اللہ کا پیارا ۔ جمال عبداللہ عثمان




اللہ کا پیارا، اللہ کو پیارا ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبدالغفار عزیز بھائی بھی اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اللہ کا پیارا، اللہ کو پیارا ہوگیا۔ خوبصورت شخصیت کے مالک۔ مخاطب کرنے کے لیے ان کا جملہ صبح سے مسلسل کانوں میں گونج رہا ہے۔ دور سے دیکھ کر پکارتے:

”یا صاحب الجمال!“
سویرے ان کی وفات کا علم ہوا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ان کے ساتھ خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا، لیکن یوں لگا جیسے کوئی بہت قریبی عزیز بچھڑگیا ہو۔ جماعت اسلامی کے پاس کیسے کیسے ہیرے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالغفار عزیز امورِ خارجہ کو دیکھتے۔کسی حکمران جماعت کے پاس ہوتے تو وزیر خارجہ ہوتے اور شاید پاکستان کے بہترین وزرائے خارجہ میں سرفہرست ہوتے۔ گفتگو کرتے تو لگتا الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ہر زبان میں اس عمدہ انداز میں گفتگو کرتے کہ اہلِ زبان عش عش کر اٹھتے۔

اتنی صلاحیتوں کا مالک، کوئی اور ہوتا تو ”کیریر“ میں کہاں سے کہاں نکل چکا ہوتا۔ آج کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا۔ شاندار گھر میں رہتا۔ ممکن ہے پاکستان میں ہی نہ ہوتا، لیکن عبدالغفار عزیز بھائی نے ایک مشن کی خاطر زندگی گزاردی۔ آج ان کا جنازہ منصورہ کے ایک چھوٹے سے فلیٹ سے نکل رہا ہے۔ خدا ان کے درجات بلند فرمائے۔ انہیں اپنی بہترین جنتوں کا مستحق بنائے۔

من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ، فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر، وما بدّلوا تبدیلاً۔

اپنا تبصرہ بھیجیں