میں سر اٹھا کے جیوں گی میرے حجاب کے سنگ – کرن وسیم




میں خالی دل اور چور نظروں سے دیکھتی ہوں اپنے آس پاس ……. کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے کیا ؟؟؟ کیسی نظروں سے دیکھ رہا ہے ؟؟ سب کی نظروں میں میرے لیئے کون سا جذبہ نمایاں ہے ؟؟؟ کیا اعتبار , عزت , احترام , نرمی , ہمدردی , الفت جیسا کوئی جذبہ ہے میرے لیئے ؟؟؟ مجھے جانچنے , پرکھنے والے کیا کبھی مطمئن ہوسکیں گے ؟؟؟؟ مجھے میرا جائز مقام مل سکے گا ؟؟ یا میں ہمیشہ شکوک و شبہات اور نارسائی کی کسوٹی پر جھولتی رہونگی ؟؟
ایسا کیوں ہے کہ میں خود سے بھی مطمئن نہیں ہوں …… میں عورت ہوکر بھی عورت سے ہی نظریں چراتی ہوں.. دامن چھڑانا چاہتی ہوں… اپنی ہم ذات سے ہی خوفزدہ ہوں … میں عورت ہوں , عورت سے ڈرتی ہوں. میں ڈرتی ہوں راہ چلتے جب کسی بل بورڈ پر بےحیائی کا اشتہار بنی عورت کو دیکھتی ہوں . بہت خوفزدہ اور شرمندہ ہو کر اپنے ساتھ چلنے والوں سے نظر چرانے لگتی ہوں. اچانک ٹی وی چینل تبدیل کرتے ہوئے کسی ڈرامے میں جب کسی عورت کو اسکے شوہر سے بیوفائی کرتے دیکھتی ہوں , چونک کر اپنے شوہر کی طرف مڑتی ہوں کہ کہیں ان کی نظر میں میرے لیئے دوڑتی محبت اور گرم جوشی میں کمی تو نہیں آگئی …
میں تو اس ڈرامےوالی عورت جیسی نہیں ہوں … مگر میں کہاں ہوں , میرا کردار کہاں ہے ؟؟؟‌ پھر گھبرا کر وہ چینل ہی بدل دیتی ہوں پر یہ کیا ….. بہن کے شوہر پر ڈورے ڈالتی ایک عورت ، بہنوئی کا رشتہ نازک ترین ہے . یہ میری تربیت ہی نہ تھی کہ بڑے بھائی جیسے بہنوئی کے سامنے زیادہ دیر بیٹھ بھی سکوں . لیکن یہ کردار تو عورت کا ہی ہے . میں تو اس عورت میں کہیں نہیں ہوں…… پھر یہ ڈرامے اور میڈیا والی بےحیا اور بےحجاب , رشتوں کو تباہ کرتی عورت کہاں رہتی ہے… کیوں بار بار میرے سامنے میرا ایسا روپ لا کر کھڑا کردیا جاتا ہے جو میرے لئے ڈراؤنے خواب سے بھی زیادہ ہولناک ہے . کوئی مرد ہی بتادے میرا یہ روپ اسکے آس پاس کس تعداد میں موجود ہے . اگر ایک آدھ مثال ایسی مل بھی جائے تو اکثریت ایسی نہیں ہوسکتی .
میں بھی تو ایسی نہیں ہوں ……. میں عورت ہوں مگر اس عورت سے بہت خوفزدہ , بہت نالاں ہوں جو مجھے میڈیا کے ذریعے ہر طرف دکھائی جارہی ہے . میری حیا پر , میرے حجاب پر قینچی چلائی جارہی ہے. میں رشتوں کے حصار اور اعتبار سے محروم نہیں ہونا چاہتی . میں سر اٹھا کر جینا چاہتی ہوں . اعتبار اور وقار کے ساتھ ……. کیا مجھے عزت سے جینے کا حق ملے گا ؟‌کیا مجھے اعتبار جیتنے کیلیئے ہمیشہ کہیں نہ کہیں دہائیاں دینی پڑینگی ؟‌میں دل بہلانے کی کسی بےجان شے سے زیادہ اہمیت کبھی حاصل کر سکونگی ؟؟؟‌ کیا میں حجاب پہن کر دلکش نہیں لگتی ؟ کیا حیا کا زیور ہی میرا سنگھار نہیں بن سکتا ؟؟؟‌ کیا اب میرا وجود تصویر کائنات میں رنگ نہ بھر سکے گا ؟؟؟ آہ ….. میری آزادی اور حقوق کے علمبردار مجھے دوبارہ ذلت کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں . میری فطرت کے مخالف مجھے چلانا چاہتے ہیں .
میں تو فطرتاََ اپنے رب کی رحمتوں کا ایک شاہکار ہوں . اپنی فطرت کے مطابق باحیا , باعزت زندگی گزارنا ہی میرا سب سے بڑا جرم نہ بنادیا جائے . میرے رب نےمجھے معزز بنایا . مجھے تکریم دی . میں محبت , نزاکت اور حیا کا امتزاج ہوں . میں معاشرے کی معمار ہوں خاندانوں کا وقار ہوں . میں محترم ہوں …. یہی میرا مقام ہے… بس…!!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں