تقدیر کے دو انداز – ہمایوں مجاہد تارڑ




تقدیر کے دو انداز آسان لفظوں میں سمجھ لیں۔
پہلا: یہ active ہے، غالب و محیط ہے، اٹل ہے۔ راستہ روک کر کھڑی ہو جائے گی، ٹانگ توڑ دے گی، مار ڈالے گی، آپ کا مکان اچانک گرا دے گی۔ گھر سے اٹھا کر چند دنوں میں امریکہ وغیرہ تک پہنچا دے گی۔ جو کچھ زور دار طور وقوع ہو جائے، تقدیرِ اٹل ہے۔
دوسرا: یہ passive ہے۔ انگلیوں میں انگلیاں گھسیڑ کر، ایکطرف ہو کر، تماشائی بن کر بیٹھ جائے گی کہ دیکھتے ہیں آپ کیا کرتے ہیں۔ یہاں بساطِ زندگی پر دوڑتے کردار گویا ایک Maze پَزل کے اندر ہیں۔ تین، چار، پانچ راستے ہیں۔ تین راستے آگے جا کر بند ہو جاتے ہیں، دو کھلے ہیں۔ فیصلہ آپ کی عقل کرے گی ۔۔۔ البتہ رہنا آپ نے اِسی بساط اندر ہی ہے۔ بھاگ کر کہاں جائیں گے؟ (یہ بساط کرّہِ ارض ہے۔ اوپر، نیچے، دائیں بائیں سے ۔۔۔ ہر طرف سے ہم لوگ گِھرے ہوئے ہیں۔ گیسوں سے بنی فضائی چادر کو پھاڑ کر تھوڑا بہت نکلیں بھی تو کافی زور لگتا ہے، اور ایسی بلند پروازی ہوتی بھی محدود سی ہے۔) جبھی کسی نے کہا تھا کہ کسی معاملہ میں آپ کی تقدیر میں بس یہ لکھا ہوتا ہے کہ کوشش کرےگا/گی تو یہ چیز اس کو مل جائے گی۔
آخر میں واصف علی واصف مرحوم کی ایک خوب صورت سٹیٹمنٹ، کہا:
“اچھی نیت ہی اچھا مقدّر ہے۔”
مزید بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے۔ وہ سب آپ خود سوچ لیں۔ مولانا رُومی نے فرمایا تھا زندگی میں بہت سے لفظ بغیر آواز کے یعنی soundless ہیں۔ انہیں سننا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں