اقبال اور عورت – عالیہ حمید




یوں تو کائنات کا حسن , خالق کائنات کی بہترین صناعی کا شاہکار ہے, اس حسین و جمیل کائنات میں اگر کوئی چیز حسین ترین ہے تو وہ عورت ہے،یہ کائنات تکمیل کے مرحلے کو نہ پہنچ سکتی اگر عورت کا وجود نہ ہوتا.
حضرت آدم کی رفاقت کے لیے حضرت حوا کی پیدائش اس بات کی دلیل ہے کہ مرد کی زندگی عورت کے بغیر نامکمل ہے،اگر بھائیوں کی زندگی میں سو جان سے قربان ہوجانے والی بہنیں نہ ہوں، بچوں کی زندگی میں صرف اور صرف محبت سے بھرپور وجود ماں نہ ہو ،خاوند کی زندگی میں وفادار بیوی نہ ہو، اور باپ کی زندگی میں صد احترام کرنے والی بیٹی نہ ہو تو یہ زندگی اور اس کا حسن ماند پڑ جائے۔علامہ اقبال نے عورت کے اس مقام کو پہچان لیا تھا ،اپنے ایک مشہور زمانہ شعر میں عورت جیسی ہستی کے لئے کچھ یوں فرماتے ہیں۔

وجود زن سے ہےتصویرکائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کاسوزگدوں
مکالمات افلاطون تو نہ لکھ سکی مگر
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

مطلب عورت کائنات کا حسن ہے،مگر یہ محض ایک نمائشی چیز نہیں کہ جس سے مرد اپنا دل بہلائے،بلکہ عورت ایک ایسی طاقت ہے جو بڑے سے بڑے مصائب کا مقابلہ کرسکتی ہے،مشکلات میں مرد کا ساتھ دے سکتی ہے،یہ صبر و عزیمت کا پہاڑ ہے،ایثار و قربانی کا نمونہ ہے،یاد کیجئے ذرا حضرت اسماء بنت صدیق (رضی اللہ تعالی عنہما) کو کہ موت کے خوف سے بے پرواہ ہو کر بڑی بہادری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد محترم کو کھانا پہنچاتی ہیں۔ ام عمارہ( رضی اللہ تعالی عنہما) کو جو خیمے کی چوب اکھاڑ کر یہودی کو موت کے منہ میں اتار دیتی ہیں، فاطمہ بنت عبداللہ کہ جو طرابلس کی جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے خود بھی شہید ہو جاتی ہے،اقبال نے تو اس کے لئے بھی ایک شہرہ آفاق غزل کہی ہے

یہ سعادت حورصحرائی تیری قسمت میں تھی
غازیان دین کی سقائی تری قسمت میں تھی۔

علامہ اقبال سمجھتے تھے کہ بچے کے لیئے ماں کی تربیت،محبت اور توجہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا،یہ تو وہ درس گاہ ہے جہاں بچہ ہر عمر میں فیض یاب ہوتا ہے

علم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعور
دنیاوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور
زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادرمیں طفل سادہ رہ جاتےہیں ہم

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مائیں ایسی نسل کو جنم دیں جن کے اندر علم کی جستجو ہو،جس کا کردار بے داغ ہو، ستاروں سے آگے آشیاں تلاش کرنے کی جستجو ہو،ایسی چنگاری ہو جو وقت آنے پر شعلہ بن سکتی ہو،جس کا ماضی سے رشتہ ہو اور مستقبل پر نگاہ ہو، جو قبیلے کی آنکھ کا تارا ثابت ہو تو لازم ہے کے خواتین کی بہترین تربیت اور تعلیم کا انتظام ہو،ایسی تعلیم سے پھر خنساء (رضی اللہ تعالی عنہما) جیسی مائیں پیدا ہوتی ہیں ،اسماعیل علیہ السلام کے آداب فرزندی کے پیچھے ایک ماں کی سعی بھی شامل تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے والے صحابہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی معلمہ حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہما) تھیں۔عورت ایک ایسی قوت ہے جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر گھر سے باہر نہ بھی نکلے تو بھی بڑے بڑے انقلابات کی بنیاد بن سکتی ہے۔اقبال اپنی ماں کے بارے میں کہتے ہیں

دفترہستی میں زریں ورق تھی تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری خیات
تربیت سے تیری میں انجم کاہ م قسمت ہوا
گھر میرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا

اپنی ماں کی محبت اور احترام میں انہوں نے پھر “والدہ مرحومہ کی یاد میں” جیسی شہرہ آفاق نظمیں کہیں،جس کے اندر موجود شعروں پر بات کی جائے تو یہ تحریر بہت طویل ہوجائے گی۔ تو گویا اقبال عورت کی تعلیم اور تربیت کے قائل تھے مگر یہ تعلیم و تربیت کیسی ہونی چاہیے ،اقبال اس بات کے قائل تھے کہ عورت اور مرد کی تعلیم ان کی صلاحیتوں کے مطابق ہونی چاہیے،وہ مخلوط تعلیم کے سسٹم سے بھی فکر مند رہتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں پاکیزہ معاشرے کے نفیس ثمرات سمیٹنے کے لیے لازم ہے کہ ماحول بھی پاکیزہ دیا جائے ایک شعر میں یوں عرض کرتے ہیں

جس علم کی تاثیرسےزن ہوتی ہےنازن
کہتے ہیں اس علم کو ارباب ن ظر موت
بیگانہ رہے گر دیں سے مدرسہ زن
ہےعشق ومحبت کےلئےعلم وہنرموت

آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ لیں محلوط یونیورسٹیاں،دیگر ورکنگ ادارے کھلی بے پردگی فحاشی و عریانی کا نمونہ ہیں،جہاں تعلیم کم اور ٹک ٹاک کے جوڑے زیادہ بنتے ہیں ۔ایسے قوانین بنا لئے گئے ہیں کہ عورت جب چاہے ولی کی سر پرستی کے بغیر اپنی مرضی کے ساتھ نکاح کر لے جس کو قانوناً کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔اقبال کا پیغام عورت کے لئے عزت اور تحفظ کا پیغام ہے انہوں نے اس کی حیثیت کو مذہب کے نقطہ نظر سے پہچانا وہ عورت کے لئے چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے قائل تھے، جہاں مرد کے اوپر معاشی ذمہ داری ہے ،وہیں پر عورت کے لئے گھر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ اس حقیقت کو سمجھ گئے تھے کہ عورت مساواتِ مرد و زَن کے نعرے کی آڑ میں گھر سے نکلی تو اس کا خاندان برباد ہو جائے گا ،گھر کی بنیادیں ہل جائیں گی عورت کو باہر کی ہوا لگ گئی تو اپنی ذمہ داریاں فراموش کر دے گی۔اپنی ایک مزاحیہ نظم میں یوں کہتے ہیں کہ

یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند
نہ غیرت تجھ میں ہوگی نہ زن اوٹ چاہےگی
آتا ہے اب وہ زمانہ کے اولاد کے عوض
کونسل کی ممبری کے لیے ووٹ چاہے گی

علامہ اقبال عورت کو اس کا اصل مقام یاد دلانا چاہتے تھے کہ اس کا مقام کونسل کی ممبر ،عدالت کی جج ،فوج کی سپاہی، جہاز کی میزبان، بینک کی کیشئر وغیرہ بننا نہیں بلکہ اپنی گود میں بہترین افراد کی نشونما کرنا ہے۔ وہ ملت کی قسمت کے سانچے کچھ اس طرح سے ڈھال سکتی ہیں کہ معماران قوم کے کرداروں کو دیکھنے کی ذمہ داری لیں ،اپنی گود میں خالد اور طارق سے بیٹے پالیں اور ان کی گھٹی میں بچپن سے ہی شوق شہادت ڈال دیں۔۔!
اب آج کے معاشرے پر غور کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرے نے عورت کا جس ہوشیاری سے استحصال کیا ہے وہ ستائش کی بجائے افسوس کے لائق ہے۔مغرب کی عورت یہ سمجھتی رہی کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرکے گوہر نایاب ہو چکی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے مردوں کے ساتھ سارا دن کام کرکے بھی گھر میں اس کا بچہ اسکی گود کا منتظر ہے۔باپ کی طرف سے تو مالی اعانت کا محتاج ہے لیکن ماں کی مامتا چھین کر نرسری میں ڈالنے کا ظلم کس نے کیا؟؟اس لیے دراصل عورت کو دو کشتیوں میں سوار کر دیا گیا ہے وہ ایک ایسی مشین بن چکی ہے جو اپنا فطری کام بھی بدستور کرے گی اور ساتھ ہی مردوں کے حصے کا کام بھی کرے گی جو محض مردوں کو ہی زیب دیتا ہے اسے آزادی نسواں کا جھانسہ دے کر شمع محفل بنا دیا گیا ہے۔

دولت بےپایاں تھی دنیا اور دین کی آہ ۔۔۔ مگر
شمع محفل بن کر کھو دیا وقار اپنا

بات کریں اگر ترقی پذیر ممالک کی ان پڑھ اور پڑھی لکھی خواتین دونوں کی۔پڑھی لکھی خواتین تو مغرب کی طرف دیکھ رہی ہیں اور اسی کو اپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں ، پسماندہ علاقوں کا جائزہ لیں جہاں عورت کو اس کے مقام سے گرا کر پاؤں کی جوتی بنا کر رکھا جاتا ہے، ظلم کی چکی میں کبھی وہ کاری کرکے مار دی جاتی تھی، جائیداد بچانے کی خاطر قرآن سے بیاہ دی جاتی تھی جائیداد بنانے کے لیے اسی سالہ بوڑھے کے نکاح میں دے دی جاتی تھی۔جہیز کم آنے کی صورت میں سسرال میں جینا دو بھر ہو جاتا تھا،پھر کبھی تیل کا چولہا پھٹتا ہے، تو کبھی گیس کا سلنڈر، کبھی نیند کی گولیاں، کبھی خوراک کی کمی اس کے سرخ عروسی لباس کو کفن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم مشرقی ممالک کے لوگوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے،اور اس کا تدارک کرنا چاہیے، ایسے قوانین بنا لینے چاہیئیں جو عورت کے تحفظ کا ثبوت ہوں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں کوئی نیا قانون خود سے بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے ،ہمارے پاس اللہ کا بنایا ہوا قانون پہلے سے موجود ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عملی نمونے کے ذریعے ہم پر واضح کر دیا ہے۔مگر ہم نے انسانی قوانین بنا کر عورتوں کا استحصال کیا ہے۔آپ ہمیں اپنے ان فیصلوں سے اپنا رخ موڑ لینا چاہیے اور صحیح راستے پر اپنے آپ کو ڈھال لینا چاہیے ،مرد و خواتین دونوں کی تربیت کے ادارے بنانے چاہیئں، ان کو ان کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہیے ۔
حرف آخر کے طور پر اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے یہ گزارش ہے کہ خدارا مچھر کے ڈر سے بازو ڈھانپنا ،اور کرونا کے ڈر سے منہ ڈھانپنا چھوڑ دیں محض خوف خدا کی بنیاد پر حجاب لینا شروع کر دیں۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دیں کہ ہمیں پردوں میں کیوں چھپایا جارہا ہے مرد تو آزاد گھومتے ہیں پھر ہم پر پابندیاں کیوں ہیں۔یہ سوال آپ سے ہی پوچھتے ہیں کہ اپنا قیمتی ترین زیور آپ نے کہاں رکھا ہے ؟؟؟ اپنے سونے کے گہنے کیا آپ نے باہر صحن میں رکھے ہوتے ہیں؟؟؟ بتایئے ناں وہ سونے کے کنگن آپ نے کہاں چھپا رکھے ہیں؟؟
مگر آپ تو یہ بتانا بھی پسند نہیں کر رہیں کہ آپ نے قیمتی ترین زیورات اور متاع حیات آپ نے کہاں رکھی ہیں؟ تو اندازہ کرلیجیے کہ جن چیزوں سے ہمیں پیار ہوتا ہے جو چیزیں ہمیں عزیز ہوتی ہیں اور جن کو ہم قیمتی سمجھتے ہیں وہ کہاں رکھی جاتی ہیں؟؟ سات پردوں میں چھپا کر ناں ؟؟؟؟ تو خدا سے کیا گلہ ؟؟ ہم اس کی نظر میں بہت بہت بہت قیمتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں