کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات! – زبیرمنصوری




عزیز بہنو ، بیٹیو ! خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لو ………
وہ شدید گرمی میں ایک دکان کے باہر چادر تان کر سایہ کئے بیٹھا تیز ہاتھوں سے برش کو گاہک کے جوتوں پر رگڑ کر انہیں چمکا رہا تھا. میلے پرانے کپڑے ،پسینے کی بو اور نشانات اور کالے ہاتھ …….”اندھے ہو ؟ نظر نہیں آتا ؟ سارا پائنچہ گندا کر دیا ”

غلطی سے اس کا ہاتھ گاہک کے سفید پائنچے سے جا ٹکرایا تھا ۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا ، مگر پھر سر بازار اس توہین پر خاموش ہوگیا . اس نے آج بیوی سے انڈے والا برگر لانے کا وعدہ جو کیا تھا . اسے معلوم تھا گاہک سے جھگڑا کیا تو پیسے بھی جائیں گے اور دکاندار ٹھیہ بھی اٹھوا دے گا . وہ معاف کرنا کہہ کر پھر رگڑنے میں لگ گیا ۔ شوہر معاشرے کے جبر سہتا ہے ……. ذلت برداشت کرتا ہے . باتیں سنتا ہے آنے والے کل کے لئے سوچتا ہے ، بارش ہو جائے تو پانی سے بچنے کی فکر ،بچے کی طبیعت خراب ہو تو دواکے اخراجات کی پریشانی ،عید ہو تو چھوٹے کی شرٹ اور بیٹی کا میچنگ دوپٹہ مگر گھر کے اس سربراہ کے لئے اکثر کچھ نہیں بچتا تو وہ تین سال پرانے سوٹ ہی کو “ابھی نیا ہی تو ہے “کہہ کر گزارہ کر لیتا ہے ، رشتے نبھانا اور خاندان چلانا معاشرے اور دنیا کے سارے جبرسہنا اور چپ رہنا اور پھر کبھی اپنی بیوی کی آنکھوں میں اپنی گاڑی اور اپنے گھر کی خواہش پڑھ کر وہ پنا سکھ عزت وقار کسی عرب کفیل کے پاس گروی رکھتا .

اور برسوں امارات کے تپتے صحراؤں کے خیموں میں بیوی بچوں کی تصویروں کو سینے سے لگائے خود کو مار لیتا ہے . بوڑھا اور بیکار ہو کر واپس لوٹتا ہے۔ یہ مرد اور شوہر وہ شخص ہے جو بچہ ہوتا ہے تو بہنوں سے شرارت پر ماں سے ڈانٹ سنتا ہے ذرا بڑا ہوتا ہے تو گھر کے ذرا مشکل کام اور باہر کے کام کرنے لگتا ہے . جوان ہوتا ہے تو بہن کے زیور اور جہیز کے لئے خود کو کھپاتا ہے شوہر بنتا ہے تو ایک نیا معرکہ اس نے سر کرنا ہوتا ہے باپ بنتا ہے تو بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کے لئے سامان اکٹھا کرنے میں لگ جاتا ہے اور ایسے میں اتنے معاشی معاشرتی مسئلوں سے نبٹتے ہوئے وہ گھر پہنچتا ہے اور ماں اور بیوی کی صورت دو عورتیں اس کے لئے مقدمے لئے موجود ہوتی ہیں . میرا وہ دوست بولا زبیر بھائی مجھے جوانی میں بلڈ پریشر اور دل کا روگ میرے گھر کے حالات کا تحفہ ہے بیوی اور ماں کے مسئلے بچوں کی خراب تربیت گھر کی گندگی اور سمجھانے کے باوجود وہی رویہ یہ مجھے یہاں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔۔۔! مجھے بیٹیاں زیادہ عزیز ہیں مگر آج خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لو۔۔اور یہ مت بھولنا بات میری طرف سے تمہاری حمایت سے ہی شروع ہوئی ہے۔۔

اس سب سے بچنے کا راستہ بس خوف خدا اور خواہشوں کی لمبی لسٹ صرف جنت سے وابستہ کرنے میں ہے……. نظر انداز اور درگزر میں ہے ……ایک دوسری کی خامیوں و خوبیوں پسند ناپسند کو سمجھنے اور کسی کمزور لمحے دوسرے کو رعایت دینے میں ہے . ڈرامہ و فلم کو عملی زندگی سے دور رکھنے میں ہے۔سوشل میڈیا پر کسی بھی انقلاب کےلئے ایک حد سے زیادہ وقت نہ دینے اور غیروں سے لمبی گفتگوئیں نہ کرنے میں ہے (چاہے وہ کتنے ہی بڑے دیندار کیوں نہ ہوں). حقوق کے بجائے پہلے اپنے اپنے فرائض پورے کرنے میں ہے . شکوہ شکایت ناشکری سے بچنے میں ہے اور قرآن کی طرح سیرت رسول ص اور صحابیات سے زندہ بھر پور روزآنہ کی بنیاد پر رابطہ پیدا کرنے میں ہے ۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات !

اپنا تبصرہ بھیجیں