بچوں کا تربیتی اکاؤنٹ مکمل کیجیے – محمد اسعد الدین




ڈیرپیرنٹس ……. آپ نے موٹروے سانحے کا ”ایکسرے“ کر لیا ؟ ”لیب ٹیسٹ“ کر لیا ؟؟ جی ، آپ کی کنفیوژن بالکل ٹھیک ہے کہ کسی سانحے کا ایکسرے ، لیب ٹیسٹ کیا ہوتا ہے ؟ کیسے ہوتا ہے ؟ کہاں سے ہوتا ہے ؟ بس یہ پڑھ لیجئے ، آپ کو سارے سوالوں کے جواب مل جائے گا۔

موٹر وے پر اندھیرے میں سفر کرنے والی خاتون کو اکیلے دیکھ کر چند ہاتھ اس کی طرف لپکے، کچھ قدم آگے بڑھے پھر ایک ”واقعہ“ ہوگیا ۔ سکینڈوں ، منٹوں میں واقعہ پورے ملک کا سانحہ بن گیا ۔ ہنگامہ مچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابھی قیامت آنا باقی ہے ، کیوں کہ ایک گمنام سے گھر میں پیدا ہونے والے ایک عام سے بچے کو ”RAPIST“ بنانے والے سارے وائرس زندہ سلامت ہیں ۔ میرے ملک میں معصوم بچوں ، بچیوں ، بہنوں ، بیٹیوں ، ماؤں کی عزتوں کو نوچنے والے شکاری تیار کرنے والی فیکٹریاں چل رہی ہیں ۔ یہ وائرس کون سے ہیں؟یہ فیکٹری کہاں ہیں ؟ اب ذرا دل تھام کے، دماغ سنبھال کے، نارمل بلڈپریشر کے ساتھ سنیے کہ یہ ”RAPIST“تیار کرنے والی فیکٹریاں،
کارخانے ہماری سوسائٹی کے وہ سارے گھر ہیں جہاں ”پیرنٹس“بچے کے پیدا ہوتے ہی سمجھتے ہیں کہ ان کا ”کام ختم“ہوگیا ، آگے کہ سارے کام کوئی سر ، کوئی مس ، کوئی مولوی ، کوئی ٹیوٹر کرے گا۔

ہم پیسے دیں گے، باقی لوگ سروسز فراہم کریں گے۔ بچہ ہمارا ۔۔۔۔۔۔ اس کی تربیت کوئی اور کرے ، اسے انسان کوئی اور بنائے۔ یہ فارمولا خاموشی سے ہر جگہ فٹ ہونے لگا، بس پھر کیا تھا سیٹی بجی اور ریس شروع ہوگئی، بچے پیدا ہوتے گئے، گھروں سے نکل کر مدرسے، اسکول، کالج، یونیورسٹی سے سارے ”کورس پاس“ کرتے ہوئے پریکٹیکل لائف میں پہنچے، نہ ادب ، نہ احساس ، نہ خیال ، نہ رحم ، نہ شرم ، نہ حیا ، نہ جذبات پر کنٹرول ، نہ خواہشات کو لگام ، کچھ بھی تو نہیں تھا !!!! تربیت کا اکاؤنٹ خالی تھا ، جو جس فیلڈ میں گیا ایک ریپسٹ بن گیا ۔ کوئی ”فزیکل ریپسٹ“ کوئی ”ایموشنل ریپسٹ“ تو کوئی ”مینٹل ریپسٹ“ ۔ جس کو جہاں موقع ملتا گیا ، جیسے داؤ لگتا گیا سامنے آنے والے کو لوٹتا گیا ، نوچتا گیا ۔ کہیں پرفیوم ، ٹائی لگا کے اور کہیں جنسی بھیڑے کی طرح ۔۔۔۔ لٹنے والے لٹتے رہے لیکن کسی نے ایکسرے نہیں کیا، ٹیسٹ نہیں کیا کہ یہ ریپ کرنے والوں کے ”پیرنٹس“کون تھے؟

انہوں نے کبھی نہیں سوچا، کبھی پلاننگ نہیں کی کہ اگر آج بچے میں صحیح تربیت کا سافٹ ویئر انسٹال نہیں کیا تو یہ کل گلی سے، محلے سے ، گیدرنگ سے ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی سے ، ٹی وی ، سوشل میڈیا سے دیکھ کر ، سن کر ٹریننگ مکمل کرے گا اور ایک ریپسٹ بن جائے گا ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں