ڈاکٹر ماہا کیس اور میڈیا کی پسماندگی – افشاں نوید




ڈاکٹر ماہا کے معاملے میں میڈیا کا طرز عمل کسی اخلاقی جواز پر مبنی نہیں …….. کسی ڈاکٹر لڑکی نے خود کشی کی ہے اس کا معاملہ کورٹ میں جانا چاہیے۔عدالت جانے اور نظام انصاف ۔ وہ کوئی ماڈل گرل یا اداکارہ نہیں تھی جس انداز سے اس کی نامناسب لباس کے ساتھ آئے دن تشہیر کی جارہی ہے یہ شریعت کے احکامات سے متصادم ہے.
کوئی زندہ فرد آپ کو اجازت نہیں دے گا کہ آپ اس کی البم سے جو چاھیں تصاویر لے کر میڈیا پر مشتہر کریں . ہر فرد کی پرائیویسی ہوتی ہے . اب جب کہ وہ اللہ کے حضور پیش ہو چکی ہے میڈیا کو یہ حق کس نے دیا کہ ایک فرد اپنی زندگی میں اپنی جس طرح کی تشہیر کو پسند نہیں کرتا میڈیا اس کے مرنے کے بعد اس خاندان کی عزت کو اچھالے۔ کوئی کہے کہ وہ ایسی تھی اس لیے ایسا ہوا ……. جان رکھیے! اسلام میں فرد کے اکرام پر بہت اصرار ہے۔ بہت گناہ گار فرد کی بھی غیبت کی آپ کواجازت نہیں۔ ہر مسلمان کی عیادت کا حکم ہے ۔ عیادت صرف نمازی اور پرھیز گاروں کی نہیں کی جائے گی ۔ چاہے کوئی کتنا بھی گناہ گار ہو اسکی نماز جنازہ پڑھی جائیگی۔ اس کے قبر کے سرہانے دعا کی جائے گی . شریعت نے منع کیا ہے کہ مرنے والے کے کسی عیب کی تشہیر نہ کی جائے۔ بلکہ ہرمسلمان کی بخشش کی دعا کی جائے۔ قرآن میں جو دعائیں ہیں وہ مسلمان کے وسیع ایکسپوزر کو ظاہر کرتی ہیں ۔ اسلام نے ہمیں بہترین آداب سکھائے ہیں
کسی نوجوان لڑکی کی ذات کو بعداز مرگ بار بار اس طرح پیش کرنا …….. جتنا علم لوگوں کو ہونا چاہیے تھا وہ ہو چکا . مزید تحقیق کی خبروں کے ساتھ . ہر دن نامناسب تصاویر کی نمائش کرنا کیا معاملے کی عدالتی تحقیق میں کوئی مدد دے گا یا میڈیا کی ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں