عوام رُل رہی ہے – سمیرا غزل




اب ان کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ کہ دھوکا ہوا ہے ، سننے والے سن رہے ہیں کہ اناڑیوں کے لشکر کا سربراہ گلابی لہجے میں تقریر ہی کر سکتا ہے ، چونکہ سارا کچرا ایک جگہ جمع ہوا تھا لہذا اب کچرا ہی کچرا ہے محکموں اور اداروں سے گلی کوچوں تک ۔

عوام کھلی آنکھوں سے کچرا صاف کرنے والوں کو دیکھ رہے ہیں اور پہچان رہے ہیں۔ عوام کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ کیسے پڑا رہنے دیا جائے؟ آئیے چن چن کر واقعات جمع کیجیے جو براہ راست اسلام کے اصولوں اور حد بندیوں سے ٹکراتے ہوں۔ جھوٹے ہوں اور وہ کچھ نہ بولیں تو کم فہموں کے مجرم۔ سچے ہوں اور وہ نہ بولیں تو خدا کے مجرم ۔ اچھی طرح مکسچر بنادیجیے ، ایسا آمیزہ بنائیے کہ شامل لوازمات کو پہچاننا نا ممکن ہوجائے۔

پھر لے آئیے کرائے پر اور خوب بکواس کرائیے شناخت بھی نہ ہونے دیجیے اور خود بغلیں بجائیے۔ اتفاقی حادثات زیر غور ہوتے ہیں تسلسل پہ چونک جانا چاہیے۔ہوش نہیں گنوانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں