سوشل میڈیا کی اہمیت – نازنین احمدی




اللہ پاک نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ دوسروں سے بات چیت اور میل جول کرنا چاہتا ہے . اسے دوسروں سے اپنے خیالات اور احساسات شیئر کرکے اچھا لگتا ہے ، پرانے وقتوں میں لوگ ایک دوسرے سے بات کرکے اور بالمشافہ ملاقات کرکے اپنے خیالات اور جذبات و احساسات کا اظہار کرتے تھے . کچھ دوسروں کی سنتے تو کچھ اپنی سناتے .

اس طرح ایک دوسرے کے حالات سے بھی واقف ہو جاتے اور اگر کسی کا کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ بھی حل کرنے کی کوشش کرتے ، پھر آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب ملنا ملانا قصہ پارینہ بنتا گیا اور اسکی جگہ انٹرنیٹ کی سائیٹس ٹوئتر فیس بک ، واٹس ایپ ، اسکائپ اور اسی طرح کی دوسری سائیٹس نے لے لی ، دوسری سائنسی ایجادات کی طرح ایجاد ہونے والی سائیٹس کا بھی بہت فایدہ ہو رہا ہے . لوگ اب ایک دوسرے کے حالات اور زندگی کے اکثر واقعات سے آگاہ ھو جاتے ہیں بلکہ اب تو لوگ اکثر اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی بڑی جگہ جیسے کہ کے ایف سی ، میکڈونلڈ یا پیزا ہٹ وغیرہ جاتے ہیں تو بڑے فخر سے وہاں کی تصاویر اور ویڈیوز اپنے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر شیئر کر دیتے ہیں کہ دیکھو اب ہم بھی برگر فیملی کے ہوگئے ہیں کہ ایسی جگہوں پر جاکر غریبوں کی غربت کا مذاق اڑا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح ہر چیز کے استعمال کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور ایک منفی ، اسی طرح سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے بھی بہت سے مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ ایک مثبت پہلو جو سب کی نظر میں ہے کہ اب ہم اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے ہر وقت ہر جگہ رابطے میں رہ سکتے ہیں انکی خیر خیریت دریافت کی جا سکتی ہے ۔ لیکن اسکے کچھ پہلو منفی بھی ہیں ، اب ہم دور والوں کے قریب آ کر اپنے قرب و جوار میں رہنے والوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہمیں اپنے فیس بک واٹس ایپ پر موجود دور دراز کے دوستوں کی طبیعت اور حالت کا تو پتہ ھوتا ھے لیکن ہم اپنے گھر میں موجود اپنے والدین اور بہن بھائیوں پر گذرنے والے واقعات اور حالات سے اکثر لاعلم رہتے ہیں۔ جہاں ہمیں یوٹیوب اور واٹس ایپ پر شیئر ہونے والی مذہبی اور دینی ویڈیوز سے دین کا علم ذیادہ سے ذیادہ ہوگیا ہے وہیں ان سائیٹس پر موجود فحش اور گندی ویڈیوز سے فحاشی اور عریانی کا بھی بازار گرم ھے .

آج کل ہونے والے ننھی کلیوں جیسی معصوم بچیوں سے ریپ اور پھر قتل کے بڑھتے واقعات کے پیجھے انہی فحش ویڈیوز کا بڑا ہاتھ ھے ، اس ضمن میں موثر قانون سازی کی ضرورت ھے کہ ان فحش اور گندی ویب سائٹس اور مواد کا پوری طرح خاتمہ کیا جائے۔۔۔ ان ویب سائیٹس مالکان کو گرفتار کرکے انہیں سخت سزا دی جائے، سائبر کرائم بل پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ فیس بک اور ٹوئیٹر پر موجود فحش ویڈیوز اور تصاویر کو اڑا دیا جائے اور فحش ویڈیوز کو شئیر کرنے والوں کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے۔ جہان تک انٹر نیٹ کے مثبت استعمال کی بات ھے تو اس میں بھی الحمدللہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لوگوں میں دینی اور مذہبی شعور بڑھ رہا ھے لوگ علمائے کرام اور مفتیان کرام کے بیانات شوق سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور اپنے روز مرہ کے دینی مسائل مفتیان کرام سے حل کرواتے ہیں اچھے اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں دین کا شعور بیدار ھوا ھے .

ماشاء اللہ اب نوجوانوں کی اکثریت سنت کے مطابق داڑھی رکھنا پسند کرنے لگی ہے، یہ اچھا اور نیک رجحان ہے ۔الحمدللہ ۔ مگر بات وہی ہے کہ اصل کمی اچھے شعور کی ہے کہ اگر ہم برائی کو قبول کرسکتے ہیں تو ہم میں اچھائی اور نیکی کو قبول کرنے کی اہلیت بھی موجود ہے۔ چیزیں بری یا خراب نہیں ھوتیں ان کا برا استعمال اور اچھا استعمال انہیں اچھا یا برا بناتا ہے۔ اسی شعور کو اگر ہم سمجھ لیں تو ہم کسی بھی نئی ایجاد کو اپنا کراس سے بہتر کام لے سکتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کو دین اور اسلام کا صحیح شعور عطا فرمائے آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں