سودا کامیاب رہا ! – عصمت اسامہ




وہ براون گولڈن بالوں اور روشن آنکھوں والا ایک پیارا سا بچہ تھا جو اپنے والدین کے ساتھ قافلے میں کہیں جارہا تھا جب یکایک ڈاکوؤں نے قافلے پہ حملہ کیا اور لوٹ مار کے بعد بچنے والے لوگوں کو بطور غلام آپس میں تقسیم کرلیاجب کوئی انسان دوسرے کو محکوم بناتا ہے تو بھول بیٹھتا ہے کہ کل وہ بھی مکافات عمل کے شکنجے میں ایسے ہی جکڑا جا سکتا ہے .

جیسے آج وہ دوسروں کو جکڑ رہا ہےبہرحال اس پیارے بچے کو روم لے جا کر بیچ دیا گیایہ جس زمانے کا ذکر ہے ،اس وقت غلاموں کی گردنوں میں رسی کے پٹے ڈالے جاتے تھے ،اگر کوئ غلام بھاگ کر راہ نجات تلاش کرتا تو لوگ اس کی گردن کے پٹے سے اسے پہچان لیتے کہ یہ غلام ہے اور اسے پکڑ کر دوبارہ غلام بنالیا جاتایہ بچہ بھی وقت کے جبروستم سہتا ہوا پرورش پاتا رہا ،وہ روزانہ اپنی گردن کی رسی کو رگڑتا رہتا _آخر ایک دن وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا اور رسی توڑ کر بھاگ نکلا _قدرت مہربان تھی،وہ مکہ پہنچا اور وہاں کم سرمائے سے تجارت شروع کردی حتی ‘ کہ رب مہربان نے سونے چاندی کی فراوانی کردی-جب انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا علم ہوا تو وہ ہجرت کے ارادے سے مکہ سے نکلے لیکن کفار نے ان کا راستہ روک لیا اور آخر بڑی مشکل سے اس شرط پہ سودا طے پایا کہ وہ اپنا سارا سامان دے دیں تو جاسکتے ہیں -یہ سامان ان کا سرمایہء حیات تھا لیکن انھوں نے یہ سودا منظور کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے -جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سودے کا علم ہوا تو آپ نے فر مایا کہ تم نے منافع کا سودا کیا !

یہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کی سچی داستان ہے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے حصول کے لئے اپنے مال و اسباب کو نثار کردیا تھا-
یہ سچی داستان ایک معیار ہے ،ایک پیمانہ ہے کہ ہم اپنے رب کی رضا کی خاطر کیا قربانی پیش کر رہے ہیں – کئ برس پہلے کی بات ہے ،ایک کالج کی طالبہ نے اسلامی جمیعت طالبات کو جوائین کیا تو اس پر اقامت دین کی ضرورت و اہمیت واضح ہوئی کہ جب اسلامی نظام آے ء گا تو اکیلی عورت بھی بے خوف و خطر سفر کرسکے گی -لیکن جب وہ طالبہ اپنے کالج کی تحریکی ساتھیوں کے ساتھ مرکز طالبات کا سفر کرتی تو کم و بیش یہ شام تک محیط ہوجاتا اور گھر پہنچتے تک مغرب ہوچکی ہوتی -اس طالبہ کے والد نے پہلے تو بیٹی کو ان سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کی لیکن جب بیٹی میں دین کی خاطر کچھ کرنے کی لگن دیکھی تو اسی مرکز جماعت میں رہائش پذیر ہونے کا فیصلہ کیا -یہ کوئ آسان فیصلہ نہ تھا !جس جگہ اور محلے میں ساری عمر گزاری ہو ،جو گھر محنت مشقت سے پسینہ بہا کے بنایا گیا ہو ،اسے چھوڑ کے ہجرت کرنا یقینا”کٹھن ہوتا ہے لیکن ایک بار یہ فیصلہ کیا تو اللہ نے سکینت اور دل کا اطمینان بھی دے دیا-سب کچھ چھوڑ کے منصورہ میں آبسے ۔۔۔۔

~ جسے چاہا در پہ بلا لیا ،جسے چاہا اپنا بنالیا – یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ،یہ بڑے نصیب کی بات ہے !
زندگی کا آخری حصہ منصورہ کی روح پرور فضا میں گزارا ،جامع مسجد میں نمازیں پڑھنے کو مل گئیں ،رمضان کا ماحول اور تراویح کی ٹھنڈی ہوائیں مل گئیں ،ایک نیک بستی کی صحبت مل گئ -یہیں جان ،جان آفریں کے سپرد کی ،شیخ الحدیث مولانا عبد المالک نے ان کی نماز پڑھائ ،حافظ محمد ادریس صاحب نے خطبہ دیا ،نمازیوں کی سات صفوں نے پیچھے نماز پڑھی ،سر سبز و شاداب قبرستان میں جگہ مل گئ -یہ سطورلکھتے ہوےء میرا دل رب العالمین کے حضور شکر گزاری سے سجدہ ریز ہے کہ وہ اپنے دین کی خاطر کی گئ کوششوں کو کیسے قبول کرتا ہے،کیسے رنگ ہیں اس کی عطا کے ! یہ میرے والد کی داستان_حیات ہے ،جی چاہتا ہے کہ میں ان سے کہوں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں ۔۔۔۔ “ابو جی ،سودا کامیاب رہا !”

اپنا تبصرہ بھیجیں