ہم اسے اپنے بھلے کے لیۓ استعمال کریں اور راحت پائیں ۔۔۔
ہم انسانوں نے اس کے بدلے میں بجاۓ احسان مندی اور شکر گزاری کے نافرمانی اور ناشکری کی روش اپنائی ۔ انسانی ترقی کے آغاز سے فیکٹریوں اور زرائع آمدو رفت کی بدولت بے شمار زہریلی گیسیس اور کیمیکل مادے قدرت کی عطا کردہ اس متوازن فضا کو زہر آلود کر چکے ہیں ۔ مالی فائدے کے لۓ جنگلات کو بے دریغ کاٹ کر لکڑی حاصل کی گئی اور سیلابوں کے قدرتی روک تھام کے زریعے کو تباہ وبرباد کر دیا گیا ۔ زیادہ سے زیادہ آسائش اور مال ودولت کے حصول کے لۓ جہاں ایک طرف قدرتی وسائل کو تباہ و برباد کر دیا گیا وہیں عوام کی سہولت کے لۓ بناۓ گۓ . اداروں اور محکموں کی بد عنوانی اور مجرمانہ غفلت کے سبب شہروں کو رہنے کے لائق نہ چھوڑا ۔ آج جہاں ایک طرف ہم پوری دنیا کے موسموں میں ڈرامائی تبدیلی دیکھ رہے ہیں …… وہیں پر اپنے پیارے وطن پاکستان کو بھی اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے مشکل حالات میں گھراہوادیکھ رہے ہیں۔
بارش جسے عرف عام میں ” باران رحمت” کہا جاتا ہے ، بلا شبہ مالک ارض وسمع کی ایک عظیم نعمت ہے . گزشتہ دنوں پورے پاکستان میں مون سون کے موسم کی طوفانی بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی ۔ پنجاب ، بلوچستان ، کے پی کے اور سندھ اور آزاد کشمیر ہر صوبہ میں عوام پریشان حال دکھائی دی ۔ مگر سب سے سنگین حالات کراچی جیسے بڑے بین الاقوامی شہر میں دیکھنے کو ملے ۔ کئی دہائیوں سے کراچی پر حکومت کرنے والی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی بد عنوانیوں اور بد نیتیوں کے مرہون منت صوبے اور ملک کا سب سے زیادہ ریوینو دینے والا شہر …… آج پورے ملک کےسب سے بدترین انتظامی نظام کی تصویر پیش کر رہا ہے ۔ پہلی ہی بارش سے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بہہ گئیں ۔ سیوریج سسٹم بیٹھ گیا ۔ پانی گھروں میں داخل ہو گیا ۔ نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ۔بجلی کے ساتھ ساتھ موبائل سروس ۔ انٹرنیٹ اور پی ٹی سی ایل سب کے سب ناکارہ ہو گۓ ۔
لالچ اور حوس کے مارے سیا ست دانوں نے چائنہ کٹنگ کے زریعے سرکلر ریل ٹریک کے ساتھ ساتھ نالوں تک کو بیچ کراپنے شکم بھر لۓ ۔ اینکروچمنٹ ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ اپنے اقتدار کا آغاز کرنے والی حکومت کو صرف غریب کے کچے جھونپڑے اور چھوٹی موٹی دکانیں ہی اینکروچمنٹ دکھائی دیں ۔ نالوں اورگرین بیلٹ کی زمین پر چائنہ کٹنگ کے زریعے کھڑی کی گئ بلند و بالا عمارات اور بنگلے نہ دکھے ۔ بلدیاتی اداروں میں فنڈ اور اختیارات کی تقسیم کے جھگڑوں کی وجہ سے “نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے ” کی لڑائی میں کراچی کو “کچراچی ” بنا ڈالا ۔ لیکن ان موٹی چمڑی والے سیاستدانوں کی ڈھٹائ اور بے شرمی دیکھیں کہ بجاۓ اپنی کوتاہیوں اور مجرمانہ غفلت کے باعث عوام کوپہنچنے والے جانی اور مالی نقصانات کا اعتراف اور ازالہ کریں اب بھی ایکدوسرے کو مورد الزام ٹہرا کر خود کو فرشتہ صفت ثابت کرنے پر تلے ہیں۔
آزمائش کے اس کڑے وقت میں “جماعت اسلامی” کے اکابرین سے لے کر کارکن تک سب سیلاب سے متاصرہ علاقوں میں دن رات امدادی مہم میں سرگرم رہے ۔آفت زدہ علاقوں میں ریسکیئو آپریشن ۔سے لے کر خوراک پہنچانا ْ مفت بس سروس چلانا طبی عملے کا ہر علاقے میں بروقت طبی امداد پہنچانا یہ سب کچھ ایک ایسی جماعت نے کر دکھایا ، جسے کسی حکومتی فنڈنگ کی سر پرستی نہی یہاں ہر کام رضا کارانہ طور پر خالص رضاۓ الہٰی کے جزبے کے تحت کیا جاتا ہے ۔ تمام حکومتی اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ جانے والے ان موروثی سیاست دانوں نے ہر جا ئز ناجائز زرائع استعمال کر کے اپنی کالی کمائی سے تجوریاں تو بھر لیں پر انہیں غریبوں اورمظلوموں کی آہیں نہ سنائی دیں ۔ کیا یہ سیاسی پارٹیاں اس لائق ہیں کہ ہم اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس اور ریوینو کی مد میں ملنے والی اربوں کی آمدنی سونپ دیں ۔ نہیں ہر گز نہیں ۔ کراچی کی عوام کو اب اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ محنت کشوں کا یہ شہر بے ظمیر اور خود غرض سیاست دانوں کا دامن چھوڑ کر مخلص ایماندار اور درد دل رکھنے والی جماعت اسلامی ہی کا انتخاب کریں۔
کراچی جسے عروس البلاد کہا جاتا تھا آج ایک کھنڈر کی تصویر بن چکا ہے۔ہم اہل کراچی چیف جسٹس آف پاکستان جناب” گلزار احمد صاحب” سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر “سو موٹو ایکشنْ” کے زریعے تحقیقات کریں اور ہمارے اس خوبصورت شہر کراچی کی بر بادی کے زمہ دار عناصر کو گرفتار کرکے کڑی سے کڑی سزا دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں