ہم نے کراچی کو جاگتے دیکھا – شہلا خضر




الحمد للہ ………. کراچی حقوق مارچ ……….. گرم تپتی دوپہر اور چمکتے سورج کی زوفشانیوں میں کسی برگ سایۀ دار کی طرح ، کراچی آئٹس ، کے لۓ راحت جان ثابت ہوئی ۔

کئی ماہ سے” کوویڈ” اور کے ۔ ای۔ ایس ۔ سی کی سفاکیت سہنے کے بعد۔۔۔۔” بونس” میں سیلابی تپھیڑوں سے استفادہ حاصل کر نے کے بعد۔۔۔۔ درماندہ ْ بے چارے کراچی عرف” کچراچی “کے باہمت باسیوں نے اپنے حقوق کی بھر پور آواز جماعت اسلامی کی آواز کے ساتھ مل کر اٹھائ اور جماعت اسلامی ” کی پکار پر لبیک کہا ۔۔۔موسم کی سختی اور چھٹی والے روز کی تمام مصروفیات کو بالاۓ طاق رکھ کر نکل آۓ موج در موج اور دیکھنے والے دیکھتےہی رہ گۓ ۔۔انسانوں کا ٹھاٹھے اور ڈھاٹھے باندھتاسمندر دیکھ کر جلنے والوں کا منہ کالا کیا نیلا پیلا بھی ہوگیا ۔۔۔جبھی تو میڈیا کوریج انتہائ کنجوسی سے دی گئ اور اس فقید المثال عوامی مارچ کو وہ اہمیت نہ دی گئ جس کے وہ جائزحقدار تھے ۔۔۔۔حالانکہ عام طور سے دیکھا تو یہ گیا ہے کہ میڈیا کے “باکمال ہنر مند ” کچھ لاڈلی پارٹیوں کی” جلسیوں “کو بھی کیمرہ ٹرکس کے زریعے عظیم الشان حجم کا دکھا دیتے ہیں ۔۔۔”خیر سانوں کی “۔۔۔کووریج وغیرہ تو دنیا داری کی باتیں ہیں ۔۔۔جماعت اسلامی کا پیغام تو حق کا پیغام ہے اور حق کو غالب کرنے کا وعدہ تو پروردگارعالم نے کر رکھا ہے.

اس لیۓ “جماعت اسلام می ” ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجاۓ ہمیشہ عوام کی فلاح اور دین کے غلبے کے لیۓ ہراول دستے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی ۔۔۔۔ اپنے قائدین پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے بچے ْ بوڑھے اور جوان اوران کے سچائ کی روشنی سے چمکتے چہرے ۔۔گرم ترین دوپہر میں بھی طمانیت سے دمک رہے تھے ۔۔۔۔ خواتین اور مردوں کے لیۓ الگ الگ مخصوص حصے تھے۔رضا کاروں نے یکساں پیلے رنگ کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جس کی وجہ سے اس بڑے مجمع میں بھی آسانی سے انہیں پہچان کر مدد لی جا سکتی تھی ۔ ۔نماز عصر کے وقت سرعت کے ساتھ فٹ پاتھوں پر صاف ستھری سفید چادریں بچھا دی گئیں جن پر اطمینان سے سب نے نمازادا کی ۔۔۔۔ تمام بچوں کے لیۓ ان کے من پسند غبارے اور جھنڈے بھی مفت بانٹے جارہےتھے ۔۔۔۔۔

جس نمایاں وصف کے باعث “جماعت اسلامی ” دیگر تمام جماعتوں سے منفرد اور ممتاز ہے وہ ہے کارکنان کی اعلیٰ تربیت اور کردار سازی جس کا مظاہرہ ہمیں ایسے مواقع پر جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔۔باہمت ۔۔پر عظم ۔۔با کردار کارکنان اپنی جماعت کی نمائندگی کا حق بجا طور پر ادا کر رہےتھے ۔۔۔۔۔ مجال ہے جو کسی قسم کا معمولی سا بد تمیزی یا بد نظمی کا کوئ معمولی سا واقعہ ہوا ہو ۔۔۔۔یقین جانیں چند سال پیشتر مجھے اپنے “عمرے” کے وقت مطاف میں لاکھوں افراد کی بھیڑ میں جو چاروں جانب پاکیزگی کے حصار کا احساس ہوا تھا ۔ بلکل ا سی طرح کا تحفظ اور اطمینان جماعت اسلامی کی “کراچی حقوق مارچ “میں محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اتنےسارے مخلص اوردیندار لوگ مل کر نیک نیتی کے ساتھ خدمت کا جزبہ لے کر خالص رضاۓ الہٰی کے جزبے سےسرشاد ہو کر نکل پڑیں تو پھراللہ کی مدد اور نصرت بھی حاصل ہو جاتی ہے ۔۔۔

انشاءاللہ اب کراچی کا استحصال ختم ہونے کاوقت آن پہنچا ہے ۔۔۔ “جماعت اسلامی “کی قیادت کراچی کے مظلوم باسیوں کے تمام دکھوں کا مداوا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔۔۔ آئیۓ آپ بھی اس تلاش “صبح نو” میں ہمارا ساتھ دیجیۓ ۔۔۔۔انشاءاللہ “جماعت اسلامی ” کے ہاتھوں ہی کراچی کی رونقیں اور خوشیاں بحال ہوں گی ۔ بقول شاعر

دل ناامیدتو نہی ۔۔۔۔۔ناکام ہی توہے۔۔
لمبی ہے غم کی شام۔۔۔پرشام ہی تو ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں