ڈرامے اور ہمارے معاشرے کا المیہ – جویریہ سعید




اب دیکھیے۔۔۔ ہم نے کچھ عرض کی تھی تو کچھ لوگ خفا ہوئے کہ ہم ڈراموں کو ایسا اور ویسا کہہ رہے ہیں۔ ورنہ اصل میں تو ڈراموں میں دکھایا وہی جاتا ہے جو معاشرے میں ہوتا ہے۔ مگر آج یونہی ٹی وی کے ان دو مقبول اداکار و اداکارہ کہ گفتگو سننے کا اتفاق ہوا جو خود بھی اسی قسم کے ڈراموں میں کام کر شہرت و دولت خوب کما رہے ہیں۔ سنیے آپ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔۔
میزبان : “آپ کو نہیں لگتا کہ ٹی وی کے ڈراموں کا معیار گر گیا ہے۔ جو ایک شے چل جائے سب اسی پر ڈرامہ بنانے لگتے ہیں۔ مثلا ہر ڈرامے میں “سوشل اشوز” ڈال رہے ہیں۔ کیا یہ سب ریٹنگ اور پیسہ کمانے کا چکر نہیں؟”
(گفتگو سے سمجھ میں یہ آیا کہ سوشل اشوز سے مراد خواتین کے سازشی قسم کے گنجلک مسائل ہیں)
مشہور ہیرو: “جی میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ اب دیکھیے آخر کو پیسہ ہی کمانا مقصود ہے۔ سب کاروبار ہی ہے۔ اب یہ بات سب کو پتہ ہے کہ ان ڈراموں کی “مین آڈینس” “لوئر مڈل کلاس کی ہاؤس وائفز” ہیں ۔۔۔ انہی کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔۔۔۔ ” شوخ ہیروئن۔۔ لقمہ دیتے ہوئے۔۔۔ : “اور “ان” کے اسی قسم کے مسائل ہیں۔ ان کے یہاں یہی ہورہا ہے۔” ہیرو صاحب تو اور بھی بولے مگر ہماری وہ خواتین جو پورے اخلاص اور ذوق و شوق سے یہ ڈرامے دیکھتی ہیں اور ان پر کسی قسم کی تنقید سے خفا ہوجاتی ہیں ذرا سوچیے آپ کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھ کر یہ ڈرامے بنائے جائے جارہے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ “لوئر مڈل کلاس ہاؤس وائفز” کے مسائل کی Impersonation کا کام ایک سے بڑھ کر ایک حسین اور گلیمرس اور نہایت امیر دکھائی دینے والی اداکارہ انجام دیتی نظر آتی ہیں۔
بات یہ ہے کہ ڈراموں میں ہر مرتبہ وہ نہیں دکھایا جاتا جو معاشرے میں ہورہا ہوتا ہے، بلکہ وہ دکھایا جاتا ہے جس کے بکنے کی امید زیادہ ہو۔ ورنہ ہونے کو تو انسانوں کی اتنی بڑی دنیا میں کیا کیا نہیں ہوتا۔ یہ انسان منتخب کرتے ہیں کہ ان کا ذوق کن چیزوں سے پروان چڑھنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں