خود حفاظت کرنا سیکھیں جناب!- شماٸل غازی




اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی بچیاں ، بیٹیاں ، بچے ، نوجوان ، بوڑھی عورتیں ….. سب بے اماں ہیں ۔ جب کسی ایک پہ ظلم ہوتا ہے۔ کوٸی بے بس معصوم درندگی سہتی ہے تو اس عظیم اسلامی مملکت کے سوشل میڈیاٸی دانشوروں کے باقاعدہ گروہ اسکی مختلف تاویلیں دینے لگتے ہیں۔کوٸی کہتا ہے ……. لباس ٹھیک نہیں پہنا ہوگا . کوٸی سوال اٹھاتا ہے .
اس عورت کا محرم اسکے ساتھ کیوں نہیں تھا ۔ کیا جنگل میں رہتے ہو ؟ عورتیں اپنی مجبوریوں میں باہر نکلتی ہیں . ملازمت پہ شاپنگ کے لیے بچوں کے تعلیمی اداروں میں پک اینڈ ڈراپ کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی گاڑی ہو بند شیشے توڑ کر کسی باعزت کو درندے نوچ کھاٸیں اور تم اس عورت پہ ہی سوال داغ دو گے ؟ محرم ؟؟؟ کیا اسکے ساتھ اسکے بچے نہیں تھے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوٸی محرم رشتہ موجود ہی نہ ہو اس عورت کا ……! یہ بھی ممکن ہے وہ کسی اشد مجبوری میں نکلی ہو ۔ کیوں مجبور کررہا ہے یہ معاشرہ کہ ہم اپنی بیٹییوں بہنوں کو انکے مقابلہ پہ لے آٸیں ۔ کیوں اس ملک میں وہ حالات پیدا کیے جارہے ہیں کہ عورت حجاب خریدنے سے بھی پہلے ہتھیار خرید لے اور ایسے کسی بھی غلیظ نسل درندے کو دیکھتے ہی جان سے مار ڈالے ۔ ایک دور تھا ، بچیوں کو سمجھایا جاتا تھا راستے کے ایک طرف ہوکر چلنا۔
میں یہ کہتی ہوں اب بچیوں کو باقاعدہ جسمانی اور ذہنی طور پہ تیار کیا جاۓ کہ خطرہ دیکھ کر عزت گنوانے کی بجاۓ ایسوں کی جان لے لے۔ سوشل میڈیا نے ایسے گندی سوچ والوں کو مزید سہولتیں دے رکھی ہیں ۔ یہ لوگ کسی عورت کو سکون لینے نہیں دے رہے۔ بظاہر بہت مذہبی نظر آنے والے بھی اپنے کردار کی غلاظتیں بکھیر رہے ہیں ۔ اور اس واقعہ کے بعد پورے پاکستان کے مرد حضرات ہر پوسٹ پہ جا اظہار افسوس کررہے ہیں ۔ اگر اس قوم میں غیرت کی ایک رتی بھی ہوتی تو آج یہ سڑکوں پہ ہوتے اور پھر دیکھتے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ کیسے نہیں پکڑے جاتے ۔
اسی جگہ شاہراہ کے عین درمیان انکے جسم کا ایک ایک حصہ کاٹ کر الگ کیا جاتا ۔ تب پتہ چلتا کہ عورت کے لباس سے بھی پہلے مرد کے دماغ میں حیا پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مذمتیں کرنے کی عادی یہ قوم اب صرف موباٸل سکرین کے پیچھے ہی کی غازی ہے ۔ ویسے مر چکی ہے اخلاقی ذہنی اور کردار کے لحاظ سے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں