اپنی دیواریں اونچی کیجیے – افشاں نوید




ہمارے بچپن میں ایک بار گھر میں چوری ہو گئی ۔ صبح اٹھے تو اسٹور الٹ پٹ ….. چور جو لے جا سکتے تھے لے گئے۔ گھر کے آٹھ بچے سہم گئے۔ گھر کی گیلری اور چھت پر جاتے ہوئے ڈرتے۔ گھر میں بس چوروں کی باتیں ، وہی تجسس ، کیسے …… کب ….. کیوں ۔ کیا محلہ میں اور کسی کے گھر آئے ؟؟ پھر اباجی نے پابندی لگادی کہ اب گھر میں یہ ذکر نہیں ہوگا اور ساتھ ہی گیلری کہ دیوار اونچی کرادی ۔ تاکہ ہم اس نفسیاتی فضا سے باہر نکلیں ۔
اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ غم کو حاوی نہیں کرنا چاہتا ۔ دیکھیں کتنی حکمت ہے اس دعا میں جو ہم کسی کی رحلت یا شدید صدمے کی حالت میں پڑھتے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون …….. کہ ہم سارے اسی کے ہیں اسی کی طرف تو پلٹنا ہے ۔ بس ترتیب میں کوئی آگے کوئی پیچھے۔ منزل کی طرف سب رواں دواں ہیں ۔ آپ چلیے ہم رستے میں بس پہنچا ہی چاہتے ہیں ۔ غم ہلکا ہوجاتا ہے کہ ہم کون سا قیامت تک کے لیے آئے ہیں ۔ ہمارا دین انتہائی اعلیٰ درجہ کی حساسیت رکھتا ہے ، ہمارے احساس کے معاملے میں ۔ دیکھیں تعزیت تین دن تک ہے ۔ بیوہ کے لیے چند ماہ ۔ ایک صحابیہ عدت گزرنے پر اچھی طرح تیار ہوئیں اور کہا میں نے اپنی خواہش کے برخلاف ایسا اس لیے کیا کہ بتا سکوں کہ اسلام میں غم کی اتنی ہی اجازت ہے۔
آپ جانیں ۔۔ اسلام میں بین کرنے,بال نوچنے میت پر نوحہ کرنے کی ممانعت ہے۔دل غم سے چور بھی ہو تو زبان پر ایسی بات نہ آئے جو رب کو ناراض کردے۔ حکم ہے کہ عیادت کے لیے جائیں تو امید دلائیں, حوصلہ افزا بات کریں۔ کل اخبار اٹھایا ,ادارتی صفحہ کے پانچوں کالم موٹر وے کے عنوان پر۔ سر شام ٹی وی کھولا سب ٹاک شوز اسی موضوع پر۔ ھود بھوائے اور علماء کو لڑانے سے کیا مسئلہ کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ ہفتہ بھر میں اس موضوع پر جتنی بات ہوسکتی تھی ہر جہت پر گفتگو ہوچکی۔ لوگوں کے دل پھٹ رہے ہیں,غم اور گھٹن کا شکار ہیں۔ بات نہ کریں تو کیا کریں۔ ریاست گم شدہ ہے جو ماں کی جیسی تھی۔ وزیر اعظم صاحب قوم سے خطاب کریں,اعتماد دیں اور بتائیں کہ انھوں نے کیا اقدامات کیے مجرموں کی سرکوبی اور ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے۔
سماجی اور نفسیاتی ماہرین اور علماء دین کی خدمات لی جائیں کہ کیوں اضافہ ہورہا ہے ان وحشیانہ واقعات میں۔ مرض کی تشخیص کی جاتی ہے پھر علاج تجویز ہوتا ہے۔ ایک شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں ہے۔سرمایہ دار کو بس سرمایہ سے غرض ہوتی ہے۔ انھیں کیا کہ دنیا بھر میں پاکستان کا وقار خاک میں ملے۔ ہم دنیا کہ عظیم قوم,واحد ریاست جو نظریہ کی بنا پر وجود میں آئی۔ ہم چار موسموں والا دنیا کا خوب صورت ملک, نوجوانوں کی سرزمین, نصف سے زائد آبادی مضبوط نوجوانوں پر مشتمل جو ھماری آن ہیں۔ ہماری ڈگریاں جعلی اور متنازعہ بنائی گئیں,مہینوں ایگزٹ کا چرچا رہا ہمیں کہا گیا آپ کے پائلٹ جعلی ہیں ہم ہوائی سفر سے خوفزدہ ہوگیے دنیا نے ہمارے پائلٹوں پر بین لگایا۔
قومیں غربت کے ساتھ جی سکتی ہیں ڈپریش کے ساتھ نہیں۔ ہمیں سازشوں کے تحت ڈپریشن زدہ کیا جارہا ہے۔ زندہ قومیں جو سوچتی ہیں ہم اس سے بہت دور نکل آئے۔ ہم وہ بول رہے ہیں, وہ سوچ رہے ہیں, وہ دیکھ رہے ہیں جو ہمارے اعصاب شل کیے دے رہا ہے۔ اعصابی طور پر شل قوموں کو شکست دینے کے لیے دشمن کسی محاذ جنگ کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا۔احساس شکستگی ہی شکست ہے۔ پچھلے چند سالوں میں ہزاروں ریپ کے واقعات ہوئے۔ مدرز فورم ترتیب پاتے کہ معاشرہ انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے کہیں ماں تو اپنا رول نہیں بھول گئی ؟؟ پیرنٹس فورم سر جوڑ کر بیٹھتے کہ یہ جنون کیوں ہوا پارہا ہے ؟؟
علماء کے فورم فوکس کرتے کہ منبر ومحراب سے کہاں تقصیر ہوئی ؟ جو ہونا چاہیے وہ کچھ بھی نہیں ہورہا ہو …… ہو سب رہا ہے جو ہمیں ذہنی مفلوج کررہا ہے ۔ اباجی صرف گفتگو ختم کرنے کو نہیں کہتے دیواریں بھی اونچی کراتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں