یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہوئے لوگ – قاضی نصیر عالم




ترک کہتے ہیں “وقت سے پہلے بانگ بلند کرنے والے مرغے بہت جلد ہنڈیا میں پہنچ جاتے ہیں”۔۔ ترکوں کی پیہم صبر کی صدی اپنے اختتام پر ہے۔۔۔لیبیا کے ریگزاروں سے آزربائیجان کے مرغزاروں تک ان کی انصاف پر مبنی “نئے عالمی نظام” کی اذان گونج رہی ہے۔۔۔ترکی آج اتنا پراعتماد ہے کہ ہر سمت اور ہر محاذ پر پیشقدمی کر رہا ہے ۔۔۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں دفاعی سازوسامان کی برآمدات (ایکسپورٹ) کی شرح میں اس نے دنیا کے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ان چار پانچ سالوں میں اس کی دفاعی پیداوار کی برآمدات میں ایک سو ستر فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکہ،روس،جرمنی فرانس اور چین مل کر اس عرصہ میں اپنی دفاعی پیداوار کی برآمدات میں محض پچھتر فیصد اضافہ کر پائے ہیں ۔۔گزشتہ سال ترکی نے صرف اسلحہ اور دفاعی پیداوار کی برآمدات کے زریعے پونے تین ارب ڈالر کمائے۔۔اور ترکی کے معیار کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اس میں سے سات سو پچاس کروڑ ڈالر کے سازوسامان کا خریدار امریکہ تھا۔۔ترکی کی پانچ دفاعی صنعتی کمپنیاں اس وقت دنیا کی اسی صنعت کی سو بڑی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ ویژن ۲۰۲۳کے تحت ترکی نے صرف دفاعی شعبے میں اپنی برآمدات کا ہدف دس ارب ڈالر رکھا ہے۔۔ دفاع کے شعبے میں ترکی کی خود انحصاری کا یہ عالم ہے کہ اس کی درآمدات(امپورٹ )میں اڑتالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔۔اس وقت ترکی کی دفاعی ضروریات کا فقط پینتیس فیصد حصہ درآمدات (امپورٹ) پر منحصر ہے اور اگلے تین سالوں میں وہ اس میں مزید دس فیصد کمی کرتے ہوئے اپنی دفاعی ضرورت کا پچھتر فیصد حصہ اپنے ملک تیار کر رہے ہوں گے۔۔ وطن عزیز میں جب “سب سے پہلے پاکستان “ کا نعرہ لگانے والے ڈکٹیٹر نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ترکی کی اسلحہ کی ایکسپورٹ اتنی ہی تھی جتنی ہماری آج کے دن ہے۔۔کوئی دو سو کروڑ ڈالر۔۔۔

لیکن وہاں آمریت دم توڑ رہی تھی اور یہاں اس کا عفریت وطن عزیز کو پچھاڑے ہوئے تھا۔۔سو اس عرصے میں وہ ان دو ڈھائی سو کروڑ ڈالر کی دفاعی سازوسامان کی برآمدات کو بڑھا کر پونے تین ارب ڈالر پر لے گئے اور اسی عرصے میں صرف اس شعبے کی برآمدات سے انہوں نے اٹھارہ ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا۔۔دو ہزار دو تک ترکی میں دفاعی پراجیکٹس کی تعداد فقط چھیاسٹھ تھی اور آج ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے چھ سو ساٹھ سے زائد پراجیکٹ چل رہے ہیں۔۔۔اور یہ ساری ترقی کردوں کی عسکریت پسندی اور خطے میں جنگوں اور کشیدگی کے باوجود جاری رہی ۔۔اس ترقی کا اندازہ یوں لگا لیں کہ آج سے اٹھارہ سال پہلے ترکی کی جو مجموعی اسلحہ کی برآمدات (ایکسپورٹ)تھیں آج اس سے زائد مالیت کا ایک سودا سلچوق بیرقتار کی کمپنی کا صرف تیونس کے ساتھ ہوا ہے۔۔ اگلے دو سالوں میں صرف سلچوق کی ڈرون طیاروں اور فضائ کاروں کی برآمدات کا حجم ارب ڈالر سے زائد ہوگا۔۔۔سلچوق بے رقتار سے یاد آیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اسی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تعلیم یافتہ تھیں جہاں سے سلچوق نے ماسٹرز کیا تھا۔۔۔ “یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہوئے لوگ”
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں