جب لوگ بے بس ہیں تو یہ نکل کھڑی ہیں – زبیر منصوری




یہ اور کیا کریں بھلا ؟ لوگ جب بے بس ہو جاتے ہیں تو کرتے بھی کیا ہیں ؟ اپنے بال بچے لے کر کھلے میدانوں میں نکل آتے ہیں …….. مرد سر ننگے کر لیتے ہیں اور کبھی ہاتھ الٹے ……. پکارتے ہیں گڑ گراتے ہیں روتے اور فریادکرتے ہیں . یہ لاہور جماعت اسلامی کی خواتین بھی نکلی ہیں.
اللہ ہم بے بس ہیں ، اللہ ہم کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں ، اللہ ہم بھوکے رہے چپ رہے ، ہم مار کھاتے رہے برداشت کر لیا . مگر اب ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر محفوظ نہیں . اللہ ہماری بہنیں بیٹیاں میں شاہراہوں پر سرعام بے بس کر دی جاتی ہیں . وہ بھاگ کر سڑک پر آ کر گڑگڑا کر گزرنے والوں سے مدد مانگتی ہے …… مگر لوگ گزر جاتے ہیں وہ مزاحمت کرتی ہے تو ڈنڈے ما ر کردبوچ لیا جاتا ، گھسیٹا جاتا ہے ، بچوں کے سامنے بے آبرو کیا جاتا ہے . اللہ ہماری ننھی پریاں ، معصوم بچے ……. درندوں کے ہاتھوں میں ہیں۔
اللہ ہم اس بے بسی میں اپنے حصہ کے ظالم نظام کے خلاف نکلی ہیں . اللہ ہمیں معلوم ہے یہ ظالم حاکم ہمیں باتوں سے بہلا کر بس وقت گزارنا چاہتے ہیں . اللہ ہمارا کوئی سہارا نہیں کوئی طاقت نہیں ہم اپنے بچوں بہنوں بیٹیوں کو لے کر بس تجھ سے مدد مانگنے نکل آئی ہیں .
اللہ ہمیں بس اپنی حفاظت میں لے لے …… اللہ ہمیں بچا لے . اللہ یہاں کوئی حکومت کوئی قانون کوئی عدالت کچھ نہیں تو ہمیں بچا لے . اپنی عافیت کی چادر میں ڈھانپ لے۔ اللہ۔۔۔ اللہ ۔۔۔اللہ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں