سوشل میڈیا اور ہمارا زاویہ نظر – ہمایوں مجاہد تارڑ




میرا تاثر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمی چند سو یا چند ہزار لوگ ہیں جو سنجیدہ مواد کی جانب متوجہ ہوتے، ایک دوسرے کی بات کو سراہتے ، یا اُس پر تنقیدی و تعریفی تبصرے کیا کرتے ہیں ۔ لڑ بِھڑ بھی لیا کرتے ہیں مگر انجامِ کار یہ سب کچھ صحت مندانہ ہے ۔ سوشل میڈیا کا تجربہ ایک عمدہ شعوری سفر ہے جس نے ہمیں لَرننگ دی ہے، تہذیب اور آگاہی دی ہے ــــــ ہم چند سو یا چند ہزار لوگوں کو!
باقی کے لاکھوں، کروڑوں لوگ اس سے محروم اور دُور ہیں۔ ۔۔ کیسے اور کیوں؟ ۔۔۔ اِس کا اندازہ یوں ہوا کہ پچھلے دنوں بڑی مدّت بعد مجھے ایک روز پبلک ٹرانسپورٹ والی سوزوکی پِک اَپ پر مختصر دورانیے کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ فرنٹ سِیٹ خالی تھی، میں بیٹھ گیا۔ کیا دیکھا؟ ڈرائیور بھیا نے ہیجان انگیز کلمات والا لُچر سا ایک اِنڈین گیت لگا رکھا تھا جسے کوئی خاتون تو درکنار، کوئی شریف مرد بھی سننا گوارا نہ کرے۔ تب، بس دو کلومیٹر آگے اُسے ذرا شکل صورت والی ایک خاتون سواری بھی نظر آگئی۔ بریک لگا کر بولا، “سر جی، یہ لیڈیز سِیٹ ہے۔ معذرت۔ آپ پیچھے چلے جائیں۔” خیر، میں کرایہ دے کر یہ کہتے ہوئے اُتر گیا کہ میرا سٹاپ یہی ہے۔۔۔ وہ خاتون اسی تنگ سی پیسنجر سِیٹ پر بیٹھ گئی جس پر دو خواتین بھی بیٹھا کرتی ہیں اور اِس صورت ڈرائیور بھیا کے ساتھ جُڑ کر بیٹھی خاتون ڈرائیور کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔
میں شاکڈ تھا کہ یہ تو بعینہ وہی منظر ہے، وہی تجربہ جو ہم پچیس تیس برس پہلے کی زندگی میں suffer کیا کرتے تھے۔ وین یا سوزوکی میں پیچھے والے کمپارٹمنٹ میں دیگر مسافروں کے ساتھ سفر کی خفّت اٹھانے کے مقابل فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا نسبتاً آرام دہ سفر کی ضمانت ہوا کرتا ہے۔ جبکہ یہی سفرخواتین کو بلیک میل کرنے/رکھنے کا ذریعہ بھی ہے ـــ کہ جو گیت لگا رکھا ہے جس سے ڈرائیور بھیا کو قدرے حرارت میسر آ رہی، اس پر کمپرومائز کرنا ہو گا۔ بعضے اِس سے ایک قدم آگے، خواتین کے ساتھ ایک بےنام سی چھیڑ چھاڑ بھی کیا کرتے ہیں جو ہم سب نے دیکھ رکھی ہے۔ شریف خواتین برداشت کرتی رہتی ہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ ذرا loose اَیٹی چُوڈ والی خواتین ڈرائیورز کے اِس مکروہ طرزِ عمل کو وَیلکم جَیسچر کے ساتھ بَڑھاوا دے جاتی ہیں۔ اُن کا یہ رویہ و طرزِ عمل شریف خواتین کے سفری تجربہ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے کہ ڈرائیور بھیا کی پروگرامنگ ہی ایسی ہو چکی ہوتی ہے۔
ڈرائیور طبقہ، مستری مزدور، دکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والے، یا پولیس جیسے ادارے میں بھرتی اکثر افراد، سب نہیں اکثر، اِسی ذوق کے مالک ہوا کرتے ہیں: پنجابی فلمز، تَھرڈ ریٹِڈ انڈین اور انگریزی فلمز، ہیجان انگیز گیت اور مناظر، گالی گلوچ اور فحش الفاظ والی زبان ۔۔۔۔ اِس میں اضافہ سَمال سکرین پر ملے یوٹیوب مواد سے ہوا ہے۔ اوپر سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور ہے۔ سزا و جزا کا عمل سُست رَو، ناقابلِ اعتبار بلکہ اکثر مثالوں میں ظلم پر مبنی ہے۔ یعنی اخلاقی حِس تو کمزور ہے ہی، مستزاد یہ کہ گرفت کرتے کسی قانون کا ڈر خوف بھی نہیں۔ سامنے کوئی مثال ہی نہیں۔ کبھی کبھار کی کوئی مثال ہے بھی تو بے اثر ۔۔۔
نیز، یہ سب لوگ سوشل میڈیا کے اِس مواد سے بھی دُور ہیں جس کے ذریعے تھوڑی بہت تہذیب اور اخلاقی تربیت میسر آجانے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ سماج کا بھڑکتا ضمیر نظر آتا ہے یہاں، اور افراد کا شعوری اور علمی تعامل اُنہیں حسّاس بناتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں بھی شرکت نہیں کر رہا، سسٹم بھی کمزور ہے ۔۔۔ تو پھر یہی کچھ ہو گا جو موٹروے پر اُس بدقسمت بہن کے ساتھ پیش آیا۔ یہ بھی ایک زاویہ ہے ۔ یوں لگتا ہے ہماری تہذیب ایک قدم آگے نہیں بڑھ پائی ۔ ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے تیس پینتیس برس پہلے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں