حق و باطل کی واضح لکیر – سمیرا غزل




الحمد للہ ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی ، جہاں بچپن ہی سے تمام مسلمانوں سے محبت کرنا سکھائی گئی . چاہے وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں ۔ اسی طرح امی ، ابو ، بھائی جو کہ خود جماعت اسلامی سے وابستہ رہے . انھوں نے ہمیں تمام مسالک کا احترام کرنا سکھایا ۔ الا یہ کہ کوئی اسلام کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہو یا جس کی بنیاد میں نقص ہو۔
یہ تو ہمیں بڑے ہو کر سمجھ آیا کہ ہم جماعت اسلامی والے بہت سے لوگوں کے ویسے دل کے قریب نہیں ہیں ……. جیسے ہم نے سب کو دل میں جگہ دی ہوئی ہے ۔ اسکول میں ایک لڑکی جو ہمیں بہت اپنی اپنی سی لگتی تھی ، کیوں کہ وہ بھی وہی ترانے پڑھتی تھی ، جو ہم پڑھتے تھے . وہی نظمیں سناتی تھی جو ہم سناتے تھے، مگر ایک دن حیرت کا شدید دھچکا لگا . جب اس نے نعوذ باللہ “مودودی رح کے متعلق کہا کہ “وہ بھٹکا ہوا انسان تھا” . بالکل یہی لب ولہجہ تھا ، محترمہ کا انھی کے انداز میں نقل کرنے کی وجہ محسوس کرانا ہے گو کہ ایسے لکھنا بھی میرے لیے تکلیف دہ امر ہے ۔ اللہ پاک ہمارے مرشد پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے آمین ۔ بس اس وقت دل بہت دکھا اور وہ محترمہ بھی دل سے اتر گئیں ۔ ہم چھوٹے تھے مگر کوشش رہی کہ کسی طرح مناسب الفاظ میں جو سمجھا سکیں سمجھا دیں . مگر وہ سمجھنے والی نہیں تھیں تب سے ایک لکیر ہم دونوں کے بیچ آگئ۔یہاں ان کے مسلک کا ذکر نہیں کریں گے کہ اس پوسٹ کا مقصد تعصب نفرت یا تنگ نظری پھیلانا ہر گز نہیں ہے۔
مگر ایک بات کہنی ہے کہ حق اور باطل کے معاملے میں ایک واضح نظریہ لازمی ہونا چاہیے . سچ کسی بھی اجتہادی یا قیاسی مسئلے کی نظر ہر گز نہیں ہوجانا چاہیے . حق اور باطل کے بیچ جو واضح لکیر ہے . اگر اسے دھندلانے کی کوشش کریں گے تو امت مسلمہ میں فتنے رونما ہوتے رہیں گے۔ جس طرح یزیدیت اور حسینیت کا فرق بالکل واضح ہے، ایک مصلح ہے تو دووسرا بگاڑ کا باعث اب کسی کی جان سنگ دلوں کے حوالے کر کے جان لینے کے بعد آپ کسی کو سرزنش کریں یا افسوس کریں تو بہرحال اس سے آپ اپنا مقام بربریت تبدیل نہیں کر سکتے۔ لہذا کم از کم امام حسین رضہ اور یزید کے حوالے سے ظالم اور مظلوم کے واضح فرق کو علی الاعلان تسلیم کرنا ہی دراصل امت مسلمہ کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ عہد کرنا بھی ضروری ہے کہ ہم صرف ہر سال لعن طعن کر کے یا چند جملے کہہ کر خاموش نہیں ہوجائیں گے بلکہ اپنے باطن کے یزید کی بیعت توڑ کر حسینیت کا علم اٹھا کر نظام بدلنے کی کوشش بھی کریں گے دامے درمے سخنے اس ضمن میں جو کوشش ہم کرسکیں گے کریں گے۔
اس بیانیے کا مطلب انتشار یا افتراق پھیلانا نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ عناصر پیدا ہی نہ ہونے دیے جائیں جو امت مسلمہ کو توڑنے کا باعث بنیں۔ جیسا کہ سید قطب شہید نے مصر کے جمال عبدالناصر کے متعلق جواب دیا تھا۔ہم چاہتے ہیں کہ امام حسین رضہ کی فکر کسی رعایتی ذہنیت کی نظر نہ ہوجائے اور وہ واضح لکیر جو حق اور باطل کے بیچ انھوں نے کھینچی تھی قائم رہے اور ہم ایک مضبوط امت کے قیام کی بنیاد ڈال سکیں۔انشاء اللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں