بچوں میں گہرائی اور تنقیدی و تجزیاتی قوّت کیسے پیدا ہو؟ – ہمایوں مجاہد تارڑ




ایک بہن نے سوال اُٹھایا ہے کہ ڈیجٹل دور نے ہمارے بچوں سے فوکس اور سوچنے کی صلاحیت سلب کر رکھی ہے ۔ نئی نسل میں گہرائی ہے ، نہ پرکھنے کی صلاحیت ، یعنی critical اور analytical سکِلز کا فقدان ہے ۔ کیا کِیا جائے ؟ اس کا بہترین حل ہے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتابیں پڑھنا ، کوئی دستاویزی یا تفریحی فلم دیکھنا ۔ تب پڑھے یا دیکھے ہوئے مواد پر اَوپن اَینڈڈ سوالات کرنا ۔ کتاب یا فلم سے میسر آئے فُوڈ فار تھاٹ پر باتیں کرنا ۔ اس مواد پر بچوں سے کچھ لکھوانا …….!
دن میں کوئی ایک گھنٹہ مختص کرنا جس میں انہیں گیجیٹس استعمال کرنے کی اجازت بھی ہو تاکہ زیادہ گھٹن یا حبس والی فضا پیدا نہ ہونے پائے ۔ گیجٹس والی سکل بھی بہت اہم ہے ۔ کِی بورڈ پر بھی بچوں کی انگلیاں خوب رواں رہنی چاہئیں ۔ تاہم سکرین ٹائم والے قانون پر عمل کروانا ہو گا ۔ سختی کرنا ہو گی ، اور کوالٹی ٹائم دینا ہو گا ……… تھوڑی پلاننگ کے ساتھ ایسے ٹاسکس متعین کیے جائیں جو بچوں کو بامعنی طور تادیر مصروف رکھ سکیں ، اور اس دوران آپ کو ہر وقت اُن کے سر پر سوار بھی نہ رہنا پڑے ۔ بچے فارغ وقت میں فزیکل ایگزرشن میں ضرور جائیں ۔ کوئی نہ کوئی کھیل کھیلیں ۔ اس سے فقط جسمانی ہی نہیں ، اعصابی ، ذہنی اور نفسیاتی صحت میسر آتی ہے ۔ آجکل اکثر بچے چھوٹتے ہی سکرین پر جا لگتے ہیں ۔ فارغ وقت میں کوئی فزیکل ایکٹوٹی نہ بھی ہو تو ضروری نہیں اُسے سکرین ٹائم کے ساتھ ہی بھرا جائے۔
سکرین کے لیے جو وقت متعین ہے ، سو ہے ۔ بھلے منہ اٹھا کر بیٹھے رہو ۔ کچھ نہ کرنا بھی صحت مندانہ ہے ۔ اسی سے تو گہرائی پیدا ہوتی ہے ۔ تھوڑی سی اصول پسندی ، تھوڑے فیملی رُولز ، تھوڑی با قاعدگی اور نظم و ضبط! حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ پہلے دس برس بچوں کے غلام بنے رہو ……… اگلے دس برس اُن کے ماسٹرز !

اپنا تبصرہ بھیجیں