زندہ قوم – سمیرا غزل




یہ بات بہت پرانی ہے کئی بار کی سنی ہوئی ہے مگر ہے تو حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔ اور اہم بھی تو دوبارہ سن لیجیے کہ تعلیمی نظام کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اسی سے اقوام کا سورج طلوع ہوتا ہے اور اسی سے غروب ہوتا ہے۔ لیکن کرونا آیا تو جیسے بچھے کچھے تعلیمی نظام کا زوال بھی ساتھ لایا اب نہ وہ کلکاریاں ہیں،نہ راہ چلتے لطیفے شطیفے وین میں ہنسی مذاق کرتے بچے دکھائی دیتے ہیں نہ ہی صبح کی سرگوشیاں باقی رہ سکی ہیں ۔

جی ہاں بچے سوگئے ہیں کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام سویا ہوا ہے امکان ہے کہ دی گئی نئی تاریخ پر واقعی جاگ جائے مکمل جاگ جائے ایسا نہ ہوا تو یہ قومی زندگی کا ایک بڑا سانحہ ہوگا۔ ہم زوال کی آخری حد کو چھوتی ہوئی وہ قوم ہیں جس کے عوام ہاتھ بڑھا بڑھا کر کنارے پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت انھیں ڈبونے پر تلی ہے کوئی ایک حکومت، ہر پرانی حکومت، ہر نئ آنے والی حکومت ،مع موجودہ حکومت۔ تعلیم سب کے لیے ایک سیاسی نعرہ ماضی میں بھی اور آج بھی بوقت ضرورت استعمال کر لیا جاتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ ایسے دیس میں جہاں بنیادی اشیائے صرف مہنگی ترین ہوجائیں کہ پیٹ بھرنا مشکل ہوجائے تو وہاں کے عوام کھائیں گے کیا اور پڑھائیں گے کیا۔ پھر ترقی یافتہ معاشرے کی نشانی ہوتی ہے کہ تعلیم کا حصول آسان مفت یا سستا ہوتا ہے اور تعلیمی معیار مہنگا۔ہمارے یہاں الٹا چکر ہے تعلیم کا حصول مشکل اور مہنگا ہے معیار تعلیم سستا اور ناقص ہے۔

ایسے میں عوام اپنے بچوں کو دالوں،سبزیوں،گوشت چینی چاول کی قیمتیں اور پیمائش کے سوا بھلا کیا پڑھاسکتے ہیں جب کہ ملک کی آبادی کا کثیر حصہ غربت کے ٹیوب ویل میں غرارے کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیمی نظام کے ساتھ 73 سالوں سے یہ کھلواڑ کیوں چلا آرہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر تعلیم اتنے زیادہ کوالیفائیڈ ہوتے کہ انھین ہر وقت اپنی ڈگریوں کا ٹائیفائیڈ رہتا ہے جس میں وہ خمار کی کیفیت میں مبتلا ہو کر آیت الکرسی اور سورہ اخلاص بھی بھول جاتے ہیں پتا نہیں ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار بھی سنا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب آپ موجودہ وزیر تعلیم ہی کو دیکھ لیں کہ علمی طور پر جس کا نہ ماضی ہے نہ حال جی ہاں آپ صحیح سمجھے ہیں سعید غنی۔
وہ صرف ایک ہی بات میں غنی ہیں کہ دل بھر کے تعلیمی نظام کو بگاڑ دیا جائے کہ واپس پرانی نہج پر لانا ناممکن ہوجائے۔ اور سعید وہ صرف نالائق طلبا و طالبات کے لیے ہیں کہ جی بھر کر چھٹیاں دے سکیں۔

ان سے پہلوں کا بھی حال کچھ اچھا نہیں ہے میٹر ریڈر تک وطن مسکین میں وزیر تعلیم رہا ہے۔ بس یہ کھلواڑ انھی نوادرات کے صدقے کی عطا ہے۔ دل نادان کی بس اتنی آرزو ہے کہ یہ جو فضا میں بے یقینی سی رچ بس گئ ہے ختم ہوجائے۔یہ جو علم کے پنچھی گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں باہر نکلیں اور علم کے گیت گنگنائیں۔ جتنا بڑا نقصان ہم جھیل گئے ہیں اس کا ازالہ کیا جائے کاش کہ اس بار وعدہ وفا ہوجائے کاش کہ کوئ روڑا اب نہ اٹکایا جائے کاش کہ معمار کے ہاتھ میں کھرا مال دیا جائے مٹی کی ڈھیری نہیں۔ کاش ملک کی قسمت کو تعلیم کے اکسیر تیزاب سے چمکایا جائے۔یقین کیجیے تاریخ شاہد ہے کہ جنگوں میں مبتلا اقوام بھی اپنے تعلیمی نظام کو معطل نہیں کرتی تھیں کہ یہی وہ نظام ہے جو قوم کے مردہ وجود کو جلا بخشتا ہے۔

کاش کہ وعدہ وفا ہوجائے کاش کہ راتوں رات کرونا سے اموات میں اضافہ نہ ہوکاش کہ اس بار کوئ ہیر پھیر نہ ہو۔ کورونا سے مرنے والے شاید اتنے بدقسمت نہ ہوں جتنے ذہنی پسماندگی اور ناخواندگی سے۔ آئیے زندہ قوم بن کر جیئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں