ایک سے دوسری چوٹی تک – قاضی نصیر عالم




پہلی بار ہائیکنگ کے لیے نکلے تو گرگ باراں رسیدہ مقامی دیہاتی بطور گائیڈ ہمراہ تھا . سفر شروع ہوا تو ایک کزن خاصا پرجوش تھا اور لمبے ڈاگ بھرنے کے ساتھ پگڈنڈیوں پہ جہاں موقع ہاتھ آتا تو عمودی شارٹ کٹ لے لیتا . عمر رسیدہ گائیڈ دھیمی چال چلتے ہوئے مسکراتا اور زیر لب کہتا ،”ٹک ریسیں” آرام آ ویسی”

کوئی گھنٹہ بھر کے بعد کزن موصوف کا اسٹیمنا جواب دے گیا ۔ گھڑی بھر سستانے کو بیٹھے تو وہ کہنے لگا۔ ان راستوں پر آنکھیں بند کر کے اپنے قدموں کی چاپ سنتے ہوئے چوٹیاں سر کر سکتا ہوں ۔ نوابوں کی بیگار کاٹی ہے ، جب سر پہ بھاری سامان اٹھائے تین تین دن کی مسافت طے کرتے تھے اور کھانے کے لیے مکئی کی باسی روٹی ہی ہوتی تھی ۔ تمہیں کیا خبر کہ غلامی کیا ہوتی ہے۔ ان پگڈنڈیوں پر جوانی بتا دی ۔ یہ پہاڑ نرم قدموں ، درمیانی رفتار، مستقل مزاجی اور پیہم صبر سے سر ہوتے ہیں۔۔۔عجلت پسند تھوڑے فاصلے پر ہی ہانپ جاتے ہیں ۔ اس نے ادھ جلے دیار کے درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”موسم موزوں نا ہو تو آسمانی بجلیاں ہی کافی ہوتی ہیں۔ ” جو پہاڑ کی چوٹی ہمیں دکھائ دے رہی تھی اس جیسی کوئی چھ چوٹیاں سر کرنے کے بعد ہم منزل پر پہنچے اور پورے راستے ہمیں وہ یہی کہتا رہا “بس یہ سامنے منزل ہے” .

کسی ایک لمحے اس نے ہمارا حوصلہ ٹوٹنے نہی دیا اور نا ہی ہمیں یہ گماں گزرا کہ یہ راستہ بھلا بیٹھا ہے۔ وہ اگر اکیلا ہوتا یا من پسند لوگوں کے ہمراہ ہوتا تو شاید نصف سے کم وقت میں وہ یہ مسافت طے کر لیتا لیکن اسے پورے قافلے کو منزل تک پہنچانا تھا۔۔اور قافلے میں تو سبھی شامل تھے ہلکے بھی اور بوجھل بھی ۔ جواں سال بھی اور عمر رسیدہ بھی۔ جہاں اس نے مناسب سمجھا کھائیوں کو چھوڑ کر قدرے طویل لیکن ہموار راستے کا انتخاب کیا اور دو ایک جگہ مفروروں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر راستہ بھی بدلا۔۔لیکن جو منزل ہم طے کر کے نکلے تھے اس منزل پر پہنچا کر دم لیا ۔ اس سفر کے خاصے عرصے بعد انگلینڈ میں قریبی دوستوں کی محفل تھی پاکستان سے ایک مذہبی جماعت کے سربراہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے سوال و جواب شروع ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا طعنہ کیوں ملتا ہے؟؟ فرمانے لگے بسا اوقات کوئ راستہ باقی نہی رہتا پھر کہنے لگے اب عافیہ صدیقی کا معاملہ ہی دیکھ لیں ۔

ایون ریڈلی نے جب اس بابت انکشاف کیا تو کچھ مہربان ۔ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے . اس وقت ہم بہت دباو میں ہیں امریکی پریشر کو کاؤنٹر کرنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس ایشو کو لے کر اٹھیں۔۔ہم تو ویسے بھی اس پر احتجاج کر رہے تھے لیکن اس وقت یہ اندازہ ہوا کہ اس کا فائدہ کسے ہو رہا ہے حالانکہ کون نہی جانتا کہ عافیہ کو امریکہ کیسے پہنچایا گیا تھا۔ اب آپ بتائیے کہ اس صورت میں کیا ہم وہ احتجاج چھوڑ دیتے ؟؟؟ بعد میں ایسے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں مذہبی جماعتیں اور سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی رہیں اور فائدہ سمیٹنے والی قوتیں وہی تھیں۔ قصہ یہ ہے فیصلہ سازی کو اس کے اصل مرکز یعنی پارلیمان کی طرف منتقل کرنا پہاڑ سر کرنے کے مترادف ہے۔۔۔ایک صبر آزما سفر ہے۔ اپنی سیاسی قیادت پر اعتماد رکھیے۔ کسی جگہ پیش قدمی ہو گی تو کسی جگہ پسپائی بھی ہوگی ۔ منزلیں مارتے آگے بڑھیں گے تو سستانے کو بھی بیٹھیں گے۔ کبھی پر پیچ پگڈنڈیوں میں راستہ بھٹک بھی جائیں گے اور سفر طوالت بھی اختیار کرے گا۔

لیکن امید رکھیے کہ راستہ کھوٹا کرنے والے اور دانستہ بھٹکانے والے ایک نہیں تو دوسری چوٹی پر پہچان لیے جائیں گے اور شہرت کی اسی بلندی سے گمنامی کی کسی گہری کھائی میں جا گریں گے۔ – اسی قافلے میں سے ہی کوئی گرگ باراں دیدہ نیابت سنبھالے گا اور منزل تک لے کر پہنچے گا . کمُ از کم اس وقت تک کے لیے اخلاق سے گرے ان لطیفوں سے انہیں معاف رکھیں ۔ باقی برا ہو عمران خان کا کہ ہم ساری عمر نواز شریف اور زرداری کو کرپٹ ہی سمجھتے رہے لیکن ان دو سالوں میں دونوں پر کوئی کرپشن ثابت نہ کر کے اس نے دونوں کو ہی ایماندار ثابت کر دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں