ایساہے میرا کراچی – مریم حسن




شہر کراچی اور یہاں رہنے والوں کے بارے میں کسی سے بات کرو ، ان کی بات کراچی کے کچرے کے آگے نہیں بڑھتی ہے ۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس شہر میں کس قدر آبادی سموئی ہوئی ہے ، یہاں کے لوگوں کو پانی ، بجلی ، رہائش کے لیے کن کن عذابوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بڑی بڑی فیکٹریز کو چلانے کے لیے اپنی زندگیاں گزار دیتا ہے اور ان کو ملتا کیا ہے ؟
ہر تین ماہ بعد پھر تین ماہ کے کنٹریکٹ پر بھرتی ، مستقل ملازمت اور مراعات دور کی بات۔ یہاں کے شہری پینے کا پینے خریدتے ہیں ، ویسے ہی جیسے دودھ خریدتے ہیں ، پانی کا ایک مگا اتنا قیمتی ہے جتنا دودھ کا ایک کپ۔ سارا سارا دن باہر جان مار کر گھر کو لوٹنے والے طویل راستوں سے ہو کر گزرتے ہیں تو یونہی ان کا سفر اتنا طے ہوجاتا ہے جتنا عموماً ایک سے دوسرے شہر تک کے لیے کوئی کرے۔ یہاں کے رہنے والوں کو کبھی غور سے دیکھیں ، روز صبح شام وہ کیڑے مکوڑوں کی طرح بسوں میں لد کر سفر کرتے ہیں، بسیں بھی ایسے جن کے اپنے پرزے دہائیاں دے رہے ہوتے ہیں، طالب علم تک یوں تدریسی اداروں تک پہنچتے ہیں جیسے کسی زمانے میں جبری مشقت پر مامور غلاموں کو کام کی جگہ پہنچایا جاتا ہوگا۔ لمبے لمبے راستے ، اور سفر کرنے کو سڑکیں دیکھیں تو ہنس لیا کریں، آخر کہاں تک روئیں گے۔
یہاں بجلی بھی ایک نعمت ہے، وہ علاقے جہاں عموماً لوئر کلاس طبقہ رہتا ہے وہاں آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تو معمول ہے، اس پر بھی جب کے الیکٹرک کا دل چاہے رات رات بھر بجلی غائب ہوجاتی ہے۔ اوور بلنگ گویا ٹرینڈ بن گئی ہے، وہ گھر جہاں کل متاع ہی دو پنکھے، تین چار انرجی سیور اور ایک ٹی وی یا فرج ہوتا ہے وہاں بھی ہزاروں کے حساب سے بل پہنچائے جاتے ہیں اور بل بھریں تو کہاں سے؟ پھر ان ستائے ہوئے لوگوں کا وقت صاحب لوگوں کی منتیں کرتےگزرتا ہے۔ بہت ہوگیا تو دفتر کے باہر چند اجتجاجی نعرے لگا کر پھر گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔ جو کچرے کے ڈھیر جگہ جگہ اس شہر کا چہرہ خراب کرتے ہیں وہ بےشک یہاں کے مکینوں کا پھیلایا ہے لیکن ایک دفعہ سوچیں کہ اتنی آبادی کے شہر میں کچرا تو ہوگا، اس کچرے کو ٹھکانہ لگانا عوام کا کام ہے یا حکومت کا؟ شہری بےبس ہیں، سڑکوں کے کنارے نہ پھینکیں تو پھینکیں کہاں۔
یہاں کے لوگوں کی رہائش دیکھیں، ریڑھ کی ہڈی یعنی محنت کش طبقہ، نائن ٹو فائو جاب کرنے والے، ٹھیلوں اور چھوٹی دکانوں سے اپنی روزی کمانے والے چھوٹے علاقوں کے مکین ، ایک گھر کی جگہ پر چار چار گھر بنا کر لوگ کرائے پر چڑھا دیتے ہیں اور ایک دو کمروں کے گھر میں پورے پورے خاندان سمائے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یہاں لوگ یوں جیتے ہیں، وہ علاقے جن کا نام صرف برے حالوں میں زبان پر آتا ہے ان علاقوں کے مکینوں کی ابتری دیکھیں تو کہیں “یہ ہے کراچی”۔ لیکن ایک اور دفعہ اس شہر پر نظر دوڑائیں، یہ وہ شہر ہے جسے روشنیوں کا شہر کہتے ہیں، یہ وہ شہر ہے جہاں پورے ملک سے لوگ روزگار کی تلاش میں آتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں اس غریب پرور شہر میں کوئی بھوکا نہیں سوتا، یہاں کی ہوا مہربان ہے اور یہاں کے مکین کشادہ دل۔ کوئی بھی موقع ہو یہاں کے لوگوں کی زندہ دلی دیکھنے والی ہوتی ہے، وہ شہر جہاں دیگر شہروں سے آنے والے لوگ کبھی کچرے ، کبھی پانی تو کبھی بجلی کے مسئلے پر ناک بھوں چڑھا رہے ہوتے ہیں .
