ایمانداری کی پروڈکٹ – زبیر منصوری




کھانے کی دعوت کے دوران میں انہماک سے ان کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور وہ برف سی سفید داڑھی اور بھنووں والا بھلا آدمی بول رہا تھا، اس کی آنکھوں میں جذبوں کی گرمی سے بھرتی نمی صاف محسوس ہو رہی تھی
وہ کہنے لگا میں ایک بار اسٹیل مل کی اس کمیٹی میں تھا ، جسے دو لاکھ پودوں کی شجر کاری پر نظر رکھنی تھی . ٹھیکیدار ظالم ایک پودے کی قیمت دو ہزار بتا رہا تھا اس نے سب کو حتی کے مارکیٹ کی نرسری والوں تک کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا مگر ہم نے وہی پودا اسے 50 روپے میں دلوا کر لگوایا تو وہ غصہ میں اپنی انگلیاں کاٹنے لگا ، مگر آخر اس نے بدلہ لیا اور پودے تولگا دئیے. مگر ان کا ابتدائی خیال رکھنا انہیں پانی دینا چھوڑ دیا . قوم کے پیسے برباد ہوتے ہم نہ دیکھ سکتے تھے . آخر میں اور میرے ساتھی نےعجیب فیصلہ کیا ۔ وہ لمحہ بھر کو رکا ٹشو سے آنکھوں کی نمی صاف کی اور جھکی آنکھوں کے ساتھ بولا …….. ہم صبح پانی کی بوتلیں بھرتے اپنی ہائی رؤف میں رکھتے اور کئی کلو میٹر طویل روڈ پر ان پودوں کو پانی دیتے۔
کوئی پودا گرنے لگتا تو پیار سے اسے سہارا دے کر کھڑا کرتے کہ نہیں تمہیں تو ابھی تادیر سایہ دینا ہے۔ پورے تین مہینے ہم نے یہ عجیب سی ڈیوٹی دی اور بالآخر وہ پودے جڑ پکڑ گئے اور آج میں انہیں گھنے سایہ دار درخت پاتا ہوں تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ وہ بولا کرنل افضل نے ہم سے شدید اختلافات کے باوجود ہمیں ہی بلا کر پیشکش کی کہ میں صرف آپ پر بھروسہ کرکے یہ زمین دے سکتا ہوں اس پر ہاوسنگ سوسائٹی بنائیں اور ایمانداری سے لوگوں کو فروخت کر دیں ۔ میں اس کی مخلصانہ باتیں سن رہا تھا ایمانداری دیانت قومی وسائل کے لئے مندی سبھی کچھ تو تھا جماعت اسلامی کے اس خدائی خدمت گار کے پاس …….!
پھر میں نے ان سے کہا میرے محترم ! ایمانداری کی جو پروڈکٹ آپ کے پاس ہے . بدقسمتی سے مارکیٹ میں اس کا کوئی گاہک ہی نہیں ہے اس لئے کہ آپ کے دودھ والے سے لے کر آپ کے حاکموں تک سب خود چور ہیں اب بھلا آپ سائبیریا میں اے سی بیچیں گے تو کون خریدے گا ؟ آپ ایماندار رہیں کہ اسے آپ نے اپنے رب کو پیش کرنا ہے . وہاں صرف یہی پروڈکٹ قابل قبول ہو گی ، مگر یہاں جائزہ لیں کہ ان لوگوں کو کیا چاہئیے؟ ان کی دور کی نظر کمزور ہے انہیں بس اپنے مسئلے نظر آتے ہیں آپ ان کا روایتی نہیں تفصیلی حل پیش کر کے ان تک موثر ڈھنگ سے متاثر کر دینے والے اسلوب کے ساتھ پہنچا دیں ان کو بس وہی پروڈکٹ بیچیں تا کہ یہ قوم متوجہ ہو۔ وہ خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے .
میں نے سوچا شاید مین نے اپنی پروڈکٹ بھی غلط جگہ بیچ دی ہے . مگر انہوں نے اثبات میں گردن ہلا دی ۔ امید ہے میری پروڈکٹ بک گئی ہو گی ۔ چنانچہ میں نے ایک اچھی سی بوٹی ان کی پلیٹ میں ڈالی اور کہا ، چلیں سب چھوڑیں یہ تو چکھیں ذرا اور وہ بھلے آدمی بوٹی کی طرف متوجہ ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں