آہ ترجمانِ امت! ۔ افشاں نوید




امت مسلمہ کے ترجمان۔۔۔اب ہم تم میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں امیر جماعت ۔۔۔۔۔۔۔ امت مسلمہ کا یہ دھڑکتا دل خاموش ہوگیا ہے آج ۔۔۔۔۔۔۔ وہ قلب منیب رکھتے تھے

اور نفس مطمئنہ لے کر حاضر ہوگئے ہیں ان شاءاللہ۔۔
معاملہ تو دل ہی کا ہے۔ ایک ساتھی بولیں انھیں تو اہل وعیال کے لیے گھر تک بنانے کی فرصت نہ مل سکی کہ نگر نگر کے باسی،امت کا درد دل لیے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ امت کے غم سے نکلتے تو کچھ سوچتے ۔ ہم لاکھوں کروڑوں کر کیا رہے ہیں؟؟ بچوں کے لیے گھر ، ان کا مسقبل ، ان کی اعلیٰ تعلیم،عمدہ رہائش اور یوں ۔۔۔۔۔۔۔ عمر کی نقدی ختم ہوجاتی ہے ۔ ہم جیون ہار دیتے ہیں دنیا سمیٹتے سمیٹتے دنیا ہمارے حصے میں آنی ہی کتنی ہے؟؟

آج عبد الغفار بھائی کا جسد خاکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سے کہہ رہا ہے کہ دل بس وہی دل ہے جو امہ کے درد سے معمور ہو۔ ہم میں سے کچھ کے لیے تو امہ کا تصور ہی دلی دور است ہوگیا ہے۔ وہ امت کا سرمایہ تھے۔ ابھی راحیل قاضی نے آڈیوز شئیر کی ہیں خواتین کے ایک بین الاقوامی گروپ کی۔ عرب خواتین بچوں کی طرح رورہی ہیں کہ ہمارا بھائی ، ہمارا قائد ہم سے بچھڑ گیا۔ ہم اس صدمہ کو کیسے برداشت کریں گی۔ آج ہر وال پر،ہر گروپ میں ان کا تذکرہ , لوگوں نے ڈی پی پر انکی تصویر لگائی ہوئی ہے ۔ کچھ تو کرکے گئے ہیں وہ۔۔۔

صبح ٹی وی کھولا۔۔۔یہ چینلز جو اداکاروں کی رحلت کی خبر سارا دن چلاتے ہیں ان بے چاروں کو پتہ نہیں کہ
یہ صرف جماعت اسلامی کا نقصان نہیں ہے ۔امت اپنے ایک گرانقدر سپوت سے محروم ہوئی ہے ۔ ہر ایک کی زندگی کا ایک استعارہ ہوتا ہے ۔ ان کی زندگی کا استعارہ امت مسلمہ تھی۔ مرکزی شوراؤں میں کبھی وہ حماس کی باتیں کرتے, کبھی حزب المجاہدین کی , دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں سے ان کے قریبی روابط رہے , بعض مسلم دنیا کے حکمرانوں سے بھی وہ کبھی کشمیر کی صورتحال بتاتے تو کبھی حماس کی کامیابی یا ناکامی پر تبصرہ کرتے۔

مرکزی شوری کے اجلاسوں میں ہم سب مسلم امہ کی صورت حال ان کی زبانی جاننے کے لیے بے چین ہوتے۔ کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے عبدالغفار عزیز بھائی سالہاسال سے جماعت اسلامی کے شعبہ امور خارجہ کے نگران تھے۔ اسلامی ملکوں , بین القوامی کانفرنسوں اور مذاکرات میں جاتے چشم دید احوال جو ہم شوری کے اجلاسوں میں ان سے سنتے ۔ ان کو یہ سعادت بھی حاصل رہی کہ ہر سال خطبۀ حج کا انگریزی اور اردو رواں ترجمہ ہیش کرتے۔ ان کی تلاوت اور عربی تلفظ قابل رشک تھا ۔ انکے الفاظ میں سچے جذبے شامل ہوتے۔ کسی نے کہا۔۔ہم ان ہی کو امت مسملہ سمجھتے تھے۔

باخبر دانا و بینا فرد جو سر تا پا تحریک تھا ۔ اللہ رب کریم ان کی لحد کو ماں کی گود جیسا بنادے۔ ان کی تحرہریں, انکی تقریریں , جذبہ جہاد سے سرشار ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پڑھتے رہیں گے, سنتے رہیں گے ۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ نماز جمعہ کی صف اول میں نظر آئیں گے نہ منبر پر , انکی موت ایک زندہ پیغامِ ہے کہ

اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں
آؤ امہ کا غم دل میں بسا لو

وہ دل ہی کیا جو امہ کے درد سے بے نیاز ہو۔ اب کوئی تو ہو جس کے روز شب ، دعائے نیم شبی , جس کے آنسو ،جس کی آھیں،امت کے لیے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں