میڈیا آزاد ہے! – شہباز حفیظ




کچھ عرصہ قبل میں لاہور کے پوش ایریا میں Selected Audience کے ساتھ بڑی شخصیات کی ایک تقریب میں مدعو تھا ۔ مقررہ وقت پر وہاں پہنچ گیا لیکن بدقسمتی سے میں سب سے پہلے حاضر ہونے والوں میں سے تھا۔ خوش قسمتی سے میرے بعد ایک اور شخصیت داخل ہوئی۔

حُلیے سے مجھے لگا کہ شائد وہ یہاں ویٹر ہیں لیکن بکھرے بال ، بڑی اور بل کھاتی مونچھیں میرے ذہن میں ان کے پروفیشن کے تعین کیلئے پیچیدگی پیدا کر رہی تھیں۔ بہرحال وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی مہارت کے ذریعے مجھے کھنگالنا شروع کیا۔ میری سوچ اور خیالات کو کھرچ کھرچ کر سامنے پڑے شفاف پانی کے جگ کی طرح ٹیبل پر رکھ دیا۔ انہوں نے میرا نمبر لیا اور کہا کہ وہ میرے ساتھ مزید کچھ میٹنگز رکھنا چاہتے ہیں ۔ اپنے کچھ کارڈز اور تصاویر دکھائیں، جن سے معلوم ہوا کہ وہ ملک کے ایک معروف ٹی وی چینل پر پرائم ٹائم پر چلنے والے پروگرام کے پروڈیوسر ہیں ۔ مارک زکربرگ سے مدد لی تو اثبات میں جواب ملا۔ پھر میزبان کی آمد کے بعد اس نے دستیاب الفاظ کے ساتھ فراخ دلی سے ان کا تعارف کرایا جس سے ہمارے تمام گمان یقین کی منزل طے کر گئے۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام میں شریک ہونے کی دعوت بھی دی، لیکن ساتھ میڈیا کے کچھ ایسے حقائق بتائے جن سے میرے رونگٹے تقریباً کھڑے ہوگئے۔

اس دن کے بعد میں نے اس پر کچھ مزید غور کرنا شروع کردیا۔ کچھ عرصہ قبل امجد اسلام امجد صاحب کے ساتھ نشست ہوئی۔ انہوں نے انتہائی دکھ کے ساتھ بتایا کہ میڈیا نے جب سے ہماری اپنی اقدار کا قتل شروع کیا، اور مجھ سے بھی ایسا ہی غیراخلاقی مواد لکھنے کی ڈیمانڈ کی تو میں نے ڈرامہ نگاری کو خیر آباد کہہ دیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کسی دور میں بھابھی کا رشتہ بڑی بہن یا ماں کی طرح ہوتا تھا۔ لیکن جب سے میڈیا پہ بھابھی دیور کے چکر دکھانا شروع ہوئے ہیں، آج حقیقت میں بھی بھابھی اور دیور کے ناجائز تعلقات ہزاروں کی تعداد میں سامنے آرہے ہیں۔ اور اب نیٹ پر ایک مقدس رشتہ یعنی “بھابھی” صرف فحاشی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔
میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کروں تو اگر اس ملک میں کوئی سیاسی یا مذہبی کمپین چل رہی ہو، یا کسی بڑے اسکینڈل کا دور دورہ ہو تو 95 فیصد عوام کی رائے وہی ہوتی ہے جو میڈیا بیان کر رہا ہوتا ہے۔

باقی 5 فیصد Intellectuals چیختے چلاتے بھی رہیں تو وہ اپنی چنگھاڑ میں سماعتوں سے ٹکرانے کی قوت پیدا نہیں کر سکتے۔ ان دو مثالوں سے میڈیا کے اثرات کے متعلق چند حقائق واضح ہو کر سامنے آتے ہیں کہ

1- عوام وہ بولتے ہیں… جو میڈیا چاہتا ہے۔
2- عوام وہ دیکھتے ہیں… جو میڈیا چاہتا ہے۔
3- عوام وہ سوچتے ہیں… جو میڈیا چاہتا ہے۔
4- اور میڈیا ہی عوام کا Belief System ڈیویلوپ کرتا ہے۔

ہم میڈیا پہ ہر بھیانک جرم یا نیچ حرکت کی خبر کے ساتھ سنتے ہیں کہ دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں چاند تک پہنچ گئی مگر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس کو ہماری بنیاد پرستی یا اسلام کی قدامت پسندی سے جوڑ کر conclude کردیا جاتا ہے۔ اب میں پوسٹ پر پوچھے گئے سوال کے رزلٹ کی طرف آتا ہوں۔

کُل کمنٹس: 160
جو اس بچے کو جانتے تھے: 15
جو نہیں جانتے تھے: 145
جاننے والے صرف وہ لوگ تھے جو ٹریننگ کی فیلڈ سے وابستہ ہیں یا ایونٹس کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔
اب میں بچے کے تعارف کی طرف آتا ہوں۔

اس بچے کا نام محمد حزیر اعوان ہے۔ یہ وہ بچہ ہے جو ساڑھے 8 سال کی عمر میں دنیا کا کم عمر ترین ICDL/ECDL آئی ٹی سیکیورٹی سرٹیفائیڈ تھا۔ یعنی اس بچے نے ارفع کریم کا ریکارڈ بریک کیا تھا۔ سات سال کی عمر میں MCITP سرٹیفائیڈ پروفیشنل تھا۔ اور سات سال کی عمر میں ہی مائیکروسافٹ میں مزید 6 انٹرنیشنل سرٹیفیکیشنز تھیں، جن کی تفصیلات میرے پاس موجود ہیں لیکن اختصار کی وجہ سے یہاں نہیں لکھ رہا۔ چیف منسٹر یوتھ موبیلازیشن کمیٹی کی طرف سے National Icon کا ایوارڈ دیا گیا۔ اسے UNICEF کی طرف سے یونیسیف اڈول سینس چیمپیئن کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مزید تقریباً 10 ایوارڈ اور اعزازات ایسے ہیں جو گورنمنٹ کی طرف سے دیئے گئے، میرے پاس تفصیلات موجود ہیں لیکن طوالت کے باعث لکھ نہیں رہا۔ درجن سے زائد پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیز کی فہرست میرے پاس موجود ہے جہاں یہ لیکچرز دے چکے ہیں۔ حزیر نے بتایا کہ یونیورسٹیز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ ڈاکومنٹ پرانا بنا ہوا ہے اس لیے اس میں اتنی ہی درج ہیں . تقریباً 7 روبوٹکس کے پروجیکٹ مکمل کرچکے ہیں۔ جن کی مختلف مواقع پر Exhibition بھی ہوچکی ہے۔

لیکن میری پوسٹ پر اس سروے کے مطابق 93 فیصد لوگ حزیر کو نہیں جانتے۔ کیوں؟؟؟؟ کیونکہ میڈیا پر حزیر کو اتنی سی کوریج بھی نہیں ملی جتنی حریم شاہ اور احمد شاہ (پٹھان بچہ) جیسے سٹارز کو ملی ہے۔ حزیر اعوان میڈیا کی ضرورت نہیں ہے۔ میڈیا کی ضرورت حریم شاہ، ناصر خان جان، نمرہ علی اور بدتمیزی جیسا ٹیلنٹ شو کرکے رینٹنگ دینے والے بچے ہیں۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا ورنہ حریم شاہ اور احمد شاہ جیسے سٹارز کی تصویریں لگا کر ان کے بارے میں پوچھتا، یقیناً 100% لوگ جاننے والے ہوتے۔ کیونکہ یہی ٹیلنٹ اِس میڈیا کی ضرورت ہے جو بند کمرے میں بیٹھ کر یہ تجزیے کرتا ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی مگر پاکستانی اور مسلمان زوال کا شکار ہیں۔ میڈیا بتائے کہ کیا نمرہ علی کی چیخیں مارتے ہوئے انٹرٹین کرنے کی ویڈیوز سے ہم چاند پر پہنچیں گے؟ یا ناصر خان جان کا برہنہ جسم اس قوم کو مریخ کی سیر کرائے گا؟ یا حریم شاہ کی نازیبا ویڈیوز سے پاکستان آئی ٹی کا Hub بنے گا؟

حزیر سے رات کو بات ہوئی تھی، جس میں اس نے ایسے تجربات شیئر کیے ہیں جو میں احتیاطاً یہاں شیئر نہیں کر رہا۔ ٹی وی چینلز نے کس طرح اس کا وقت ضائع کیا، کیا کیا کہہ کر اس کے پروگرام ریکارڈ کیے اور انہیں کن ناجائز مقاصد کیلئے استعمال کیا….. یہ سب میرے لیے بھیانک تھا۔ لیکن ابھی تک اس ملک میں یہ کہا جا رہا ہے کہ “میڈیا آزاد نہیں ہے”۔ حل صرف ایک ہی ہے کہ اب نوجوان قوتِ اختیاری حاصل کرکے اس ملک کو اس کے اپنے نظریے اور اس کی فلاسفی کے مطابق چلائیں ۔ ان تمام اشرافیہ کے مفادات آپس میں جُڑے ہوئے ہیں۔ یہ اپنے سرمائے کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا ورنہ آنے والے چند سالوں میں ہماری اولاد تو ہمارے گھر میں آرام کر رہی ہوگی، مگر اس کے دماغ کا ریموٹ ان قوتوں کے پاس ہوگا جن کے بارے میں آپ آج سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ پاک وطنِ عزیز اور ہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں