میری چادر میرا وقار _ زینت کریم




نازیہ ۔۔۔۔ کل کیوں نہیں آئیں تھیں , برتنوں کا ڈھیر بارش کے موسم کی وجہ سے گھر کی صفائی ۔ سب مجھے کرنا پڑی ۔۔۔۔۔۔۔ ماسی کے آتے ہی فائزہ اس پر برس پڑی۔
ارے فائزہ بی بی , پرسوں شام جب میں کام پر سے واپس جارہی تھی بارش کی وجہ سے کپڑے بھیگ گۓ ۔ کپڑے تو چلو کوئی مسلہ نہیں لیکن چادر کا کیا کرتی وہ تو بالکل بھیگ گئی تھی ۔ صبح تک نہیں سوکھی میں کیسے آتی؟
ارے یہ کیا نازیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا دن کام کرتی ہوں اور یہ چادر وادر کا کیا ٹنٹا پال رکھا ہے ۔ ارے بی بی درس والی باجی نے بتایا ہے کہ بے پردہ عورت جب باہر نکلتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور میرا شوہر بھی یہی کہتا ہے کہ چادر ہی سے عورت عزت دار لگتی ہے ۔ عورت کی عزت اس کے چھپے رہنے میں ہے ۔ دوسرے کمرے میں بیٹھی فائزہ کی بھابھی انیلا بھی یہ باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوچوں میں گم ہوگئی کہ نازیہ کی باتیں سچ تو ہیں
ہمارے مذہب کی تعلیم بھی تو یہی ہے چادر اور چار دیواری والا محاورہ تو بہت سنا ہے مگر اس کی گہرائی میں نہیں گئے ۔ عورت تو مستور ہے چادر ہی میں وہ باوقار لگتی ہے ۔ پردے میں چھپی عورت بھی مردوں کی نظروں میں عزت دار ہوتی ہے ۔ ارشد کمرے میں داخل ہوئے اور انیلا کو سوچوں میں گم پایا تو بولے کیا سوچ رہی ہو ؟ کہیں میری جیب تو خطرے میں نہیں ۔۔۔۔۔۔ ! ارے نہیں ارشد آپ فکر نہ کریں ابھی میرا شاپنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ شام کے چار بج چکے تھے , فائزہ آوازیں دیتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی ۔
بھابھی آج کا پروگرام بھول گئی کیا آج تو ہمیں گروسری کے لۓ جانا تھا پھر آئسکریم انجوائے کرنا ہے فائزہ ۔۔۔۔۔۔۔ دل تو نہیں چاہ رہا مگر گروسری کے لیے جانا بھی ضروری ہے ۔ ارشد بھی اسی وجہ سے جلدی آ گئے ہیں ۔ چلو پندرہ منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں یہ تینوں جب سپر اسٹور پہنچے جو شہر کا سب سے بڑا سپر اسٹور ہے انیلہ نے دیکھا اسٹور کے انٹرنس پر دو گارڈ کھڑے تھے ۔ جو لوگوں کو باری باری اندر جانے دے رہے تھے ۔
دو بہت ماڈرن خواتین خوشبوؤں میں بسی ہوئی سلیؤلیس شرٹ پہنی , جن کے ساتھ دو جوان لڑکیاں ٹی شرٹ اور جینز پہنی ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے برابر سے گزریں تمام لوگوں نے خصوصاً مردوں نے انہیں عجیب نظروں سے دیکھا اور ایک دوسرے کو اشارے کیے خواتین نے بھی ان نظروں کو محسوس کیا مگر بہت فخر کے ساتھ اسٹور میں داخل ہوگئیں ۔ ان کے پیچھے تین خواتین عبایے میں آہستہ قدموں سے اسٹور کے دروازے پر پہنچیں انیلہ اور فائزہ یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ
انہیں گارڈز نے جو ماڈرن خواتین کے داخلے کے وقت اپنی جگہ جم کر کھڑے ہوئے تھے , فورا عباۓ والی خواتین کے لیے اس طرح راستہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے وہ کوئی منسٹر ہیں بلکہ ادب سے اپنی آنکھیں بھی جھکا لیں انیلا نے آہستہ سے فائزہ کا ہاتھ دبایا اور اس کو متوجہ کرتے ہوئے کہا
فائزہ تم نے عباۓ والی خواتین کی عزت نوٹ کی ہم دونوں نے نہ چادر لی ہوئی ہے نہ عبایا نہ معلوم یہ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے ۔ ارشد بھی سر جھکا کر اسٹور میں داخل ہوتے ہوئے ان دونوں کی گفتگو سن رہے تھے ۔ اسٹور میں بھی ان لوگوں نے ان دونوں قسم کی خواتین کے ساتھ سیلز مین کا رویہ نوٹ کیا اور دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی رہیں فائزہ نے بھابھی کے کان میں سرگوشی کی ۔
بھابی چلتے ہوئے برابر والے شاپنگ سینٹر چلیں گے کیوں کیا لینا ہے ارشد نے ٹوکا بھائی اب ہم بھی عبایا لیں گے ہم نے بہت اللہ کی نافرمانی کر لی اب اللہ نے ہمیں سمجھا دیا ہے کے عورت کا وقار اور عزت اس کے پردے میں پوشیدہ ہے یقینا بے پردہ عورتوں پر فرشتوں کی لعنت ہے نازیہ کے شوہر نے بالکل صحیح کہا کے چادر میں ہی عورت عزت دار لگتی ہے اور یہی ہمارے مذہب کی تعلیم بھی ہے ۔
ارشد دل ہی دل میں بہت خوش ہوئے کے بہن انیلا اور فائزہ کو خود ہی چادر کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا وہ انہیں خوشی خوشی شاپنگ سینٹر لے گئے ۔ آج انھیں اپنی جیب کا خرچ بھی بھاری نہ لگا ۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں