مکار عورتیں – ڈاکٹرعزیزہ انجم




پاکستان میں میڈیا کے توسط سے عورتوں کی ایک نئی قسم متعارف کی جارہی ہے . مکار عورتیں ……… سازشی عورتیں ۔ گھر اجاڑنے والی اور گھروں میں آگ لگانے والی عورتیں . عورت ماں ہے ، بیٹی ہے ، بہن ہے ، بیوی ہے ، ساس اور بہو ہے ۔ بھاوج اور نند ہے ۔ معاشرتی تعلقات کی دنیا انہی رشتوں پر قائم ہے ۔
اپنے دل پر ہاتھ رکھیں اپنے آپ کو آئینے میں دیکھیں ۔ کیا بہن سگے بہنوئی کو کہ سکتی ہے میری بہن کو طلاق دو ابھی اسی وقت اور مجھ سے شادی کرو ۔ کیا ہم اپنی بھاوجوں کو طلاق دلوارہے ہیں ۔ الام لگا رہے ہیں ۔ میاں اپنی بیوی کو زوردار تھپڑ مار رہا ہے ۔ گھر سے ہاتھ پکڑ کر نکال رہا ہے ۔ جاہل نہیں پڑھا لکھا تعلیم یافتہ مرد ۔ یہ ہماری تصویریں ہیں جو ساری دنیا میں ٹی وی کے ذدیعے ہر ڈرامے میں دکھائی جارہی ہیں ۔ بیٹی ماں باپ کی عزت کی دھجیاں بکھیر رہی ہے ۔اتنی مکار اور سازشی عورتیں اگر ہیں تو کتنے فی صد ہیں ۔ہم عورتیں اتنی گر گئی ہیں اور کیا یہ سب دکھانے سے معاشرہ سدھر جائے گا ۔ ہم نے تو جان چھڑکنے والی نانیاں دادیاں دیکھیں ۔چاہنے والی چچی خالہ اور پھوپھیاں دیکھیں۔ مسئلے تھے اس سے انکار نہیں ۔ہلکی پھلکی گھریلو سیاست بھی تھی لیکن سب پر محبت غالب تھی ۔
معاشرے کو بہتر بنانے کےلئے مثبت محبت کرنے والے نیک کردار دکھانے چاہئے ۔ خلوص اور نیکی کے رویے دکھانے چاہئے ۔ہم جو دیکھتے ہیں وہ کرتے ہیں ۔ہمارا شعور اس سے اثر قبول کر تا ہے ۔ہمارے لاشعور میں اس کا نقش بیٹھ جاتا ہے ۔ دنیا کو مزید برباد کرنے کے بجائے اسے بہتر بنانا ہے اور اس لئے اچھی تصویر دکھانا بہت ضروری ہے ۔ساتھ ساتھ خوف خدا اور خوف آخرت بھی لازمی ہے ۔کبھی اس طرف بھی توجہ دی جائے .

اپنا تبصرہ بھیجیں