یہاں کے باسی انہی حالات میں مستقل رہتے ہیں اور شکوہ بھی کم کم ہی کرتے ہیں۔ کریں تو کس سے؟ یہاں کوئی بااختیار ہے ہی نہیں۔ اس شہر کے لوگوں کے لیے تفریح کا سستا ترین ذریعہ سمندر ہے، صرف کرائے کا انتظام کرو اور گھر سے کچھ بنا کر ساحل پر کھاؤ پیو ،ایک اچھا دن گزارو اور پھر اپنی مشقت بھری زندگی میں لوٹ آؤ۔ اسی شہر میں فائیو اسٹار ہوٹلز بھی ہیں جہاں تک پہنچ بھی ایک مخصوص طبقے کی ہے۔ یہ شہر جہاں رہنے والے قابلِ رحم بھی ہیں، یہیں کے رہنے والے وہ بھی ہیں جن پر رشک بنتا ہے لیکن ابھی توجہ ان کی سمت رکھتے ہیں جو ہر حال میں مسلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جب نظر دوڑاتے ہیں کہ کس سے فریاد کریں تو کہیں کوئی میئر اختیارات کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے، کہیں صوبائی حکومت کچھ کیے بغیر بس زبانی گولا باری کررہی ہوتی ہے، کہیں وفاقی نمائندے باقی دونوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔
انسان کس کو کچھ کہے یہاں تو سب تماشائی ہیں، یہ ہر طرح کے حالات میں کراچی والوں کی تباہ حالی اور موت کا تماشا دیکھتے ہیں اور پھر لوگوں کو بین بجا کر سلا دیتے ہیں اور میرے شہر کے بھولے لوگ بھی رات گئی بات گئی کہہ کر پھر اسی مشقت میں جت جاتے ہیں۔
ہمارے لوگ بہت سیدھے ہیں، سارے ظلم سہتے جاتے ہیں ، زندگی بھر کبھی کہیں تو کبھی کہیں ذلیل ہوتے رہتے ہیں، جو جیسے چلتا ہے ویسے ہی گزارا کرتے جاتے ہیں، الیکشن آتے ہیں تو ووٹ کی فارمیلٹی پوری کرتے ہیں اور پھر وہی سب دیکھتے دیکھتے مر جاتے ہیں۔
جب ہم ہر طرح کے حالات میں ایڈجسٹ کرلیتے ہیں پھر یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ ہمارا کچھ ہوگا۔ خیر ایسے ہی ہیں ہم۔ اگلی دفعہ جب آپ کراچی کے کچرے ، کراچی کے لوگوں کی بد تہذیبی ، یہاں کی بدحالی کی بات کریں تو ایک بار یہاں کے مکینوں کا سوچیے گا کہ وہ کن حالات میں ہیں .
امید ہے سوچنے کا رخ تھوڑا بدل جائے گا اور شاید پھر آپ کو یہ سب اتنا IRRITATE نہیں کرے جتنا ابھی کردیتا ہے۔
جب کبھی کراچی کو ڈوبتا، سسکتا دیکھیں تو اس شہر اور اس کے مکینوں کے لیے دعا ضرور کیا کریں، کیونکہ کچھ بھی ہے، پاکستان کو چلاتا ہے میرا کراچی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں