عالمی یوم اساتذہ اور ہمارے ٹیچرز _ ج۔ا




“بیٹا زندگی میں کچھ باتیں ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔” یہ انکے روز کے جملے تھے جو وہ یاددہانی کے طور پہ ہر کلاس کے آخر میں دہراتے تھے۔

“نماز کبھی کسی حالت میں نہیں چھوڑنا! دوسرا یہ کہ والدین کے ساتھ نرم سلوک رکھنا ہمیشہ! قرآن کو روز ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا چاہے وہ اک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ زبان کو قابو میں رکھنا۔۔۔” وغیرہ وغیرہ ۔ اور بھی بہت سی باتیں وہ دہراتے ہیں۔ اور کون یہ باتیں دہرا کر ہمیں سمجھاتا رہتا تھا، وہ ہیں ہمارے انتہائی قابل احترام ٹیچر۔ “غلطیاں مٹانے کے لئے نہیں، بلکہ شروعات کے لئے ہوتی ہیں۔”

“بچے اس لئے مجھ سے بدتمیزی نہیں کرتے کیونکہ میں ان سے بدتمیزی نہیں کرتا۔” یہ جملے ہمارے ایک دوسرے ٹیچر کی زبان سے ادا ہوکر ہمارے دماغ میں محفوظ ہوگئے تھے۔ اور ایسی بیشمار باتیں یاد ہیں۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجھے اپنے والدین کے بعد سب سے زیادہ عزیز کون ہے تو میں بغیر ایک سیکنڈ کرے بغیر کہونگی میرے ٹیچرز!! اور اس بات میں کوئی شک نہیں۔۔۔ حقیقتاً یہی بات ہے کہ دل میں ٹیچرز کے لئے جو احترام اور محبت ہوتی ہے نا وہ کسی اور کے لئے نہیں، چاہے کوئی بھی ٹیچر ہو، کوئی بھی مضمون پڑھاتی یا پڑھاتا ہو۔ (یہ سارا کمال بھی انہی کا ہے)۔ دل دُکھتا ہے جب بچوں سے انکے ٹیچرز کے لئے برے القابات اور یہاں تک کے گالیاں تک سننے کو ملتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ نہ بچے جانتے ہی صحیح سے نہ ہی پڑھانے والے۔

میرے خیال سے یہاں غلطی بچوں کی نہیں بلکہ پڑھانے والوں کی ہے!(میں بے جا حمایت نہیں کر رہی کسی کی نہ ہی کسی کو برا کہہ رہی ہوں) اور کیا غلطی ہے یہ وہ اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔ فضول کی دھونس جمانا، مارنا پیٹنا، ایک بچے کو سر کا تاج بنانا اور باقیوں کو خاک میں ملانا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری بچوں کی غلطیاں ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا جواب، بلکہ ہر سمجھدار فرد کا جواب ہوگا نہیں۔۔!! (اور اگر اب بھی کوئی ہاں بولے تو اللہ سے اسکے لئے دعائے ہدایت۔) جناب یہ پرانا وقت نہیں ہے جب بچے مار سے سدھر جاتے تھے۔۔ اب انکو ہینڈل کرنے کا طریقہ بدل گیا ہے تو آپ بھی ذرا بدل جائیں اور رحم کریں بچوں پر!!

مزے کی بات بتاؤں تو مجھے بھی ایک ایسی ہی ٹیچر ملیں جنکی چاہ کے بھی میں دل سے عزت نہیں کرپائی کبھی۔ انکا مسئلہ بھی یہی سب تھا جو اوپر بتا چکی ہوں میں اور یہی وجہ تھی کہ بچے جو انہیں کہتے تھے وہ یہاں میں بیان نہیں کرسکتی۔۔ افسوس! “ایک اچھے ٹیچر کی چار باتیں ہیں۔۔۔

صرف کورس ہی اچھا نہیں پڑھاتا بلکہ ساتھ ساتھ ملک و دنیا کے حالات سے بھی باخبر رکھتا ہے۔ اسکی اچھائیاں واضح ہوں اور اسکے پیچھے ڈسکس کی جائیں۔” یہ جملے میرے ہی ٹیچر کے ہیں جن پر وہ پورا اترے ہمیشہ اور اپنے بچوں کو اپنے لئے صدقہ جاریہ بنا گئے۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے خراب کر رہے ہیں کیونکہ اکثریت اساتذہ کی ایسی ہے جو by choice نہیں بلکہ by chance اس شعبہ میں آئے ہیں۔ دل سے پڑھانے والے بہت کم ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ایک اہم شعبہ پستی کی طرف جارہا ہے۔ بلاشبہ ٹیچنگ ایک مشکل چیز ہے اگر دل سے نہ کی جائے!

بہرحال! ہمیں اس چیز کو بدلنا ہوگا اور روایتی انداز سے پڑھانے کو ختم کرنا ہوگا۔ کورس ہی سب کچھ نہیں ہوتا یہ بات یاد رکھیں! کیونکہ کورس کی کتابیں صحیح معنوں میں تعلیم فراہم نہیں کرتیں۔۔!! بچوں کی نفسیات کو سمجھیں اور فیورٹ ازم کو ختم کریں۔ بے جا سختی سے احتیاط برتیں تو بہتر ہوگا سب کے لئے۔۔۔

ہمارے تو دین میں اس شعبہ کے بہت اہمیت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ “انا بعثت معلما” یعنی میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں! اور یہ کوئی عام بات نہیں کہ نبی کو ٹیچر کہا گیا۔ بھاری ذمہ داری ہے جسکا اجر بھی اتنا ہی ہے اور اگر کوتاہی کی تو گناہ بھی کیونکہ اگر بچے والدین کے بعد کسی کا اثر قبول کرتے ہیں تو وہ ٹیچرز ہیں۔۔!! خیر۔۔۔ بہت باتیں ہوگئیں تو بس آخر میں یہ کہ۔۔۔ زندگی کو بھی یوم اساتذہ مبارک ہو کیونکہ جو اسباق زندگی اور گزرتا وقت پڑھاتا ہے، وہ کوئی ٹیچر اور کتاب نہیں پڑھا سکتی!

“اس عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر میرے ٹیچرز کو سلام اور انکے لئے بہت سی دعائیں۔ خوش رہیں اور تمام ٹیچرز کے لئے نیک تمنائیں “

اپنا تبصرہ بھیجیں