شناخت – قاضی نصیر عالم




یونینسٹ پارٹی کی اولادیں ہوں اور اپنے آقاؤں کے بجائے اپنے عوام کی فلاح کے لیے قانون سازی کریں یہ کیسے ممکن ہے ؟ ڈی این اے بھی کبھی تبدیل ہوا ہے ؟؟؟ جین نسلوں کے سفر سے کبھی تھک پایا ہے؟؟؟ پہلے کسی گھناونے جرم پر اللہ کا عرش ہلتا تھا اب انہی جرائم پر یورپی یونین کے خوف سے اپنا تخت لرزتا ہے۔۔
اس لیے قانون سازی اپنی رعایا کے مفاد کے بجائے آقاؤں کے مفاد میں کی جا رہی ہے ۔ اور لوگ ہیں کہ گلی محلوں سے شاہراہوں تک ہر جگہ لٹ رہے ہیں ہے …….. کعبے کی دیواریں اٹھائی جارہی ہوں تو پیغمبر اپنے بیٹے سمیت دعا کرتے ہیں ۔۔۔
“اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ خدمت قبول فرما اور بلا شبہ آپ خوب سننے والےاور جانے والے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو اپنا اور زیادہ فرمانبردار بنا لیجیے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایسی جماعت پیدا کیجیے جو آپ کی مطیع ہو۔۔”
اور دعا قبول بھی ہوتی ہے ……… باقی رہے ہم پہ مسلط لوگ !!!!! ان کے بڑوں نے بھی بعین یہی دعا اپنے “پروردگار” سے مانگی تھی اور یہ بھی اسی طرح قبول ہوئی ۔ دونوں دعاوں نے ابھی مزید نسلوں کا سفر طے کرنا ہے۔۔۔کل بھی یہ تعداد میں غالب تھے اور آج بھی۔۔۔لیکن “عدد “بھی بھلا کبھی “حرف “ کی قیمت بن سکتا ہے ۔ تم “عدد “ تھے اور وہ بھی عدو کے ۔۔۔ اور تمہارے مقابل گرجنے والا “حرف“ تھا ۔ ”حرف حق “ ……. اور حرف کو زوال نہیں یہی لوح محفوظ پہ رقم ہے ۔ ہمیں علم ہے کہ تم وہ “کرامتی” ہو جو ایک روز ہمارے “کعبہ دل” کی دیوار پہ نصب “حجر اسود” کو بھی اکھاڑ کر لے جاؤ گے جو ہماری بچی کھچی شناخت ہے ، جسے ہم بر بنائے وابستگی چوم کر دل کو تازہ رکھتے ہیں ۔
بس بتانا یہ ہے کہ ہم تمہارے اجداد تو کیا تمہاری آنے والی نسلوں کا بھی ادراک رکھتے ہیں ۔ تمہارے شجرے پنجاب آرکائیو سے امپیریل گزٹ آف انڈیا تک ہر جگہ موجود ہیں لیکن یہ تو کل کی بات ہے . شناخت تو تمہاری “آدم ثانی“ کے وقت سے میسر ہے۔۔۔۔
وَلَا يَلِـدُوٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

اپنا تبصرہ بھیجیں