حجاب عورت کے تحفظ کا آئینی قلعہ – زرافشاں فرحین




عورت ایک لطیف و نازک حقیقت ہے ۔ مظہر زیبائش و آرایش ہے۔ اسی لئے جب فتنہ و فساد سے روکنا مقصود ہو تو اس کو حجاب کے لئے کہا گیا۔جو مظہر حسن و جمال ہے اسکی حفاظت مقصود ہے ۔ جو شئے جتنی نایاب اور قیمتی ہوتی ہے اسکی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے عورت جسکے معنی ہی چھپی ہوئی “کیوں؟ اسلئے کہ یہ اللہ کی بہت قیمتی اور نازک مخلوق ہے
ایک معمولی سے پھل کیلے ، انناس ناریل ، انار کو ہی دیکھ لیں …… غلاف سے چھپا کر محفوظ کردیا گیا . ورنہ لمحوں میں اپنی تازگی کھودیتا ہے تو یہ گراں مایہ مخلوق جسے کہتے ، عورت کیسے بے حجاب محفوظ رہتی . اسی لئے قدرت نے ایسا نظام وضع کیا جو حجاب دیکر عورت کو تحفظ وعزت کا دائمی حصار عطا کرتا ہے . فحاشی و عریانیت کے اس تباہ کن دور میں تو اسکی اہمیت اور بڑھ گئی ہے. آزاد اور بے حجاب معاشرے میں جنسی جرائم کا تناسب عصمت دری کے واقعات متقاضی ہیں کہ ایسا نظام نافذ ہو جو ان تمام مسائل کا حل دینے والے ہوں …… یعنی اسباب فتنہ کو ختم کیا جائے . قرآن میں مومن عورتوں کے لئے تین حکم بیان کئے گئے ہیں…….
۱۔ یغضضن من ابصارہن ۔ نگاہیں نیچی رکھیں۔
۲۔ یحفظن فروجہن ۔ شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
3۔ لا یبدین زینتہن ۔ بناؤ سنگھار کو نا محرموں پر ظاہر نہ کریں۔
اور اس سے پہلی والی آیت یعنی سورہ نور کی تیسویں آیت میں مردوں کے لئے یوں کہا گیا ہے :
(قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ۔۔۔)
“اے رسول ….! مومنین سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”
اس سے ظاہر ہے کہ پہلے حکم میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں اور تیسرا حکم ایسا ہے …… جو صرف عورت سے مخصوص ہے۔ لہٰذا پابندی صرف عورت سے مخصوص نہیں رہ گئی بلکہ مردوں کا بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔پردہ عورت کے لئے آئینی قلعہ ہے ۔ یہ اشارہ ہے بد فطرت نظر سے عورت کو دور رکھنے کا یہ اشارہ ہے کہ اس چادر کے اندر صرف صورت ہی نہیں بلکہ سیرت بھی ہے ۔ بے پردہ عورت ارادی یا غیر ارادی طور پر اپنا نسوانی مال و متاع دکھا کر چوروں اور ڈاکووں کی توجہ کھینچتی ہے۔ وہ دکھاتی ہے کہ وہ کالی ہے یا گوری ، جوان ہے یا بوڑھی ، حسین ہے یا بد شکل ، اسی طرح وہ کسی کے بھی جال میں پھنس سکتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پردہ ایک مسلم عورت کا مخصوص لباس ہے ۔ یہ عالمگیر مسلم خواتین کا مشترکہ یونیفارم ہے حقیقت یہ ہے کہ تمام مذہبوں اورتمام تہذیبوں میں اسلام ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے اپنی بیٹیوں کے لئے ایسا یونیفارم پیش کیا جس کی نظیر آج تک نہ مل سکی اور نہ آیندہ مل سکے گی ۔
دوسرا مسئلہ جو عرصہ دراز سے نام نہاد روشن فکروں کی طرف سے اٹھایا جاتا رہا ہے کہ اسلام میں عورت کو محدود کر کے رکھا گیا ہے ۔ اس کی آزادی کو چھین لیا گیا ہے ۔ اور اس کے حقوق کو پامال کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ جبکہ تاریخ کے معمولی سے شعور رکھنے والا انسان بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف یہ کہ حقوق نسواں کو پامال نہیں کیا ہے بلکہ اس نے خواتین کو عزت و وقار سے نوازا ہے ۔ ورنہ آج کے نام نہاد روشن فکروں کے برخلاف کل کے نام نہاد روشن فکر اسلام سے پہلے لڑکی کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور انہیں یہ بھی خیال نہیں آتا تھا کہ یہ میری اولاد ہے ۔ یعنی کل تک کے روشن خیالوں کی عقلوں پر پڑا ہوا پردہ آج بھی برقرار ہے۔
آج کی عورت کی بے حجابی کو ترقی و روشن خیالی سے تعبیر کرکے جس فکر کو پروان چڑھایا گیا ہے . اسکے بھانک نتائج پے در پے ہونے والے عصمت دری کے واقعات ، رشتوں کے تقدس کی پامالی کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں . مغربی معاشرے کی عورت بھی آج بے سکون اور بے وقعت ہوکر اسلام کے نظام عفت و عصمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے . جہاں حجاب نے خاتون کو انمول اور باوقار بنادیا . حجاب ایک تحفظ کا ایسا حصار ہے ، جو ہر اعلی طبقے کی خواتین کا ہر مذہب میں طرہ امتیاز رہا ، جو انہیں سب سے ممتاز کرتا ہے . اس تناظر میں باشعور ذمہ دار طبقے کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں . جن کی ادائیگی ناگزیر ہے .
خاندان پہلی درس گاہ ….. اپنی اسلامی اخلاقی روایات کو نئی نسل میں منتقل کریں رشتوں کا احترام ، خواتین کی عزت سکھائیں . ماں … نسل نو کی محافظ …. اپنی اولاد کی تربیت اپنے کردار سے کرتی ہے . وہ خود جتنا اپنے لباس و انداز میں محتاط ہوگی . اولاد اتنا ہی حیا و شرم سیکھتی ہے . زرائع ابلاغ جو آج پورے معاشرے کی ذہن سازی کرتے ہیں …… وللہ! اپنی اعلی مشرقی اقدار یاد کریں . ڈراموں اشتہارات اور اخبارات میں خاتون کو بے حجاب بے وقعت نہ کریں ، جسکے نتیجے میں پھول جیسی زینب اورعیوض نور کے جنازے اٹھتے ہیں . آپ اور میں سب سے بڑے ذمہ دار ہیں . سوشل میڈیا پر اپنی اور اپنی خواتین کی بے حجاب تصاویر ویڈیوز لگا کر خود کو تماشا نہ بنائیں.
حجاب نہ ہوتوعارض ورخسار سب غلط
خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گئے
عالمی یوم حجاب 4 ستمبر ، مروہ الشربینی شہید حجاب ، جو جان سے گزر گئیں مگر اپنی حیا اور حجاب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا . یہ دن ہے جو یاد دلاتا ہے ……. حجاب میں حیات…. حجاب میں وقارہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں