میرا ڈوبتا آشیانہ – ڈاکٹر سارہ شاہ




حالیہ مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں کراچی شدید طوفان اور سیلاب کی زد میں …… تمام ہی عزیزوں کی خیریت مطلوب ہے ……وہ جوپکے گھروں میں ہیں . اور وہ بھی جو کچے چھتوں اور دیواروں کے کچی بستیوں میں ہیں۔ کتنے ہی لوگ اس آفتزدگی کا شکار ہو رہے ہیں . کتنے لوگ راستوں میں پھنسے ہیں ۔ کتنے گھروں کے لوگ پانی بھر جانے کے باعث کہیں اور منتقل ہو جانے پہ مجبور ہیں۔
کتنی ہی کچی بستیاں زمین بوس ہو چکی ہیں ۔۔کتنے ہی تجارتی املاک کا نقصان ہو چکا ہے ۔ لوگوں کی گاڑیاں ان کی آنکھوں کے سامنے پانی میں ڈوبی کھڑی ہیں اور وہ بے بس ہیں۔ کتنے ہی دیہاڑی دار مزدور بے روزگا ہیں ۔ ٹھیلے چھابڑے جو کسی کی روزی روٹی کا سامان تھے سب طوفان کی نظر ……. ابھی کرونا کا شکنجہ ہلکا ہوا تھا کہ مزید جانی حادثات کا خطرہ ……. اور اطلات، حب ڈیم ، ملیر اور لیاری ندّی میں طغیانی کا منظر ہے۔ حب ڈیم کے وہ سپل وے جو پچھلے 13 سال میں نہیں کھلے وہ مزید طوفان کی صورت میں کھول دینے کا امکان ہے ۔
“”اللہ اکبر …….. یا اللہ ۔ ہمیں معاف فرمادے ہم بہت کمزور ہیں۔ بہت عاجز ہیں۔ ہم تیری رحمت سے امید لگائے بیٹھے ہیں ان حالات میں ہماری مدد فرما ۔ تو ہمارا رب ہے …….. ہمیں صرف تیری مدد کا آسرا ہے۔ یا اللہ۔ہم تیری ناراصگی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا اللہ ہم عافیت کے چلے جانے سے پناہ چاھتے ہیں تیری۔ یا اللہ ہم نعمتوں کے زوال سے پناہ چاہتے ہیں تیری ……. یا اللہ ہم سے راضی ہو جا ہم تیری مدد اور تیری رحمت ۔ “”
اس سخت گھڑی میں اہل شہر کا جذبہ ایثار دیدنی ہے ۔ سوشل میڈیا اور ہر طرف سے یہ پیغامات وصول ہورہے ہیں ۔ کوئی راستے مین پھنس گیا۔۔فلاں جگہ کے پھنسنے والے فلاں نمبر پہ رابطہ کریں۔۔جن جگہوں پہ لوگوں کو کھانا میسر نہیں فلاں جگہ قریب ہے وہاں رابطہ کریں۔گاڑیاں پھنسی ہیں تو ٹو کرنے والے اپنے نمبر فی سبیل اللہ دے رہے ہیں۔تمام ہی فلاحی تنظیمیں پوری طرح سے مدد گار ثابت ہورہی ہیں۔
لیکن پورا شہر اپنی مدد آپ ہے۔ کراچی جو ایشیاء کے بڑے تجارتی شہروں میں شامل ہے اس کی کوئی نہیں ۔ disaster management
اگر ہے تو بس یہ کہ ہنگامی حالات میں شہر فوج اور رہینجرز کے حوالے کردیا جائے۔
کیوں کہ شہر کے اہل امین تو اس وقت اپنے محلوں سے نکلیں گے شہر کی خبر گیری کرنے جب غریب اپنے تباہ حالی کے آنسو خشک کر کے دل پہ پتھر رکھ کر ایک بار پھر زندگی کی گاڑی چلانے میں مگن ہو جائے گا . ایسے ہر ہنگامے کے بعد اہل شہر کے سامنے سوال یہ اٹھتا ہے کہ شاید اہل امانت حکمران نہیں رہے یا عوام اہل بصیرت نہیں رہے کہ وہ اہل امانت کو ڈھونڈ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں