انسان ایسے بھی جیتے ہیں – زبیر منصوری




کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پر مظاہرے کی ویڈیو ز دیکھئیے!
لوگ جمع ہے …… غصہ ہے ……. نفرت ہے ……. نعرے ہیں …….. لوگ دیوار پھلانگ کر اندر جا پہنچے ہیں
مگر پولس کمال بااخلاق ہے دیکھئیے یون نہ کرین یو ں کریں ایسا کرین یہ قانون وہ قانون کمال کی تہذیب اور شائستگی ہےسمجھانا بجھانا نرمی ہے
فرض کیجئیے یہی مظاہرہ اورنگی ، کورنگی اور مچھر کالونی میں ہوتا ……… ٹوٹی چپلوں اور پرانی شرحوں والے بائیکوں پر آئے ہوتے تو جوتے مار مار کر ان کا بھر کس نکال دیا گیا ہوتا ! ہوتے کون ہیں یہ کیڑے مکوڑے …….. معمولی فٹ پاتھئیے ! مالکان کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہڈیاں ایسے توڑو کہ جڑنے کی بھی نہ رہیں ۔ مظاہرہ آدھے گھنٹے میں ختم۔
اور شکر ہے اے دیار امرا کے ساکنو……. ! تمہیں پتہ تو چلا کہ جن حالات مین تم تین دن نہ گزار سکے ان مین تم جیسی آنکھ ناک کان والے تین صدیوں سے زندگی گزارتے ہیں . بڑے گھر گارڈ جنریٹر صاف محلات زندگی کی ہر آسائش مگر سب اللہ میاں کی ایک معمولی بارش سے بے قیمت اور برابر اور پہلی بار تم بھی مظاہرہ کرنے سڑک پر …….. ! خیر ہم پل کے اس پار جینے والے کمی مزارعوں کی دعا ہے کہ تمہارا جہان آباد رہے مگر جب کبھی اس مشکل سے نکلو تو ایک چکر ہماری بستیوں اسپتالوں اور گلیوں کا بھی لگا لینا تاکہ جان پاو کہ انسان ایسے بھی جیتے ہیں
تاکہ شکر کا جذبہ لے جاو ……. تاکہ دل اور نرم پڑ جائے ……. تاکہ یہ جان سکو کہ جبر کے جس نظام کو تمہاری کلاس نے ہم پر مسلط کیا ہوا ہے وہ ہوتا کیا ہے ۔ تیرا جہان آباد رہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں