دو تصویریں ، دو روئیے – زبیر منصوری




کلفٹن کنٹونمنٹ ہیڈ آفس کے ایم سی ہیڈ آفس ، ایک جگہ مغرور افسر ………. دوسری جگہ عوامی نمائندہ ………. ایک جگہ سلیم وٹو سی ای او ………. دوسری جگہ سٹی ناظم نعمت اللہ !
پہلی تصویر!
سی بی سی کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہیں چار گھنٹے سے اپنے ہی ملازم سی ای او سے ملنا چاہتے ہیں اپنی فریاد سنانا چاہتے ہیں ……. پڑھے لکھے پرامن لوگ ہیں . مگر دروازے بند ، پولس اور گارڈ باہر، اور سی ای او واش روم کا بہانہ کرکے مسلسل غائب
دوسری تصویر!
نیا نیا سٹی ناظم منتخب ہوا ہے اور لیاری کے بیسیوں مظاہرین کو کوئی کے ایم سی ہیڈ آفس پر چڑھا لایا ہے ناظم اور راقم اکیلے ہیں سارا اسٹاف ایم کیو ایم کا اور ہم سے سخت ناراض ۔ خاموش تماشائی بن گیا ۔ “اڑے ناظم کو باہر نکالو نی ۔ ام کو پانی دیو ” کا شور اور وہ آخری دروازے کو ہلا کر توڑنا چاہتے ہین کہ نعمت صاحب آواز سن کر کہتے ہیں انہیں میرے پاس آنے دو ،”نہیں نہیں خاں صاحب یہ بہت مشتعل ہیں پولس بلائیں جلدی “ ، “شفیقِ شہر “مسکراتے ہوئے کہتا ہے “بس بلا لو میرے اپنے ہی ہیں “
دروازہ کھلتا ہے ریلہ اندر بڑے ہال نما کمرے میں ، مگر وہاں اپنے باپ کی عمر کے بزرگ کو سامنے پا کر شور اور غصہ آدھا ہوجاتا ہے .خاں صاحب کی پاٹ دار آواز گونجتی ہے دیکھو بھئی میں تمہاری بات سنوں کیسے ؟ اپنے کوئی تین نمائندے بناؤ وہ بتائیں مسئلہ کیا ہے؟ نمائندے مسئلہ بتاتے ہیں ، نعمت صاحب کہتے ہیں کل تمہاری بستی میں خود آؤں گا “ اڑے سب وعدے کرتے ہیں آتا کوئی نہیں “ایک بڑبڑایا وہ مسکرا کر بولے “اور تو پتہ نہیں میں کل آؤں گا” ، سب کو ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا .
کچھ دیر بعد وہی لوگ “ملا نعمت اللہ زندہ باد” کے نعرے لگاتے واپس ……. اگلے دن نعمت صاحب ان کی بستی میں ، تین ماہ بعد مسئلہ حل …… ! (کونسی تصویر دلکش اور دل آویز ہے ؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ ……..! )

اپنا تبصرہ بھیجیں