کہانی اور ہمارے دکھ – افشاں نوید




مبشر زیدی کی سو لفظوں کی کہانی بہت مشہور ہوئی تھی۔ مختصر تحریر کشش رکھتی ہے مگر مختصر لکھنا مشکل فن ہے !! صبح فیس بک پر دس لفظوں کے ایک تحریری مقابلے کے نتائج نظر سے گزرے ۔ انعام یافتہ جملے کچھ اس طرح کے تھے کہ ……. اب وہ کسی دکاندار سے ٹافی لیتے ہوئے ڈرتی ہے ۔ اس کی لاش کے کنارے چوڑیاں پڑی تھی ۔

کوڑے کے ڈھیر پر اس کی لاش پڑی تھی ۔ وہ مزدوری کرتی ہے اب وہ ماں نہیں باپ ہے۔وہ پیدا ہوا،بیمار ہوا،مرگیا جی نہ سکا ۔ وغیرہ وغیرہ ….. گویا ہمارے حواس اپنے اطراف صرف دکھوں کو دیکھنے پر مجبور ہیں۔ جسمانی بیمار تو صحت مند ہوسکتا ہے مگر من حیث القوم ہماری سوچوں کو بیمار بنایا جارہاہے۔ٹی وی جرم اور مجرم کے دائروں میں قید ہے۔ ہماری سوچیں بھی گروی رکھی جا چکی ہیں ۔ آج آٹھ بجے سے قبل ٹی وی پر جتنی خبریں دیکھیں ان میں بیشتر جرم سے متعلق تھیں۔جرم ہمارے معاشرے سے زیادہ ہوتے ہیں . اکثرمعاشروں میں مگر وہ جرم ، حادثات ، سانحات کو چھپاتے ہیں . ہم عجمان سے شارجہ جارہے تھے۔ سفر کے دوران ایک کئی منزلہ عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری میزبان نے بتایا کہ اس بلڈنگ میں کچھ ماہ قبل آگ لگی تھی۔

میں نے پوچھا کیسے ؟؟ بولیں یہ پتہ نہیں چل سکا کیونکہ یہاں پر میڈیا کو یہ سب دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ جب کہ ہمارے میڈیا کا تو کام ہی مکھیوں کی طرح زخموں اور کوڑے کے ڈھیروں کی تلاش ہے۔ جاپان میں کتنی خودکشیاں ہوتی ہیں ؟ انکا میڈیا لاش کے ساتھ آلہ قتل یا چھت سے لٹکی لاش کبھی نہیں دکھائے گا ۔ ہمارا ذوق اتنا مجروح ہو گیا ہے کہ ہم چھت سے لٹکی لاشوں کو وائرل کرتے ہیں ۔ اپنے مریضوں کی آئی سی یو میں آکسیجن لگی تصاویر فیس بک پر ڈالتے ہیں۔دعا کی درخواست کے ساتھجب سوشل میڈیا نہ تھا تو بیماری ، پریشانی میں گھروں میں آیت کریمہ وغیرہ کی محفلیں ہوتیں ۔ لوگ مساجد اور جائے نمازوں سے جڑ جاتے ۔ اب دعاکی درخواست سوشل میڈیا پر ڈال کر ہم فریضہ منصبی ادا کردیتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے فیس بکی فرینڈز منتظر ہوتے ہیں کہ ادھر دعائے صحت یا مغفرت کی پوسٹ آئی ادھر وہ وضو کو دوڑے ۔۔۔۔

حلقہ احباب کے بیماروں ، حادثوں ، مرحومین کا اب فیس بک سے ہی علم ہوتا ہے ۔ مرحومین کی زندگی کے روشن پہلوئوں کو اجاگر کریں سبق سیکھیں ۔ وہ الگ بات ہے۔ اب رشتہ دار مرحومین کے دیدار فیس بک پر کرانے کی ریت چل پڑی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے دائیں طرف شادیانہ بج رہا ہو اور بائیں طرف سے میت گزر رہی ہو تو ہماری توجہ میت ہی حاصل کرے گی ۔ انسان غم کی طرف متوجہ ہونے کا میلان زیادہ رکھتا ہے ۔ خوشیاں حافظہ سے جلد محو ہوجاتی ہیں اور یوں ہم خوشی خوشی غموں کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں ۔ میڈیا ہماری اسی نفسیاتی کمزوری کو کیش کرا کے ریٹنگ بڑھاتا ہے ۔ چونکہ حادثہ پر ہم چونکتے ہیں ۔ لہذا ہماری توجہ کے حصول کے لیے ہر چند منٹ بعد بریکنگ نیوز ………. جو لامحالہ کوئی بری خبر ہی ہوتی ہے ۔ کیا ہمارے اطراف اچھا کچھ بھی نہیں ؟؟

ہمارے ایک بھائی اکثر اپنی وال پر بتاتے ہیں کہ کیسے کیسے بنجر ریگستانی علاقوں میں نایاب فصلوں کے کامیاب تجربے کررہے ہیں، پاکستانی ڈاکٹرز قابل فخر کارنامے انجام دے رہے ہیں۔میرا بیٹا بتاتا ہے انجنئیرنگ یونیورسٹی کے طلباء کیسی کیسی چیزیں ایجاد کررہے ہیں۔ ہمارے صلاحیت بھرے نوجوان علاقائی کھیلوں میں صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں ۔ حکومت سنجیدگی سے کھیلوں پر توجہ دے تو یہ اولمپک سے تمغے جیت کر آئیں۔ نہ ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے دلچسپی،نہ کرونا کے بعد دنیا کی غذائی تحقیقات سے کچھ لینا دینا ۔ لوگ خلائیں تسخیر کررہے ہیں ہم رویت ہلال کے جھگڑوں میں منہمک ۔ اگر ہم فیصلہ کرلیں کہ اچھائی کو تلاش کریں گے اور پروموٹ کریں گے تو ہمیں بارش میں زمین پر کیچڑ کے علاوہ آسمان پر شفق بھی نظر آئیگی ۔ مغربی ممالک میں جرائم کی شرح ہہت زیادہ ہے مگر وہ دس جملوں کی کہانی میں اپنے مستقبل کے منصوبے اور معاشرے کی “زندگی” دکھائیں گے ۔

اپنی تاریخ اور اسلاف پر فخریہ لکھیں گے ۔ جب کہ ہم چار لوگ جہاں ملتے ہیں سماجی نوحے شروع ہوجاتے ہیں ۔ ہماری سوچیں لفظ بنتی ہیں۔ اچھا سوچ کر جئیں ۔ بیماری کا راگ نہ الاپیں مل کر علاج تلاش کریں ۔ ہم قائد اعظم کے پاکستان کی زندہ قوم ہیں ۔ گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے ………

اپنا تبصرہ بھیجیں