پانچ دریاوں کی دھرتی پہ جنم لینے والا – مہتاب عزیز




پانچ دریاوں کی دھرتی پہ جنم لینے والا، حمیت اور بہادری کا استعارہ، ایک دیومالائی کردار رائے احمد خان کھرل برصغیر میں آزادی کی جنگ میں پنجاب کا فخر ہے۔
1849ء میں انگریزوں نے سکھ حکمرانوں سے اقتدار چھین کر جب پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ سکھا شاھی سے نجاعت پانے پر مقامی مسلمانوں نے سُکھ کا سانس لیا۔
لیکن سکھوں کی جگہ انگریزوں کی غلامی بہرحال اکثریت کو قابل قبول نہیں تھی۔ انگریزواں نے پر پُرزے نکالنے شروع کیے تو پنجاب کے مختلف علاقوں میں ان کے خلاف لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ دریائے راوی کے بیلے میں مقامی کھرل، فتیانہ، کاٹھیہ اور دیگر خوددار خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے مزاحمت کی ابتدا کی۔ جس پر قابو پانے کے لیے پاکپتن، اوکاڑہ، منٹگمری (موجودہ ساہیوال) گوگیرہ اور ہڑپہ کے علاقوں پر مشتمل ایک ضلع بنایا گیا جس کا صدر مقام پہلے پاکپتن اور پھر گوگیرہ کو رکھا گیا، صدر مقام میں ضلع کچہری، بخشی خانہ اور جیل تعمیر کی۔ لیکن مقامی نوجوانوں کی تیز رفتار چھاپہ مار کاروائیوں نے انگریزوں زچ کر دیا تھا۔ 1857 کی جنگ آزادی کا آوازہ بلند ہوتے ہی علاقے میں انگریزوں کے خلاف جاری مزاحمت میں شدت آ گئی، مجاہدین سر دھڑ کی بازی لگانے کو نکل کھڑے ہوئے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1857 جون کی ایک صبح، گوگیرہ میں تعینات انگریز اسسٹنٹ کمشنر “رکلے” نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا۔ راوی کے اس پار “جامرہ” کے زمیندار رائے احمد خان کھرل بھی آئے۔ انگریز افسر نے بغاوت سے نبٹنے کے لئے انتہائی رعونت اور حاکمانہ لہجے میں دھمکیاں دے کر گھوڑے اور جوان مانگے۔
باقی لوگ خاموش رہے، لیکن احمد خان نے جواب دیا؛ “صاحب، یہاں کوئی بھی اپنا گھوڑا، عورت اور زمین نہیں چھوڑتا”۔ جس پر انگریز آفیسر آگ بگولہ ہو گیا۔ خاصی تلخی کے بعد دربار برخواست ہو گیا۔ انگریز دربار سے واپس پلٹنے کے بعد رائے احمد خان کھرل نے مزاحمت کی قیادت کا فیصلہ کیا۔ تمام قبائل کو متحد کرکے 26 جولائی 1857ء کو” گوگیرہ جیل” پر حملہ کرتے ہوئے تمام قیدی مجاہدین کو رہا کرو لیا۔ جوابا انگریز فوج نے اُن کی گرفتاری کے لیے “جھامرے” پر حملہ کیا۔ سردار نہ ملا تو بستی کو آگ لگا کر عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ لیکن انگریز چوکیوں پر رائے احمد کے حملوں نے ہوا اکھاڑ دی۔ انگریزوں کو پے در پے اتنے چرکے لگے کہ وہ بھوکھلا اُٹھے۔ مجاہدین چھلاوں کی طرح انگریزی چوکیوں، ڈاک اور رسد پر ٹوٹتے اور بجلی کی تیزی کے ساتھ روپوش ہو جاتے۔ مقامی افراد انکو مدد فراہم کرتے، ہر گاوں میں ان کو پناہ، کھانا، اور کھوڑوں کو چارا مہیا کرنا فخر کا موجب تھا۔ اس کے برعکس انگریزی فوج کو قیمتا بھی دینے کو تیار نہ ہوتے۔ فوج زبردستی چھینتی تو نفرت میں مزید اضافہ ہوتا۔ علاقے میں مجاہدین کا پیچھا کر والی فوجی ٹولیوں کو مقامی چروائے غلط راستوں پر ڈال کر بھٹکا دیتے۔
احمد کھرل اور دیگر مجاہدین کی مزاحمت پر قابو پانا انکے لیے ناممکن ہو چکا تھا۔ ایسے میں ہمیشہ کی طرح غداری ہی انگریزوں کے کام آئی سردار کمال کھرل نے رائے احمد کھرل کے ٹھکانے کی مخبری کر دی۔(غداری کے انعام میں کمالیہ کی جاگیر ملی۔ پیپلز پارٹی کا سابق وزیر خالد خان کھرل اسی غدار خاندان کا چشم چراغ ہے) 21 ستمبر 1857کو انگریزوں اور سکھوں کے فوجی دستوں نے گشکوریاں کے قریب ‘نورے دی ڈل’ کے مقام پر احمد کھرل کے عاضی ٹھکانے کا محاصرہ کر لیا۔ پھر عین نماز کے دوران مجاہدین پر حملہ کیا۔ احمد خان اور اس کے ساتھی بڑی بہادری سے لڑے اور انگریز فوج کے کم و بیش بیس سپاہی مارے گئے۔اس لڑائی میں رائے احمد خان کھرل اپنے بھائی، بھتیجے اور دیگر مجاہدین کے ہمراہ جام شہادت نوش کر گئے۔اس وقت اس رائے احمد کھرل کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی۔ رائے احمد خان کھرل اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد اُن کے پسماندگان پر انگریزوں اور غداروں نے مظالم کے پہاڑ توڑے۔جگہ جگہ پھانسی گھاٹ بنائے گئے، ہزاروں لوگوں کو مجاہدین کا ساتھ اور “سہولت کار” ہونے کے الزام میں دار پر لٹکایا گیا۔
مجاہدین کے خاندانوں کی زمینیں چھین کر انگریزوں کے مُخبروں کو الاٹ کر دی گئیں اور کہا گیا کہ ’’جہاں تک گھوڑا دوڑا لو گے وہ سب زمینیں تمہاری ہوں گی۔ انکے مردوں کو بیگار کا پابند کیا گیا۔ جو بیگار سے بھاگ جاتے تھے اُنہیں ’’رسّا گِیر‘‘ (Cattle Lifters) قرار دے کر جیلوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔ جِن قبائل نے تحریکِ آزادی میں قربانیاں دِیں انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا۔آج بھی گوگیرہ سے لے کر دریائے راوی‘ بھائی پھیرو سے لے کر ہیڈ بلوکی اور ہیڈ بلوکی سے لے کر گوگیرہ تک جو جنگِ آزادی 1857ء کا مرکز تھا نہ کوئی کالج ہے اور نہ کوئی یونیورسٹی اور نہ ہی کوئی سڑک‘ اسی طرح اوکاڑہ سے ہیڈ تریموں تک اور ستلج کے آر پار کوئی یونیورسٹی نہیں ہے۔ ایسے ہی کئی باقی علاقے جن سے لوگ ناواقف ہیں وہ بھی اس جنگ آزادی کا حصہ رہے جو تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔ انہیں آج بھی “جانگلی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف جنگ آزادی کو کچلنے والے انگریز “لاڈ برکلے” کی یادگار اب بھی ساہیوال میں موجود ہے۔ لیکن آزادی کے بہتر برس بعد بھی رائے احمد کھرل کی کوئی یاد گار قائم نہیں کی جا سکی۔
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں