یہ بھی صدیوں کا قصہ ہے – افشاں نوید




اچھے گزر رہے ہیں روز وشب …….. عید قرباں کا گوشت عاشورہ تک چلتا ہے …….. دعوتیں بھی , حلیم پارٹی بھی ۔ جب گوشت کچھ سرمئی سا پڑنے لگتا ہے ذائقہ کھونے لگتا ہے تو ماسیوں کو مزید “صدقہ” کر دیا جاتا ہے ۔ باربی کیو سے مٹن کڑھائی اور قورمے بریانی , ایک دودفعہ تو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑگیا پتہ چلا اوور ایٹنگ ہوگئی ۔ پھر دال سبزی پہ آگئے۔
اب محرم کی رونقیں , ایسی ویسی سارا دن گلی کے کونے پر بجتے ڈیک نوجوانوں کا رش ۔ کبھی شربت کے سبز گلاس , کبھی سرخ , کبھی مٹیالا سا شائد لیموں پانی ۔ گلی گلی لنگر,مجلس۔۔ پتہ چلتا ہےزندہ دلوں کی بستیاں ہیں,خوشیوں غموں میں درودیوار بھی شریک ہوتے ہیں ہمارے۔کل سے یہ سرگرمیاں کم ہوں گی تو عید میلاد کی تیاری …… ایک جشن کے سب سامان۔پھر ایسے ہی ڈیک پر نعتیں,شامیانے سیاہ کی جگہ سبز ہوجائیں گے۔ جھنڈے سیاہ کے بجائے سبز لہرانے لگیں گے ۔ ابھی تو جشن آزادی منا کر بیٹھے ہیں۔وہ پرچموں کی بہار تھی کہ چوک چوراھے چھپ گئے تھے۔ ایک سال میں کئی کروڑ تھانوں کے ہم جھنڈے بناتے ہیں مختلف تہواروں کے۔ چودہ اگست کے اگلےدن پرچم لپیٹ لیے اور انکے بیچ حب الوطنی بھی ۔ اب اگلے چودہ اگست کو ہی کھلے گا صندوق تو پرچم بھی برآمد ہوگا اور حب الوطنی بھی ۔ ذرا سیلن سی آجاتی ہے دونوں پر ایک دھوپ سے چلی جاتی ہے وہ تو ۔۔۔۔۔
ہاں ابھی حلیم کے سلسلے ہیں ۔ یہ شربت , نیاز , حلیم , انکا عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہماری امی بہت اہتمام سے حلیم بنواتیں ۔ دس محرم کو دودھ اور بادام کا شربت , بارہ وفات کو پلاؤ بنواتیں ۔ محلہ پڑوس کو بھی شریک کیا جاتا ان خوشی غموں میں ۔ ویسے ہمارے ہاں شب براءت کا حلوہ بھی اہتمام سے بنتا چار پانچ طرح کا۔ایک ایک ٹکیہ سب رنگوں کے حلوے کی اہتمام سے زردوزی کے خوان پوش سے ڈھک کر محلہ کی خالاؤں کے ہاں بھیجی جاتی ۔ ہماری سادہ سی امی دلیل یہ دیتیں کہ آپا (ان کی والدہ) بھی ایسا ہی کرتی تھیں ۔ سیدھے سادھے لوگ تھے خوش رھنے خوش رکھنے والے۔ اب کسی کے گھر سے چنے کا پلاؤ , کسی کے گھر سے الائچی والا دودھ کا میوے تیرتا شربت , کسی کے گھرسے زردہ , کسی کے گھر سے حلیم آتا تو کیا کہنے ۔ ویسے سب سےزیادہ خوشی حلیم آنے کی ہوتی ۔
دودن عاشورے کے محلہ میں ان لین دین کی رونقوں کے ساتھ گزر جاتے ۔ رجب کی رونقیں ہم ایک الگ کالم میں بتا چکے ہیں ۔ روزے کی بہاریں بھی ان گلی محلوں سے جڑی تھیں ۔ خاص مواقع پر بچھڑے یاد آتے ہیں تو بہت کچھ یاد آتا چلا جاتا ہے۔ شائد برصغیر میں عرصہ ہاۓ دراز ہندو مسلم ایک محلوں میں رہے تھے ، اس لیے مسلمانوں نے بھی یہ رونقیں چرا کر کچھ رنگا رنگی پیدا کر لی دین میں ۔ یہ بھی صدیوں کا قصہ کہانی ہے ……… دوچار برس کی بات نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں