قائدغصے میں ہیں – سمیرا غزل




وطن عزیز مستقل حادثات کی زد میں ہے،جس سے مستقبل کے خدشے سر اٹھا رہے ہیں۔ کورونا سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال ، نظام تعلیم میں انحطاط ، ذخیرہ اندوزی ، بارش کے بعد ڈوبتے ہوئے خاندان ، ذہنی پریشان سنجیدہ طبقہ ، حکومتی غیر سنجیدگی ، بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ، لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والا حادثہ ان تمام حالات کے پیش نظر وہ بہت پریشان ہیں۔
وہ جو پاکستان کو اسلامی تجربہ گاہ کے طور پر دیکھتے تھے۔جو مسیحائے قوم ہیں،جن کی تدبیر نے انگریز اور ہندو کی ہر چال کو شکست فاش دی۔ جنھوں نے کبھی ذاتی مراعات نہ لیں،کسی بڑے سے بڑے عہدے دار کو جو ناجائز رعایت دینے کے حق میں نہ تھے۔ جنھوں نے ملک کے ہر ذمہ دار اور ہر شہری کے لیے قناعت اور کفایت شعاری کو نہ صرف لازمی عنصر بتایا بلکہ اسے عمل سے ثابت کر کے دکھایا ۔ جنھوں نے یہ ملک مسلمانوں کے جان مال کے تحفظ کے لیے حاصل کیا تھا۔جنھوں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کی بھی بات کی تھی اور ایک ایسے نظام پر سوچا تھا کہ جس میں کچھ بھی غیر متوازن نہ ہو جو صرف اور صرف اسلام کا لایا ہوا نظام ہو۔
جس میں سب کو امان ہو۔ جو ایک پھلتا پھولتا ملک بنے،جہاں کے شہری مہذب اور تعلیم یافتہ ہوں،جو اتحاد،تنظیم اور یقین محکم کے اصولوں پر کاربند ہوں،جہاں کوئی کسی کی عزت پر دست درازی نہ کرسکے ، جہاں کوئی کسی کے مال و اسباب پر حمل کرنے کی غیر اخلاقی جرات نہ کرسکے۔ ایک زوال پذیر قوم کو ایک استیصالی قوم سے نجات دلانے کی جدوجہد کامیاب تو ہوئی ، مگر یہاں کے لوگوں کا رشتہ خدائے واحد سے ٹوٹ گیا اور یک بیک ساری قدریں ٹوٹنے لگیں ، خدائے واحد کے بجائے دنیاوی معبودوں سے ڈرا جانے لگا ، مادیت پرستی کی آنچ شعلہ بن کر خاندانی نظام کو بھسم کرنے لگی اور لوگ دولت کے بت کو پوجنے لگے،خدائے واحد کا انکار ہوا تو توکل کی ڈور ٹوٹی اور اس ڈور کے ٹوٹتے ہی نفس پرستی کا مرض لاحق ہوگیا .
پھر صوبائیت ، لسانیت اور قوم پرستی کی وبائیں پھوٹ پڑیں ان وباوں سے متاثر زہریلی ہوا نے سندھ سے سرحد تک کے رشتے مٹا دیے اب اس دیس کے لوگ بھائی بھائی نہیں ہیں ، یہاں مائیں اور بچے سانجھے نہیں رہے۔ توعیش کوشی نے لذتوں کے نئے دروازے کھولے قائد اعظم کے فرمان کو بھلا کر کھاو اور کھاو کی جدوجہد شروع ہوئی توآج مروی سے لے کر لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر ہونے وال حادثے کا شکار خاتون تک وطن عزیز کا ہر درد مند دل رکھنے والا تڑپ اٹھا ہے ، مگر صرف تڑپ کر رہ جانے سے کچھ نہیں ہوگا . جب تک شریعت اور شرعی سزاوں کا نفاذ نہ کیا جائے کچھ کیے بغیر رو را کر خاموش ہوجانا دانشمندی نہیں ہے کہ وطن کی نا آسودہ خاک ، آج اپنے مسیحا کو یاد کرکے خون کے آنسو روتی ہے .
اور آج اے روح قائد ! ہم آپ کو بہت یاد کرتے ہیں آپ سے بہت شرمندہ ہیں ۔ آج قائد کے یوم وفات پر جب میں نے ان کو اپنا سلام بھیجا تو دیکھا کہ قائد ان تمام حالات پر، زخمی زخمی پاکستان دیکھ کر ، حکومت پاکستان اور تمام کرتا دھرتاوں سے سخت ناراض ہیں۔ جی ہاں قائد بہت غصے میں ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں