اسکول کھلنا اور بچے – ایمن طارق




پاکستان میں اسکول کھلنے کی خبر سے والدین میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ہے . جس میں بچوں سے زیادہ والدین پریشان ہیں کہ کیا ہوگا اور جہاں والدین پہلے منتظر تھے . کب کھلیں گے …؟ وہاں اب پریشان ہیں کہ حکومت کی طرف سے جو گائیڈلائن جاری ہوئی ہے ، اس میں بہت سی عملی مشکلات ہیں ۔
اب یہ اسکولز کی مینجمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ والدین کو مطمعین کرنے کے لیے تسلی بخش اقدامات کرے ۔ چونکہ چھوٹے بچوں کے اسکول بعد میں کھلیں گے تو ایسے اساتذہ جن کے اپنے بچے چھوٹے ہیں . اُن کے لیے اسکول کیا انتظام کرے گا ؟ اسکول کھلنے سے قبل ہر لحاظ سے رسک اسسمنٹ کرکے حکومتی گائیڈلائن کو فولو کرتے ہوے بچوں ، اساتذہ اور اسٹاف کہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کو ممکن بنانا ہوگا ۔ اس میں کوتاہی کا نقصان کیونکہ پھر پہلے جیسی صورتحال پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔ بچوں کی زہنی صحت کے کی بہتری کے لئے جو وبائ صورتحال ، گھر میں رہتے ہوے والدین کے عتاب کا شکار ،اور غیر یقینی نے اُن ابتر کی ہوگی اس کے لیے ابتدائ کچھ مہینے ہلکے پھلکے روٹین کو فولو کیا جاۓ اور خصوصا زہنی صحت کے لیے سیشنز رکھے جائیں یعنی ماینڈ ریلیکسیشن ایکسرسائزز ، یوگا ، مختلف گیمز وغیرہ۔
ہمارے ہاں کی صورتحال ……… یہاں ہمارے انگلینڈ میں اسکول کھلنے سے تو ایک ہلچل مچ گئ ہے چھ ماہ بعد ۔ اسکول کھلنے سے ایک دن پہلے تک ای میلز اور میسیجز کی بھرمار تھی ہدایات پر مشتمل ۔ ایسے چلنا ہے ایسے بیٹھنا ہے یہ پابندی وہ پابندی فلاں فلاں ۔ ہر کلاس کے اسکول میں داخلے کا وقت الگ باہر نکلنے کا وقت الگ گیٹ الگ ۔ والدین جن کے دو تین چار بچے ایک اسکول میں ہوں وہ چکراتے پھر رہے ہیں آگے پیچھے پک اینڈ ڈراپ یا یہاں تو زیادہ تر لوگ اسکول واک کرکے چھوڑتے ہیں پھر اگلے بچے کے لیے انتظار ۔ والدین اسکول کی بلڈنگ میں نہیں جاسکتے ۔ اوپر سے اسکول کے اندر بچوں کی رپورٹ کے مطابق سارے پروٹوکول کے بعد بھی سوشل ڈسٹینسنگ اتنی ممکن نہیں ہو پارہی ۔ ماسک کی اجازت نہیں . صرف کوری ڈور میں پہننا مسٹ ہے لیکن بہت اسٹرکٹلی فولو نہیں ہورہا ۔ اسکول میں سوشل ڈسٹینسنگ کی توقع رکھنا ایک مزاق ہے ۔
البتہ پرائمری اور سیکینڈری میں بچے اپنی کلاس تک محدود ہیں ۔ ٹیچر بھی اسی کلاس تک رہے گا ورنہ یہاں مختلف ایبیلیٹی گروپس بھی ہوتے ہیں جسمیں مختکف کلاس کے بچے کسی سبجیکٹ کے لیے اکھٹے ہوتی تھے ۔ اب یہ ختم ہوگیا ۔ اسکول اسیمبلیز ، ٹرپس سب ختم ۔
میڈیا رپورٹس یہ ہیں آج کی کہ وائرس کیسسز میں اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے ۔ لیکن سیریس کیسسز ہاسپٹلز میں کم آۓ ہیں ۔ بچوں میں کچھ اینگزائٹی ہے ان نیوز کئ وجہ سے ۔ لیکن بچے بھول بھی جلدی جاتے ہیں ۔ اسی طرح اب ساری احتیاطیں ممکن نہیں ہو پارہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا آگیا ہے ۔ لیکن ایک دو ہفتے میں اگر خدانخواستہ اگر کیس بڑھتے ہیں جس کے آثار ہیں تب بھی گائیڈلائن آگئ ہے ۔ اگر ایک بچے کو ہوا تو تین اسٹیجز ہیں یا تو وہ کلاس پوری کاریٹین میں جاۓ گی ۔ یا پھر اسکول میں الٹرنیٹ دنوں میں کلاسز آیاکریں گی یا پھر زیادہ مسئلہ ہوا تو اسکول مکمل ورچوئل لرنگ پر چلا جاۓ گا ۔
اچھی بات یہ ہے کہ بچے بڑے اپنے معمولات میں واپس خوش ہیں ۔ معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں ۔ اہم یہ ہے کہ ہمیں بھولنا نہیں کہ لاک ڈاون میں ہمارا انسانوں سے جو رشتہ مضبوط ہوا ہے . اور والدین کی حیثیت سے بچوں سے جو تعلق قربت میں تبدیل ہوا ……. اب اسمیں کمی نہیں بلکہ بہتری ہی ہونی چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں