کراچی کے حقوق اور کراچی والے! – مریم حسن




کافی دن سے نیوز فیڈ میں مسلسل جماعت اسلامی کے حقوقِ کراچی مارچ کی اپڈیٹس آرہی ہیں اور میں انہیں سرسری سا دیکھ کر گزر جاتی تھی کہ دل سے پوری طرح ہم آواز ہونے کے باوجود میں جا نہیں سکتی ، کیونکہ پاپا کو پسند نہیں۔

لیکن جماعت کی محنت ، شہر کے لیے ان کے اخلاص اور کراچی والوں کے لیے کی جانے والی مستقل کوششوں کی وجہ سے اس مارچ کی کامیابی کے لیے پرامید بھی تھی اور ایک عذاب مسلسل کے خلاف آواز اٹھانے پر شکر گزار بھی ۔ آج اتفاقاً ایک پوسٹ کا کمنٹ سیکشن کھل گیا اور واللہ دماغ گھوم گیا ۔ لوگ کیسے سامنے نظر آتی حقیقت کو جھٹلا کر اپنا خون چوسنے والوں کی حمایت کرسکتے ہیں؟ انتہائی فضول الفاظ و انداز کے ساتھ اس مارچ کو محض ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ کہہ رہے تھے لوگ۔ جماعت کے لوگوں کو دوغلا اور ان کے کاموں کو قبل از الیکشن وعدے کہہ کر ٹھٹھے لگا رہے تھے۔ وہ سب دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ واقعی شعور بہت ضروری ہے، ورنہ آنکھوں دیکھا بھی انسان کو اپنی مرضی کے رنگوں میں ہی نظر آتا ہے۔ یہ جو لوگ کراچی مارچ کی مخالفت کررہے ہیں یہ نہیں جانتے کہ کراچی میں الخدمت کے ہسپتال کم قیمت میں بہترین علاج مہیا کرتے ہیں؟

انہیں کے الیکٹرک کی غنڈی گردی (جس کے آگے حکومت بھی بےبس ہے) کا شکار لوگوں کے ساتھ ہر تھوڑے دن بعد کھڑے حافظ نعیم نظر نہیں آتے؟ انہیں حالیہ بارشوں میں سارے شہر میں پھیلے الخدمت کے نیٹ ورک کی بے لوث اور بہترین کوششیں نظر نہیں اتیں؟ انہیں عید ، رمضان پر نچلے طبقے تک خوشیاں پہنچانے کے لیے کی گئی جماعت اسلامی کی بہترین حکمت عملی نہیں دکھتی؟ انہیں اپنے شہر کو اب تک ملے سب سے بہترین میئر کی کارکردگی بھی یاد نہیں جو واقعی اس شہر کے باپ جیسے تھے؟ عجیب لوگ ہیں جو یہ نہیں دیکھتے کہ کیسے یہاں کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اداروں میں تحفظ بھی جماعت کی ذیلی تنظیم دے رہی ہے. ( یہ چیز میں نے خود یونیورسٹی میں گزارے مہینوں میں دیکھی ہے لہذا No Offence) ۔ بغیر اقتدار کے بھی عوامی بہبود کے لیے بہترین کاوشیں نہیں دکھتیں؟ عجیب لوگ ہیں یہ۔

جو پچھلے کئی سالوں سے ان کا خون چوس کر انہیں کبھی پیاسا تڑپاتے ہیں تو کبھی ریکارڈ توڑ گرمی میں بجلی کی عدم فراہمی پر بلبلانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ جو نہ ٹرانسپورٹ کا سکھ دے سکے ہیں نہ رہائش کا۔ جن کی ناقص کارکردگی نے ہر ہر موڑ پر عوام کی چیخیں نکلوائی ہیں، یہ ابھی بھی ان کے وفادار ہیں۔ مطلب سیریسلی؟ جو ایک دوسرے ملک میں بیٹھ کر آپ کے شہر میں موت کا ناچ نچواتے تھے انہیں آپ اپنا نمائندہ مانتے ہیں؟ جس بندے کی ہاتھ میں کلاشنکوف پکڑے، اسی شہر کے لوگوں پر گولیاں چلاتے ویڈیوز موجود ہیں اسے اپنا میئر تسلیم کرتے ہیں؟ جنہوں نے روشنیوں کے شہر کو اندھیرے عطا کیے انہیں ہی اپنا رہنما مانتے ہیں؟ واقعی عجیب لوگ ہیں۔ زیادہ دور نہیں جاتے ، حال ہی میں کراچی کے سو کالڈ حقیقی وارثوں نے ایک ریلی نکالی، جس کی بدولت راستوں کی بندش اور بلاوجہ کی رکاوٹوں نے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا عذاب کردیا تھا۔

کل سفر کے ستائے ہوئے مسافر سے بات کرتے بتایا کہ ستائیس کو پیپر ہے، ریلی بھی ہے، ایک آواز ہوکر سب نے کہا، جماعت کی ریلی ہے، بالکل مسئلہ نہیں ہوگا! اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات بھی کسی کی تکلیف کا باعث نہیں ہوتے۔ (احساس کی بات ہوتی ہے سب) عقل کہتی ہے کہ انسان حکمران اسے بنائے جو اس کے حق میں بہترین ثابت ہو، لیکن جانے یہ کون لوگ ہیں جو ان کے حمایتی ہیں جن کے ہاتھوں پر شہر کراچی کی عوام کے حقوق کا خون ہے، یہ اپنے لیے بات کرنے والوں کو تو ڈرامے باز کہتے ہیں اور اپنے حقوق سلب کرنے والوں کو مسیحا۔ ایک سیاسی جماعت کی نظر ووٹ بینک پر بھی ہوتی ہے اور عوامی رجحانات پر بھی، بقول آپ کے یہ ووٹ لینے کے لیے ہے تو بھائی پیچھے کی کارکردگی دیکھو اور ووٹ انہیں ہی دے دو۔ سکون میں رہو گے۔ میری نظر میں، میرے شہر اور میرے لوگوں کے ساتھ سب سے مخلص یہی جماعت ہے جو اب حقوق کا علم اٹھائے 27 ستمبر کو نکلے گی۔

کیونکہ میرے شہر کی ہر مشکل میں یہ میرے شہر کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ سو ساتھ اسی کا دینا چاہیے جو اپنا ساتھی ہو، ورنہ مظلوموں کا ساتھی ہونے کا دعویٰ کرکے خنجر گھونپنے والوں کو ہی دیکھا ہے ہم نے۔ اب، 27 کو شہر کراچی کے حقوق کا مطالبہ کیا جائے گا، اور شعور رکھنے والے شہریوں کو دیکھ کر چشم فلک گواہی دے گی کہ اب وقت آگیا ہے جب حق کھانے والوں سے حق نکلوایا جائے گا۔ اب کراچی کو حقوق مل کر رہیں گے۔ ان شاءاللہ! مجھے نہیں معلوم کہ میں جا پاؤں گی یا نہیں ، لیکن یہ تحریر میری گواہی ہے کہ میں ، اپنے شہر کے لوگوں کے لیے اٹھنے والی جماعت کے ساتھ کھڑی ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں