ماحول کا اثر – ناہید کوثر




پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری حدیث ……..
ترجمہ ، جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو ۔ حیا ایک ڈھال ہے جب تک یہ ڈھال ہمارے پاس ہے ہم بہت سارے گناہوں سے محفوظ ہیں ۔ حیا عورت کا زیور ہے تو مرد کا ہتھیار ہے . حیا ، ہمارے اندر قوت پیدا کرتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حیا ایمان کا حصہ ہے۔

باحیا مرد وعورت معاشرے کا حسن ہیں ۔ میں جب بھی بہنو ، بیٹیوں کو گاؤن میں اور نقاب کیے ہوئے دیکھتی ہوں تو میں اپنے اندر خوشی کی ٹھنڈک محسوس کرتی ہوں اور کسی نوجوان کو نیچی نگاہیں کرکے حیا کے ساتھ چلتے دیکھتی ہوں تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اے اللہ تو ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور ان کے حیا کو ہمیشہ قائم رکھ . اور ان کی حفاظت فرما ۔ اس کے برعکس جب بازاروں میں نوجوان لڑکیوں کو سج سنور کر پھرتے دوکانداروں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے دیکھتی تس دل خونکے آنسو روتا ہے . میرا بس نہیں چلتا کہ میں ایک ایک کو پکڑ کر سمجھاؤں کہ خدارا ! آپ مسلمان ہیں مسمان کا یہ طرز عمل اللہ کے احکام کی کھلی خلاف ورزی ہے . اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دینا ھے لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ سب ان کو بھی پتہ ہے اس میں ان کا اتنا قصور نہیں ہے جتنا ان کی تربیت کرنے والوں کا ہے . وہ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔

بچہ جب پیداہوتا ہے تو بڑی شرم لے کر پیدا ہوتا ہے. پھر اس کا ماحول اسے جیسا چاہتا ہے بنا دیتا ہے۔ مجھے تو افسوس ان لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے جو دین کو سمجھتے ہیں ……… دین کی باتیں کرتے ہیں دین کے داعی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں پھر اپنے بچوں کے کپڑوں کے معاملہ میں انکھیں بند کر لیتے ہیں اگر پردے کی بات ہوتی ہے تو سنی ان سنی کر دیتے ہیں . شادیوں پر تمام حدود پار کر جاتے ہیں نہ پھر اللہ کا لحاظ اور نہ ان کے بندوں کا کوئی لحاظ رکھا جاتا ہے . رشتے داریاں کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہیں لوگ پردے کے معاملہ میں سخت نہ ہوں مجھے کچھ عرصہ پہلے اپنے ملنے والوں کی بیٹی کا رشتہ کروانے کا اتفاق ہوا لڑکے والے بھی میرے ملنے والوں کے رشتے دار تھے لڑکے کے بارے میں ساری تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ لڑکا ماشاءاللہ دین سے بہت قریب ھےاور کسی دین دار گھرانے میں شادی کرنا چاہتا ہے اور اس کے گھر والے بھی سلجھے ھوئے اور گھر کی خواتین بھی با پردہ ہیں۔

اب لڑکی والے بھی ماشاء اللہ دین دار خاندان سے تعلق رکھتے تھے اب میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ لڑکی نقاب نہیں کرتی ۔ پہلی بار جب لڑک والے لڑکی والوں کے گھر آئے تو دونوں خاندان مل کر بہت خوش ہوئے جب لڑکے والے لڑکی پسند کرکے چلے گئے . تو لڑکی ماں نے مجھے کہا کہ ان کی عورتیں تو گاؤن پہنتیں ہیں میری بیٹی تو گاؤن نہں پہنتی وہ گاؤن اور نقاب کے لیے سختی تو نہیں کریں گے . اب میرے لیے ایک مسلہ کھڑا ہوگیا اب میں تو دونوں خاندانوں کو دین کی بنیادپر اکٹھا کر رہی تھی . اللہ تعالی سے دعا کی اور لڑکے کی ماں سے بات کی کہ باجی بیٹی گاؤن نہیں پہنتی بلکہ چادرلیتی ہے آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا انھوں نے خوشدلی سے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ بلکہ ہمیں اسے کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب وہ ہمارے ماحول میں رہے گی تو خود بخود گاؤن کے ساتھ پورا نقاب کرے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ دونوں خاندانوں کو اللہ تعالی نے ملا دی۔

شادی ہو کر لڑکی اپنے گھر چلی گئی . اسے گھر کا ماحول اچھا لگا گھر کی تمام خواتین گھر سے باہر نکلتے ہوئے گاؤن کے ساتھ نقاب پہنتیں آہستہ آہستہ اس نے بھی اپنے آپ کو بدل لیا . گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی پابندی یا سختی نہ تھی بلکہ ان کے عمل اور نرم رویے نے اس کے اندر تبدیلی پیدا کر دی ۔ چار پانچ سال بعد میری اس کے سسرال میں ایک شادی پر اس سے ملاقات ہوئی۔ تو اسے گاؤن میں دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی الحمدللہ ! میں خود سلائی جانتی ہوں جب میری بچیاں بڑی ہوئیں تو میں اپنے ہاتھوں سے ان کو گاؤن سی کر دیے اور انہوں نے شوق سے پہنےان کے ساتھ ساتھ ان کی دوستوں اور اپنی دوستوں کی بچیوں کو بنا کر دئیے مجھے بڑی خوشی ہوتی جب کوئی مجھے کہتا کہ میری بیٹی کے لئے بھی گاؤن سی دو اس لیے کہ اس میں میرے رب کی رضا شامل ہوتی دل میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کا جذبہ ہوتا۔ میری اپنی بہنوں سے التجا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے ماحول کو ایسا بنائیں کہ بچیاں اپنے بچپن ہی سے اللہ کی محبت میں اس حکم کو خوشی خوشی قبول کریں .

ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی ہے۔ کہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے اس کی آیات پر عمل کیا جائے اور اس پر فتن دور میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ رکھا جائے۔ اللہ تعالی قیامت کے دن ہماری کوششوں کی قدر کرے ان شاء اللہ ۔ زبردستی تو ہم کسی راہ راست پر نہں لا سکتے۔ اپنے حصے کی کوشش تو کر سکتے ہیں اللہ تعالی ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور مرتے دم تک اسلام پر ثابت رکھے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں