نبیﷺ کے صحابہ ستاروں کی مانند – ثمن عاصم




اصحابِ رسول صلی الله عليه وسلم سے محبت ہمارے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے ۔ چاہے وہ صدیق اکبر ہوں یا عمر فاروق ، عثمان غنی ہوں یا حیدر کرار ، ابوہریرہ ہوں یا ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جس نے بھی میرے نبی محترم صلی الله عليه وسلم کے ہاتھ پر بیعت لے کر تسلیم کرلیا کہ الله رب العالمین واحد ہے اور نبی اکرم صلی الله عليه وسلم خاتم النبیین ہیں ہمارے لیے وہ ہمارے ماں باپ سے بڑھ کر ہے۔
ہمارے لیے ہمارے صحابہ چمکتے ستاروں کی مانند ہیں ہمارا ایمان ہے ہم انکی پیروی کر کے فلاح پا سکتے ہیں ۔ ہم میں سے کوئی احد پہاڑ کے مثل سونا بھی صدقہ کر دے تب بھی ہمارا صدقہ اس کھجور سے کمتر ہے جو کسی صحابی رسولﷺ نے الله کی راہ میں دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ میں وہ صدیق اکبر رضی اللہ شامل ہیں کہ جنہوں نے اسلام اس وقت قبول کیا جب اپنے پرائے اسلام کی حقانیت سے بے خبر تھے ، وہ عمر رضی اللہ شامل ہیں جن کے قبول اسلام کی دعا خود نبی صلی الله عليه وسلم نے مانگی، وہ عثمان رضی اللہ شامل ہیں جنہوں نےاپنی دولت اسلام کی تر ویج کے لیے اس طرح خرچ کی کہ آج بھی مدینہ میں موجود باغ عثمان غنی آپ کی سخاوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
علی کرم الله ہیں جو آپ صلی اللہ کے اشارے پر درہ خیبر کو اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ ایمان کی تکمیل یہ نہیں کہ پانچ ارکان اسلام ادا کر لیں بلکہ ایمان کی تکمیل یہ ہے کہ رسولؐ جو دیں وہ بنا کسی کجی کے لے لیں۔اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ “میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ انکی زندگی ایک گھڑی جو انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری تمہارے عمر بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔”
نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جو ان پاک باز ہستیوں کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں اور انکا دل نہیں کانپتا وہ ان پر تبرا کرتے ہیں یہ جانے بغیر کے ان کی اس حرکت پر روز محشر وہ نبی پاک کی ناراضگی کا سامنا کریں گے ان کی یہ حرکت ان کے اعمال تو برباد کرے گی ہی مگر ہمارے لیے بھی باعثِ تکلیف ہے۔ہمارے دل غم وغصے سے بھر جاتے ہیں جب کوئی صحابہ کرام رضی اللہ کے بارے میں کوئی نامناسب بات کرتا ہے ۔
یہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا کہ تم کچھ کہہ دو اور جواب میں ہم کچھ کہہ دیں یہ معاملہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے،اور جہاں ایمان آجائے وہاں کچھ سر پھرے ہوش سے کام نہیں لیتے۔ حاکم وقت کو چاہیے کوئی ایسا اقدام اٹھائے کےکسی سر پھرے کو کوئی قدم نہ اٹھانا پڑے کیونکہ ہمارے نبیؐ کی تعلیمات ہمیں ہمیشہ امن کا اور صلح کا درس دیتی ہیں ۔
ہم امن اور صلح کا پیغام عام کرنا چاہتے ہیں مگر اگر بات ہمارے ایمان پر آئے گی تو کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں