پاکستانی میڈیا اور ہماری سوچ – فیض اللہ خان




پاکستانی میڈیا پہ ایک دباؤ تو وہ ہے ، جو خلاء سے نازل ہوا ہے . ظاہر ہے کہ اسکی مخالفت میں جانے کا مطلب نوکری و لائسنس سے فراغت ہے سمجھ آتا ہے ، میڈیا ملک ریاض امتیاز اسٹور وغیرہ کے خلاف بھی خبریں نہیں دیتا وہ اشتہار دیتے ہیں اس سے ہماری اور چینلز کی روزی روٹی چلتی ہے یہ بھی سمجھ آتا ہے .
لیکن میڈیا میرے جسم والی خواتین بطور احتجاج نکلیں تو انہیں بھرپور کوریج دے . اپنے پروگرامز میں بٹھائیں اور جماعت اسلامی یا ایسی دیگر تنظیموں سے منسلک خواتین نکلیں تو انکی سنگل پٹی بھی نہ چلے ؟؟؟؟ باس ……. یہ بھی سمجھ آتا ہے بلکہ بہت اچھے سے آتا ہے یہ سب آپکے اذہان کا فتور ہے …… کیونکہ پردہ حجاب اور برقعے میں آپکے چینلز کو خوبصورت چہرے براہ راست دیکھنے کو ملتے ہیں نا ہی بیمار ذھنیت کے پالیسی ساز پاکستان کو کسی بھی رنگ میں اسلام سے جڑا دکھانا پسند کریں گے ۔ ہوتا اسکے بعد یہ ہے کہ کئی ذھنی نابالغ سوال پوچھتے ہیں کہ مذہبی مسائل پہ سڑکوں پہ نکلنے والی جماعتیں خواتین وغیرہ کیخلاف زیادتیوں پہ خاموش کیوں رہتی ہیں باھر کیوں نہیں نکلتیں ؟؟؟؟
یہی میڈیا کے بیمار پالیسی ساز ہیں جو بھابھی دیور سالی بہنوئی کے چکروں سمیت نفسیاتی ڈراموں کی رینٹنگ لیتے ہیں اور جب ارطغرل ان سب کو دھول چٹاتا ہے تو یاسر حسین سے لیکر شان تک اور سید نور سے فواد چوھدری تک سب کی باں باں سوگوت میں ارطغرل کی قبر تک سنائی دیتی ہے ۔ یا اللہ ہمیں میڈیا میں موجود نفسیاتی بیمار اور ترسے ہوئے شدت پسندوں کی سوچ فکر افکار اور عمل سے محفوظ فرما . آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں