یہاں عورت آزاد نہیں – آمنہ صدیقی




“ایوانِ باشعور ! اگر آزادی نام ہے خود کو دوسروں کی مرضی کے نام کرنے کا ، دوسروں کو اپنے حقوق سلب کرنے کا اختیار دینے کا، دل کی ماننے کے بجائے روایات کی بھینٹ چڑھنے کا ، تو حزبِ اختلاف یہ کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہاں عورت آزاد ہے!!

جہاں عورت کو چاردیواری کا قیدی بنا کر اس کی سوچ کو مفلوج کیا جاتا ہو، اس کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا جاتا ہو، جہاں عورت لباس تک اپنی مرضی کا پہن نہیں سکتی ہو ، دو گز کی لمبی چادر میں اس کو باندھ کر رکھ دیا جاتا ہو، جہاں اپنی مرضی چلانے والی عورت پر بدکار کا ٹھپہ لگادیا جاتا ہو، پردہ اور چاردیواری کی قید میں اس کو برباد کردیا جاتا ہو تو میں کیسے کہوں کہ یہاں عورت آزاد ہے!
قائد حزبِ اختلاف! آزادی کا مفہوم یورپ جاکر آپکو پتہ چلے گا جہاں عورت مرد کے شانہ بشانہ ترقی کے حصول کیلئے سرگرداں ہے، جہاں اپنی مرضی سے جیتی ہیں، جو لباس چاہے پہنتی ہیں، چاردیواری سے باہر نکلتی ہیں اور ثابت کردیتی ہے کہ وہ کمزور نہیں بلکہ بہت قابل ہے!! پر آپ کیسے سمجھیں گی کہ

برباد گلستاں کرنےکوبس ایک ہی الوکافی تھا، ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا !
اپنی تقریر کا اختتام کرکے مقررہ نے ڈائس چھوڑا جہاں پر دوسری مقررہ نے قبضہ جمایا ………کالج میں آج مباحثہ بعنوان ‘یہاں عورت آزاد نہیں’ زوروشور سے جاری تھا، دونوں اطراف کے مقرر اپنی جادو بیانی کے سحر میں حاضرین کو مبتلہ کیے ہوئے تھے۔۔حاضرین کی نشستوں میں سے ایک پر میں بھی براجمان دونوں جانب کے مقرروں کے خیالات سن رہی تھی، ابھی آنے والی لڑکی نے جو باتیں کہیں تھی اس نے میرے رونگھٹے کھڑے کردئیے تھے، ڈھکے چھپے لفظوں میں وہ اسلام کے نظریہ حیا پر وار کرکے مغربی دنیا کو رول ماڈل کہہ گئی تھی۔۔میری سوچوں کو آنے والی مقررہ نے بریک لگایا۔۔

“محترمہ آتی ہیں اور یورپ میں آزادی نسواں کی ایک جھلک دکھا کر یہ بتا جاتی ہیں کہ یہ آزادی ہے، محترمہ! آپکی ذہنی مرعوبیت کا اندازہ تو اسی سے ہوجاتا ہے، چلیں آپکو آپکھ پیارے یورپ میں آزادی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں، جرمنی کی بھری پری عدالت یعنی قانون کی چاردیواری میں سرعام مسلمان عورت مروۃ الشربینی کا قتل کردیا جاتا ہے اس جرم میں کہ وہ حجاب زیب تن کیے ہوئے تھی!!آپکا آئیڈیل یورپ تو لباس کی آزادی دیتا تھا نہ، وہاں ہر کوئی اپنی مرضی سے زندگی گذار سکتا ہے نہ!؟پھر یہ کیا ہے۔۔کیا میں پوچھنے کا حق رکھتی ہوں؟؟ بات یہ ہے کہ یورپ اگر آزادی فراہم کرتا بھی ہے تو مذہب کی تفریق کے ساتھ۔۔تمام انسان ان کے نظریے کے تحت یکساں نہیں!! اور جس نام نہاد آزادی نسواں کی بات آپ کررہی ہیں نہ تو اس کو ایک سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد لعنت کے چار حروف بھیجنا بھی پسند نہ کرے کہ انکے اس نظام نے خاندانی نظام کے پرخچے اڑا دئیے ہیں ۔ جس یورپ کی تعریف میں زمین آسمان ایک کیا جارہا تھا اگر وہ اس طرح کی آزادی کو قفل نہ لگائے تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے بچوں کو کہانی سنائیں گے ‘ایک تھا یورپ’!!

محترمہ نے مزید نکتے اُٹھائے لباس اور چار دیواری اور دل کی مرضی پر۔۔۔۔تو انکو بس یہ بتا دوں کہ ان کا پیارا راج دلارا یورپ بھی ایک قانون کا پابند ہے، اور اسلام کے پیروکار بھی اسلام کے بتائے ہوئے دائرہ قانون کے پابند ہیں، مرد اور عورت سے ماورا۔۔اور ہاں وہ قانون خیر ہی لاتا ہے کہ وہ خدا کا قانون ہے . اب قانون کی بات آپ سے کیا کروں کہ جنگل کا کوئی قانون نہیں ہوتا!! آپ نے بات کی کہ یورپی خواتین قوم کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور یہاں کی خواتین اس میدان میں نظر نہیں آتی کہ پردہ ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔۔تو آپ کو ایک عینک کی شدید ضرورت ہے تاکہ آپ دیکھ سکیں شہناز لغاری ایک باپردہ پائلٹ ہیں،سمعیہ راحیل قاضی اور بھی کئی باپردہ خواتین ملک کیلئے کام کرتی نظر آئیں گی . پھر ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضہ سے لے کر فاطمہ جناح اور پتہ نہین کتنی خواتین نے ترقی کیلئے کام کیا۔۔پر آپ نہیں سمجھیں گی کہ ……………. عقل کے اندھوں کو سب الٹانظرآتاہے، مجنوں نظر آتی ہے ، لیلی نظر آتا ہے

اپنے ہتھیاروں کا درست استعمال کرتی یہ لڑکی اعتماد سے بولتی دشمن کو مات دے رہی تھی اور ساتھ مجھے یہ امید بھی دلا رہی تھی کہ کیا ہوا گر معاشرے کا کچھ حصہ یورپ کی غلامی پر راضی ہے پر ابھی اسلامی نظریہ رکھنے والے لوگ بھی کم نہیں!! یقینا آپ میری رائے بھی پوچھیں گے کہ یہاں عورت آزاد ہے کہ نہیں!؟ یہاں عورت آزاد تو ہے مگر کچھ آزاد رہنا نہیں چاہتی وہ جو مغرب کی غلامی کی زنجیریں خود اپنے پیروں میں جکڑ بیٹھی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جن سے ان کی آزادی چھینی نہیں جاسکتی کہ ان کی سوچ آزاد ہے ہر غلامی سے۔۔ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر بھی کوئی انہیں اپنا تابع نہیں کرسکتا . اور یہ آزادی انہیں اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے خود کو خدا کا بندہ (غلام) بنالیا …….. مثال آپکے سامنے ہے!!

اپنا تبصرہ بھیجیں